Tuesday , June 19 2018
Home / ہندوستان / ’ راہول اور مودی دونوں مکیش امبانی کا کھلونہ بنے ہوئے ہیں ‘

’ راہول اور مودی دونوں مکیش امبانی کا کھلونہ بنے ہوئے ہیں ‘

نئی دہلی ۔ 15 ۔ فروری : ( سیاست ڈاٹ کام ) : عام آدمی پارٹی لیڈر اور مستعفی چیف منسٹر اروند کجریوال نے ریلائنس انڈیا کے سربراہ مکیش امبانی کو کھلے عام نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ یہ صنعتکار ہی ملک اور حکومت کو چلا رہے ہیں ۔ انہوں نے بحیثیت چیف منسٹر استعفیٰ کے بعد آج تک کو دئیے گئے پہلے انٹرویو میں کہا کہ ہندوستان میں گیس کی قیمت کے تعین کا نظ

نئی دہلی ۔ 15 ۔ فروری : ( سیاست ڈاٹ کام ) : عام آدمی پارٹی لیڈر اور مستعفی چیف منسٹر اروند کجریوال نے ریلائنس انڈیا کے سربراہ مکیش امبانی کو کھلے عام نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ یہ صنعتکار ہی ملک اور حکومت کو چلا رہے ہیں ۔ انہوں نے بحیثیت چیف منسٹر استعفیٰ کے بعد آج تک کو دئیے گئے پہلے انٹرویو میں کہا کہ ہندوستان میں گیس کی قیمت کے تعین کا نظام خامیوں سے پر ہے اور اس کا مقصد امبانی کو فائدہ پہنچانا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کا گیس کی قیمتوں میں اضافہ کے لیے قدیم ترین ’ بین الاقوامی سطح پر بھی اضافہ ‘ کا بہانہ ناقابل فہم ہے ۔ گھریلو پکوان گیس پر اس کا اطلاق کوئی معنی نہیں رکھتا ۔ کجریوال نے 23 فروری سے رشوت کے خلاف ملک گیر مہم چلانے کا بھی اعلان کیا ۔

انہوں نے کہا کہ کانگریس کے نائب صدر راہول گاندھی اور بی جے پی کے وزارت عظمیٰ امیدوار نریندر مودی دونوں امبانی کے ہاتھوں کھلونہ بنے ہوئے ہیں ۔ کجریوال نے کہا کہ وہ گیس کی قیمت کے مسئلہ پر راہول گاندھی کو مکتوب لکھیں گے وہ چاہتے ہیں کہ راہول اس بارے میں کھل کر سامنے آئیں ۔ انہوں نے کہا کہ وزارت تیل نے قدرتی گیس کی قیمت میں اضافہ کا فیصلہ کیا ۔ جس سے ریلائنس انڈسٹریز لمٹیڈ کو فائدہ پہنچا ۔ انہوں نے یہ دعویٰ کیا کہ صرف عام آدمی پارٹی ہی دیانتداری سے سیاست کررہی ہے ۔ راہول گاندھی اور نریندر مودی کو عوام کو انصاف دلانے میں کوئی دلچسپی نہیں لیکن وہ اس بارے میں مسلسل بات کرتے رہتے ہیں ۔ کجریوال نے 2014 عام انتخابات میں پارٹی کی قیادت کا اعلان کیا اور کہا کہ وہ خود بھی لوک سبھا انتخابات میں حصہ لیں گے ۔ چیف منسٹر دہلی اروندکجریوال کے استعفیٰ دینے کی ذمہ داری کانگریس اور بی جے پی پر عائد کرتے ہوئے عام آدمی پارٹی قائد پرشانت بھوشن نے آج کہا کہ کجریوال کے پاس استعفیٰ دینے کے علاوہ دوسرا کوئی اور چارہ نہیں تھا ۔ چونکہ اُن کی پارٹی کا اہم مقصد حکومت سازی نہیں بلکہ ملک سے کرپشن کا خاتمہ ہے اور جن لوک پال کو پاس کرنا اُن کی پارٹی کی اولین ترجیح ہے۔ انھوں نے کہا کہ کانگریس اور بی جے پی ابتداء سے ہی اس بل کی مخالفت کررہے تھے۔ اسی لئے انھوں نے حکومت کی تائید نہیں کی ، دونوں جماعتوں کے قائدین یہ نہیں چاہتے ہیں کہ ہمارا ملک رشوت اور بدعنوانی سے پاک ہو ۔ ذرائع ابلاغ سے بات کرتے ہوئے مسٹر بھوشن نے مزید کہا کہ عام آدمی پارٹی حکومت سازی کے لئے یا اقتدار حاصل کرنے کیلئے قائم نہیں کی گئی ہے بلکہ اس کا اولین مقصد ملک کو کرپشن سے پاک کرنا ہے ۔ انھوں نے کہا کہ چونکہ عام آدمی پارٹی کا قیام ملک سے کرپشن کے خاتمہ کے لئے قائم کیا گیا ہے

اور اسی لئے اسمبلی میں جن لوک پال پاس کرنا اُس کی اولین ترجیح تھی تاہم ہمیں اس کی اجازت نہیں دی گئی اور ایسی صورت میں ہمارے پاس حکومت سے باہر ہوجانے کے علاوہ دوسرا کوئی راستہ نہیں تھا ۔ جب اُن سے پوچھا گیا کہ کیا عام آدمی پارٹی اپنی ذمہ داریوں سے راہ فرار اختیار کررہی ہے تو انھوں نے کہاکہ ہماری حکومت دہلی میں محلہ سبھا بھی قائم کرنا چاہتی تھی مگر کانگریس اور بی جے پی اس ماڈل پر بھی عمل کرنے کی اجازت نہیں دے رہی ہے تو پھر ہم کیسے حکومت چلاسکتے ہیں۔ انھوں نے کہا کہ حکومت کے ذریعہ سرکاری عہدہ کا حصول ہماری پارٹی کا مقصد کبھی نہیں رہا ۔ سابق پارٹی قائد کرن بیدی کی جانب سے یہ ٹوئٹ کئے جانے کے بعد کہ ’’کیا دہلی کے چیف منسٹر نے لوک پال کیلئے استعفیٰ دیا ہے یا لوک سبھا کیلئے ؟ ‘‘ تو انھوں نے کہا کہ کرن بیدی بی جے پی کی حامی بن چکی ہیںاس لئے وہ کچھ بھی ٹوئٹ کرسکتی ہیں ۔

TOPPOPULARRECENT