Wednesday , June 20 2018
Home / شہر کی خبریں / ’’ آندھرائی سازشیں ناکام بنانے سیاست میں برقرار ہوں ‘‘

’’ آندھرائی سازشیں ناکام بنانے سیاست میں برقرار ہوں ‘‘

تلنگانہ کے قیام کے ساتھ ہی سرگرم سیاست سے سبکدوش ہوجانا چاہتا تھا : کے سی آر کا جذباتی خطاب

تلنگانہ کے قیام کے ساتھ ہی سرگرم سیاست سے سبکدوش ہوجانا چاہتا تھا : کے سی آر کا جذباتی خطاب
حیدرآباد ۔ 15 ۔ نومبر : ( پی ٹی آئی ) : تلنگانہ کے چیف منسٹر کلواکنٹلہ چندر شیکھر راؤ ( کے سی آر ) نے آج کہا کہ علحدہ ریاست کے وجود میں آنے کے بعد وہ سرگرم سیاست سے سبکدوش ہوجانا چاہتے تھے لیکن ’’آندھرائی طاقتوں کو ناکام بناتے ہوئے نومولود ریاست کو بچانے کے لیے انہوں نے (سرگرم سیاست میں ) برقرار رہنے کا فیصلہ کیا ۔ چیف منسٹر کے دفتر سے آج رات جاری کردہ اعلامیہ کے مطابق مسٹر راؤ حیدرآباد میٹرو ریل سے متعلق ایک جائزہ اجلاس سے ’جذباتی خطاب ‘ کررہے تھے جہاں انہوں نے کہا کہ علحدہ ریاست تلنگانہ کا خواب 10 سال قبل ہی حقیقت میں تبدیل ہوسکتا تھا بشرطیکہ وہ حیدرآباد کے بغیر نئی ریاست کو قبول کرلیتے تھے لیکن انہوں نے ایسا نہیں کیا ۔ بیان میں کے سی آر کے حوالہ سے مزید کہا گیا کہ ’’ میں آندھرائی قوتوں کی سازشیں جانتا تھا ۔ وہ چاہتے تھے کہ ہمیں حیدرآباد نہ ملے ۔ حکومت ہند بہت پہلے ہی ہمارا مطالبہ قبول کرنے تیار ہوچکی تھی لیکن … حیدرآباد کے بغیر … تاہم ، ہم نے حیدرآباد کی شمولیت کے ساتھ تلنگانہ کا مطالبہ کیا تھا … ‘‘ ۔ کے سی آر نے کہا کہ ’’ میں چاہتا تھا کہ علحدہ ریاست تلنگانہ کے قیام کے ساتھ ہی میں سرگرم سیاست سے ریٹائر ہوجانا چاہتا تھا ۔ لیکن میں نے آندھرائی سازشوں اور کھلواڑ پر مبنی منصوبوں کوناکام بنانے کی ضرورت محسوس کرچکا تھا ۔ چنانچہ سیاست میں بدستور برقرار رہنے کا فیصلہ کیا ۔ یہی ایک وجہ بھی تھی کہ میں نے چیف منسٹر کی حیثیت سے ذمہ داری سنبھالنا چاہا ‘‘ ۔ ان کایہ بیان دراصل کسی دلت کو نئی ریاست کا چیف منسٹر بنانے کے وعدہ سے منحرف ہوجانے پر مختلف گوشوں سے کی جانے والی تنقیدوں کا ازالہ کرنے کی سعی کے طور پر دیکھا جارہا ہے ۔ کے سی آر نے کہا کہ ’’ میں حیدرآباد اور سارے تلنگانہ کو ملک بھر میں پہلے مقام پر پہونچانے کے لیے سیاست میں بدستور برقرار ہوں ‘‘ ۔۔

TOPPOPULARRECENT