Saturday , December 15 2018

’’ این ڈی اے کو تقریباً 200نشستیں مل سکتی ہیں‘‘

ملک اور ریاست میں مخلوط حکومت، آندھرا میں جگن کی حکومت ہوگی قومی مباحثہ میں عامر علی خاں کا اظہارخیال

ملک اور ریاست میں مخلوط حکومت، آندھرا میں جگن کی حکومت ہوگی
قومی مباحثہ میں عامر علی خاں کا اظہارخیال
نئی دہلی۔/16اپریل، ( سیاست نیوز) ملک میں اس بات کا ہوّا کھڑا کیا گیا ہے کہ مودی کی لہر ہے لیکن ایسا ہرگز نہیں ہے۔ عام انتخابات میں بی جے پی قائدین این ڈی اے کو 300 سے زائد نشستوں پر کامیابی حاصل ہونے کے امکانات ظاہر کررہے ہیں لیکن حقیقت میں بی جے پی160-170 نشستیں ہی حاصل کرپائے گی، جبکہ اس کی حلیف جماعتوں کو 15-20 نشستیں حاصل ہوں گی۔ اس طرح این ڈی اے زیادہ سے زیادہ 200نشستوں کے نشانہ تک ہی پہنچ سکتی ہے۔ ان خیالات کا اظہار ملک کے معاشی، سیاسی اور تہذیبی و صحافتی اُمور کے ماہرین کی ایک قومی تنظیم کے زیر اہتمام مباحث میں حصہ لیتے ہوئے نیوز ایڈیٹر ’سیاست‘ جناب عامر علی خاں نے کیا۔

اس مباحثہ میں ممبئی، دہلی، حیدرآباد اور پٹنہ سے تعلق رکھنے والے ماہرین تعلیم ، صحافی اور دانشوروں نے حصہ لیا جن میں ’ دینک جاگرن ‘ کے سابق بیورو چیف اور ’ دینک بھاسکر‘ کے موجودہ ایڈیٹر انشومن تیواری، پروفیسر سنجے کمار (بہار) ، سوربھ مکرجی( ممبئی )نے حصہ لیا۔ ٹیلی کانفرنسنگ کے ذریعہ کئے گئے اس مباحثہ میں حصہ لینے والے تمام ماہرین نے بی جے پی کو 200-220 نشستیں حاصل ہونے کی پیش قیاسی کی۔ اس مباحثہ کا موضوع’’ اوپینین پول، کہاں تک صحیح کہاں تک غلط ‘‘ رکھا گیا تھا۔

