Tuesday , September 25 2018
Home / Top Stories / ’’ہمارا کام ہندو سماج کا اتحاد ہے‘‘: موہن بھاگوت

’’ہمارا کام ہندو سماج کا اتحاد ہے‘‘: موہن بھاگوت

کانپور۔ 15؍فروری (سیاست ڈاٹ کام)۔ آر ایس ایس کے سرسنچالک موہن بھاگوت نے یہ ادعا کیا کہ اب وقت آگیا ہے جب کہ پورا سماج آر ایس ایس چاہتا ہے اور اس سے توقعات وابستہ کرتا ہے۔ انھوں نے کہا کہ ہمارا کام ہندو سماج کو متحد کرنا ہے اور یہ کام تقریروں کے ذریعہ نہیں ہوسکتا۔ انھوں نے کہا کہ اب وقت آگیا ہے کہ پورا سماج آر ایس ایس سے جو توقعات وا

کانپور۔ 15؍فروری (سیاست ڈاٹ کام)۔ آر ایس ایس کے سرسنچالک موہن بھاگوت نے یہ ادعا کیا کہ اب وقت آگیا ہے جب کہ پورا سماج آر ایس ایس چاہتا ہے اور اس سے توقعات وابستہ کرتا ہے۔ انھوں نے کہا کہ ہمارا کام ہندو سماج کو متحد کرنا ہے اور یہ کام تقریروں کے ذریعہ نہیں ہوسکتا۔ انھوں نے کہا کہ اب وقت آگیا ہے کہ پورا سماج آر ایس ایس سے جو توقعات وابستہ کئے ہوئے ہیں، اس کی تکمیل کی جائے اور تنظیم کی توسیع کی جائے۔ انھوں نے کہا کہ آر ایس ایس کا کام ہندو سماج کو بے خوف، خود مکتفی اور بے غرض بنانا ہے۔ ایک ایسا سماج بنانا ہے جس میں ملک کے لئے زندہ رہنے اور اسی کے لئے مرنے کا جذبہ ہو۔ انھوں نے کہا کہ اس پر عمل کیا جانا چاہئے۔ آر ایس ایس کی شاخ کا کیا مطلب ہے؟ ہم متحد ہوتے ہیں اور باقی تمام باتیں بھول جاتے ہیں، صرف بھگوا پرچم ہمارے سامنے ہوتا ہے اور یہ ہماری فخر کی علامت ہے۔ موہن بھاگوت نے کہا کہ اکثر لفظ ’طاقت کا اظہار‘ منظر عام پر آتا ہے۔

جب بھی ہم ایسے پروگرام منعقد کرتے ہیں، کہا جاتا ہے کہ یہ آر ایس ایس کی طاقت کا مظاہرہ ہے۔ جو لوگ طاقت کو ضروری نہیں سمجھتے، وہ اس کا مظاہرہ کرتے ہیں۔ ہمیں ایسا کرنے کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔ ہماری اپنی طاقت موجود ہے۔ آر ایس ایس اسی طاقت کے بل بوتے پر پیشرفت کرتی ہے۔ یہ ہمارا ’آتما درشن‘ ہے۔ انھوں نے کہا کہ تاریخ ہم میں سے ہر ایک کے پیچھے نہیں ہے۔ مٹھی بھر افراد نے ہمیں غلام بنالیا تھا۔ گزشتہ دستور ساز اسمبلی میں ڈاکٹر (بی آر) امبیڈکر نے کہا تھا کہ ملک ہر چیز سے پیچھے ہے، لیکن بعض لوگوں کی خود غرضی کی وجہ سے ملک کو چاندی کی طشتری میں رکھ کر برطانیوں کو پیش کردیا گیا تھا۔ جب تک ہم اخوت پر عمل نہیں کریں گے، خطرہ جاری رہے گا۔ آر ایس ایس قائد نے کہا کہ ہمارے نظریہ میں کوئی نئی بات نہیں ہے۔ ملک میں زیادہ تنوع نہیں ہے۔ زبان، ذات پات اور علاقائی اختلافات کے سوائے ہم سب بھارت کو اپنی ماں سمجھتے ہیں۔

Top Stories

TOPPOPULARRECENT