Sunday , January 21 2018
Home / Top Stories / ’’ صدر جمہوریہ سے آندھرا پردیش کو متحدرکھنے کی توقع‘‘ : چیف منسٹر

’’ صدر جمہوریہ سے آندھرا پردیش کو متحدرکھنے کی توقع‘‘ : چیف منسٹر

ریاست کے عوام کی اکثریتی رائے اور امنگوں کو نظرانداز نہیں کیا جاسکتا، سیما آندھرا قائدین کے ساتھ پرنب مکرجی کو یادداشت کی پیشکشی

ریاست کے عوام کی اکثریتی رائے اور امنگوں کو نظرانداز نہیں کیا جاسکتا، سیما آندھرا قائدین کے ساتھ پرنب مکرجی کو یادداشت کی پیشکشی

نئی دہلی۔/5فبروری، ( این ایس ایس ) آندھرا پردیش کے چیف منسٹر این کرن کمار ریڈی کی قیادت میں سیما آندھرا کانگریس قائدین کے ایک وفد نے جس میں مرکزی و ریاستی وزراء، ارکان پارلیمنٹ و ارکان اسمبلی اور دوسرے شامل تھے، آج صدر جمہوریہ پرنب مکرجی سے راشٹر پتی بھون میں ملاقات کی اور تلگو عوام کے وسیع تر مفاد کی خاطر آندھرا پردیش کو تقسیم سے روکنے کیلئے درد مندانہ اپیل کی۔ چیف منسٹر نے جنتر منتر پر آج دن بھر دھرنا دینے کے بعد سیما آندھرا قائدین کے ساتھ ایک وفد کی شکل میں راشٹر پتی بھون پہونچ کر صدر جمہوریہ پرنب مکرجی کو چار صفحات پر مشتمل ایک یادداشت پیش کی جس میں ریاست کو متحد رکھنے کی لازمی ضرورت سے متعلق تفصیلات اور وجوہات بیان کی گئی ہیں۔صدر جمہوریہ سے ملاقات کے بعد چیف منسٹر نے وہاں موجود اخباری نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے اس اُمید کا اظہار کیا کہ ’’ راشٹر پتی جی ریاست کو متحد رکھنے کیلئے مناسب فیصلہ کریں گے، صدر ہند اپنی سیاسی و دستوری بصیرت و مہارت کیلئے معروف ہیں اور اس ریاست کے عوام کی اکثریتی رائے اور اُمنگوں کے خلاف کوئی فیصلہ نہیں کریں گے۔ مجھے یقین ہے کہ ریاست بدستور متحد رہے گی۔‘‘

تاہم انہوں نے مستقبل کی حکمت عملی کے بارے میں تفصیلات بیان کرنے سے انکار کردیا اور کہا کہ اس مرحلہ پر ان کیلئے یہ مناسب نہیں ہے کہ اس ضمن میں تفصیلات بیان کی جائیں۔ چیف منسٹر نے ادعاء کیا کہ صدرجمہوریہ ریاست کی تقسیم کیلئے دستور کی دفعہ 3کے مطابق کوئی قطعی فیصلہ کرسکتے ہیں اور ریاست کے 75تا80 فیصد عوام کی یہ خواہش ہے کہ تقسیم نہ کی جائے۔ اس حقیقت کو ملحوظ رکھتے ہوئے صدر جمہوریہ کوئی فیصلہ کریں۔ مسٹر کرن کمار ریڈی نے کہاکہ عوام کی بھلائی کیلئے ریاست کی تقسیم کی جاسکتی ہے لیکن آندھرا پردیش کی تقسیم کی صورت میں اس کے تمام علاقے بری طرح متاثر ہوں گے۔ سیما آندھرا کے طلبہ تعلیم، صحت اور دیگر سہولتوں سے محروم ہوجائیں گے اور علاقہ تلنگانہ کیلئے زراعت و آبپاشی کے علاوہ دیگر کئی مسائل پیدا ہوں گے۔کرن کمار ریڈی نے کہا کہ سیما آندھرا کے قائدین صدر جمہوریہ سے اپیل کرتے ہیں کہ وہ ریاست کی تقسیم سے گریز کریں کیونکہ ریاستی اسمبلی اس بل کو مسترد کرچکی ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ پہلا موقع تھا کہ ریاست نے سماج کے ایک بڑے حصہ کے جذبات کی عکاسی کی جس سے صاف طور پر واضح ہوگیاہے کہ عوام آندھرا پردیش کی تقسیم کو مسترد کرچکے ہیں۔ کرن کمار ریڈی نے کہا کہ ’’ مجھے یقین ہے کہ صدر جمہوریہ اور دستور ہند ریاست کی تقسیم سے گریزکریں گے۔ ہم اس کی مخالفت دراصل اس جائز بنیاد پر کررہے ہیں کہ اس سے ریاست کے دونوں علاقوں بالخصوص تلنگانہ کو سب سے زیادہ نقصان پہنچے گا۔ تلنگانہ میں 11لاکھ ایکر اراضی کو آبپاشی سے محروم ہونا پڑے گا۔ علاوہ ازیں برقی کا سنگین بحران پیدا ہوگا۔‘‘ انہوں نے آخر میں صدر جمہوریہ سے درخواست کی کہ وہ ریاست کو متحد رکھنے کیلئے اپنے اختیارات کا مناسب استعمال کریں۔

TOPPOPULARRECENT