جناب عامر علی خاں ، انشومن تیواری، پروفیسر ڈاکٹر سنجے کمار کے علاوہ سوربھ مکرجی نے اس خیال کا اظہار کیا کہ فی الوقت ملک میں جو بھی اوپنین پولس کئے جارہے ہیں اسے بڑھا چڑھا کر پیش کیا جارہا ہے حالانکہ زمینی حقائق کچھ اور ہی ہیں۔ جہاں عامر علی خاں نے بی جے پی کی زیر قیادت این ڈی کو زائد از 200نشستیں حاصل ہونے کی پیش قیاسی کی وہیں انشومن تیواری کا کہنا ہے کہ این ڈی اے اتحاد 220 نشستوں سے زیادہ نشستیں حاصل نہیں کرسکے گا۔ ڈاکٹر سنجے کمارکا کہنا تھا کہ اوپنین پولس میں جو اعداد و شمار پیش کئے جارہے ہیں ان کا درست ثابت ہونا ضروری نہیں ہے، اس کے باوجود فی الوقت قومی سطح پر کون کتنی نشستیں حاصل کرے گا یہ بتانے کے موقف میں نہیں، اس کے لئے پارلیمانی حلقوں میں عوام کی رائے جاننا ضروری ہوتا ہے۔ (سلسلہ صفحہ 10 پر)
صرف لوگوں سے بات چیت کی بنیاد پر قطعی رائے نہیں دی جاسکتی۔لیکن وہ چونکہ بہار سے تعلق رکھتے ہیں ایسے میں یہ بتاسکتے ہیں کہ بی جے پی ۔ ایل جے پی اتحاد کو 20-24 نشستیں حاصل ہوسکتی ہیں لیکن اس کو حاصل ہونے والے ووٹوں کے فیصد میں 3تا5 فیصد کمی آئے گی۔ گذشتہ عام انتخابات میں بی جے پی۔ جنتا دل ( یو ) اتحاد نے 3فیصد ووٹ اور 32 نشستیں حاصل کئے تھے لیکن اب کی بار بہار میں بی جے پی کو اچھا خاصا نقصان ہونے والا ہے۔انہوں نے یہ بھی کہا کہ بی جے پی اور اس کی حلیف جماعتوں کے بارے میں میڈیا میں خاص کر بہار کے تعلق سے جو رپورٹس شائع ہورہی ہیں اور بی جے پی کو زیادہ نشستیںحاصل ہونے کی پیش قیاسیاں کی جارہی ہیں وہ زرخرید میڈیا کی خوش فہمی ہے۔ کیونکہ نہ صرف بہار بلکہ سارے ملک میں امیدوار کی شخصیت، مقامی مسائل، مہنگائی اور روزگار کے ساتھ ساتھ بہتر حکمرانی کی بنیاد پر انتخابات لڑے جارہے ہیں۔ اقلیتی رائے دہندوں کی اہمیت سے متعلق ان ماہرین کا کہنا تھا کہ اقلیتی ووٹ کانگریس، سماج وادی پارٹی، بی ایس پی، جنتا دل ( یو )، ترنمول کانگریس اور دیگر جماعتوں میں تقسیم ہوں گے جس سے بی جے پی کو فائدہ ہوگا۔ اقلیتی رائے دہندے کدھر جائیں گے ؟ اس سوال پر عامر علی خاں نے کہا کہ یو پی، بہار، مغربی بنگال اور جنوبی ہند کی دیگر ریاستوں میں اقلیتیں اپنے ووٹ کا استعمال سمجھداری اور اتحاد و اتفاق کے ذریعہ کرتی ہیں، بی جے پی کو بہت زیادہ نقصان ہوگا۔یو پی میں جہاں 80 پارلیمانی نشستیں ہیں بی جے پی 30 سے زائد حلقوں میں کامیابی حاصل نہیں کرپائے گی۔ اس کے برعکس انشومن تیواری کے خیال میں اُتر پردیش جیسی ہندوستان کی سب سے بڑی ریاست یو پی میں بی جے پی کو 30-35 حلقوں میں کامیابی مل سکتی ہے ۔ سوربھ مکرجی کا کہنا تھا کہ ان انتخابات میں مختلف سیاسی جماعتوں کی خفیہ معاملتیں بھی اہم رول ادا کریں گی کیونکہ طاقتور پارٹیوں کی جانب ہر کوئی اتحاد کیلئے ہاتھ بڑھا رہا ہے۔جناب عامر علی خاں کے خیال میں تلنگانہ میں معلق اسمبلی وجود میںآئے گی۔ تلگودیشم ۔ بی جے پی اتحاد کو صرف 3-5 نشستیں حاصل ہوں گی۔ جہاں تک اسمبلی انتخابات کا سوال ہے تلنگانہ میں کانگریس کو سب سے زیادہ 45، ٹی آر ایس کو 40 نشستیں حاصل ہونے کا امکان ہے لیکن مخلوط حکومت ہی وجود میں آئے گی۔انہوں نے مباحثہ میں تلنگانہ میں بی جے پی۔ تلگودیشم اتحاد کو حاصل ہونے والی امکانی نشستوں میں کہا کہ اس اتحاد کو تقریباً 10تا15نشستیں حاصل ہوسکتی ہیں۔ اسی طرح آندھرا میں جگن موہن ریڈی کی پارٹی معمولی اکثریت حاصل کرتے ہوئے حکومت تشکیل دینے کے موقف میں ہوگی۔ ایک اور سوال پر عامر علی خاں نے کہا کہ حکومتیں جتنی کمزور ہوں گی کمزور اقلیتوں اور دلتوں کا اتنا ہی زیادہ فائدہ ہوگا۔

TOPPOPULARRECENT