Wednesday , January 24 2018
Home / شہر کی خبریں / ’’ہریش راؤ کو 107 اور 170 کے فرق کی تمیز نہیں‘‘

’’ہریش راؤ کو 107 اور 170 کے فرق کی تمیز نہیں‘‘

پانی اور برقی کے مسئلہ پر روزآنہ’’ نئے سیریلس‘‘ بند کرنے پرکالہ پربھاکر کا مشورہ

پانی اور برقی کے مسئلہ پر روزآنہ’’ نئے سیریلس‘‘ بند کرنے پرکالہ پربھاکر کا مشورہ

حیدرآباد۔27اکٹوبر ( سیاست نیوز) حکومت آندھراپردیش کے مشیر ذرائع ابلاغ مسٹر پرکالا پربھاکر نے وزیر بڑی آبپاشی حکومت تلنگانہ مسٹر ٹی ہریش راؤ کی جانب سے جی اوز کے نام پر تلگو عوام کو غلط باور کروانے کے طرز عمل پر اپنی شدید برہمی کا اظہار کیا اور ہر روز کے نئے سیریلس کو فی الفور روک دینے کا وزیر موصوف کو مشورہ دیا ۔ انہوں نے دریافت کیا کہ آیا مسٹر ہریش راؤ کو جی او نمبر 107 اور جی او نمبر 170میں پائے جانے والے فرق کا پتہ نہیں ہے جبکہ حقیقت یہ ہیکہ جی او نمبر 170 میں معمولی ترمیم کرتے ہوئے جی او نمبر 233 جاری کیا گیا ‘ اس نئے جی او 233جاری کیا گیا ۔ اس نئے جی او 233کا جی او نمبر 107سے کوئی تعلق نہیں ہے اور ایسا معلوم ہوتا ہیکہ مسٹر ہریش راؤ نے جی اوز کا مطالعہ ہی نہیں کیا اور من مانی انداز میں حکومت آندھراپدیش کو ہر معاملہ میں مورد الزام ٹہرانا ہی ان کا روزمرہ کا طریقہ کار بن چکا ہے ۔ پردیش سکریٹریٹ آج شام وزیر بڑی آبپاشی حکومت آندھراپردیش مسٹر ڈی اوما مہیشور راؤ کے ساتھ اخباری نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے مسٹر پی پربھاکر نے کہا کہ جی او نمبر 233 میں 834فٹ سطح آب پائی جانے تک برقی پیداوار کئے جانے کا کہیں بھی تذکرہ نہیں ہے لیکن زبردستی جی او نمبر 233 کا حوالہ دیتے ہوئے تلنگانہ عوام کو غلط باور کروانے کیلئے کوشاں ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ دراصل جی او نمبر 69 پر بہرصورت عمل آوری کرنے کیلئے جی او نمبر 233 جاری کیا گیا ۔ انہوں نے اس موقع پر ہر ایک جی او کی مکمل تفصیلات سے اخباری نمائندوں کو واقف کروایا اور کہا کہ تلنگانہ کے وزراء کو چاہیئے کہ کم از کم اب تو اپنی جھوٹ پر مبنی بیانات دینے سے باز آئیں ۔ انہوں نے مزید کہا کہ حکومت تلنگانہ اپنی نااہلی کے باعث پانی کا بہتر و صحیح استعمال نہ کر کے غلط و بے بنیاد الزامات حکومت آندھراپردیش بالخصوص چیف منسٹر مسٹر این چندرا بابو نائیڈو پر عائد کرنا کوئی مناسب بات نہیں ہے ۔ مشیر ذرائع ابلاغ برائے حکومت آندھراپردیش نے تلنگانہ حکومت کے مختلف وزراء کے حکومت آندھراپردیش کے خلاف دیئے جانے والے بیانات کو ’’ جھوٹ کا پلندہ ‘‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس طرح کے جھوٹ پر مبنی بیانات پر تلگودیشم اب یقین کرنے والے نہیں ہیں ۔

TOPPOPULARRECENT