Saturday , November 18 2017
Home / Top Stories / اردو کی ترقی کیلئے سنجیدہ کوشش وقت کی ضرورت

اردو کی ترقی کیلئے سنجیدہ کوشش وقت کی ضرورت

طلباء کو اپنی مادری زبان میں خصوصی دلچسپی لینے کا مشورہ، جناب زاہد علی خاں اور دیگر کا خطاب

حیدرآباد ۔ 19 ڈسمبر (سیاست نیوز) اردو زبان دیگر زبانوں کی طرح ترقی کی طرف گامزن ہے۔ اس کے متعلق جو خدشات ظاہر کئے جاتے ہیں وہ غلط ہیں۔ آج اردو دنیا کے 172 ممالک کے 3 ہزار سے زائد شہروں میں بولی اور سمجھی جاتی ہے۔ اردو کیلئے حکومت کی سرپرستی کے بجائے اردو والوں کو اس کے استحکام اور بقاء کیلئے سنجیدگی سے کوشش کرنی چاہئے۔ ان خیالات کا اظہار جناب زاہد علی خان ایڈیٹر سیاست نے یہاں محبوب حسین جگر ہال احاطہ سیاست میں اردو ایکسپو ’’اردو ہے جس کا نام‘‘ کے اسکولی طلبہ کے پروگرام کے جلسہ تقسیم انعامات سے مخاطب کرتے ہوئے کیا اور کہا کہ سیاست اخبار انٹرنیٹ پر سب سے زیادہ پڑھا جاتا ہے اس کے انٹرنیٹ کے قارئین ہندوستان میں 5 لاکھ ہیں اس کے بعد سعودی عربیہ اور امریکہ میں ہیں۔ اردو زبان کا مستقبل نہایت درخشاں ہے۔ اس کا ثبوت یہاں اسکول کے معصوم طلباء و طالبات کے مظاہرہ سے ہوتا ہے۔ اردو ایکسپو کے متعلق اظہارخیال کرتے ہوئے کہا کہ عام طور پر اردو کے جو پروگرام، مشاعرے، سمینار، شام غزل وغیرہ ہوتے ہیں، انہیں اندازہ نہیں تھا یہ بھی الگ اور منفرد انوکھے قسم کا پروگرام ہوگا، جس میں اردو کی تاریخ، شعراء، مصنفین کو نہ صرف تمثیلی ملبوسات میں پیش کیا گیا بلکہ ان کے متعلق بچوں نے جس طرح کا مظاہرہ کیا اس سے بے حد متاثر ہیں۔ چنانچہ انہوں نے ہر طالب علم کو نقد رقم کا انعام عطا کیا جس سے ان کی حوصلہ افزائی ہوئی۔ زبان کے متعلق جناب زاہد علی خاں نے سلسلہ تقریر جاری رکھتے ہوئے کہا کہ یہودی مملکت کے سربراہ کا محل اسرائیل میں بہت چھوٹا ہے۔ چنانچہ یہودی قوم اپنے صدر کے محل کیلئے ایک خطیر رقم جمع کی اور صدر کو پیش کی اسرائیل کے صدر نے اس رقم کو محل بنانے کے بجائے ان کی زبان کی ترقی اور ترویج پر خرچ کرنے کی ہدایت دی۔ اردو ہماری مادری زبان ہے۔ اس کو ہم بولتے ہیں۔ اگر لکھنا، پڑھنا بھی سیکھے اور اسکول سطح سے واقف کروائے تو اس کا مستقبل روشن ہوگا۔ انہوں نے اردو کے متعلق حکومت کے رویہ پر یہ شعر کہا جو غالب صدی تقاریب پر حکومت کے خلاف ساحر لدھیانوی نے کہا تھا، غالب جسے کہتے ہیں اردو ہی کا شاعر تھا، غالب پر کرم کرکے اردو پر ستم کیا ہے۔ اردو کی ترقی اور ترویج کیلئے اردو الوں پر حکومت سے زائد ذمہ داری عائد ہوتی ہے۔ پروفیسر ایس اے شکور سکریٹری ؍ ڈائرکٹر اردو اکیڈیمی تلنگانہ اسٹیٹ نے مہمان خصوصی کی حیثیت سے شرکت کی اور تلنگانہ اردو اکیڈیمی کی جانب سے تمام شرکاء کو مومنٹوز عطا کئے اور کہا کہ اردو نہ صرف ایک زبان بلکہ ایک تہذیب ہے۔ اردو کے اسکولس میں انفراسٹرکچر کی فراہمی کیلئے 50 ہزار روپئے ہر اسکول کو دینے کی اسکیم انہوں نے تیار کی، جس کو حکومت نے منظور کیا۔ حکومت اسکیمات بناتی ہے۔ اس کو روبہ عمل لانا اور اس سے استفادہ کرنا چاہئے۔ اردو کے متعلق تلنگانہ ریاست کے اسکولس، کالجس کے اعداد و شمار پیش کرتے ہوئے بتایا کہ اردو میڈیم طلبہ کا ڈراپ آوٹ بہت زیادہ ہے جبکہ اردو اعلیٰ سطح پر تلنگانہ کی تمام جامعات میں اردو کا شعبہ ہے لیکن ایم اے اردو میں مطلوبہ تعداد میں طلبہ فراہم نہیں ہورہے ہیں۔ ممتاز قانون داں جناب عثمان شہید ایڈوکیٹ جو اردو میں شعلہ بیانی کیلئے مشہور ہیں ننھے بچوں کی اردو تقاریر، مظاہرے کو پوری یکسوئی کے ساتھ سماعت کرتے ہوئے اس احساس کا اظہار کیا کہ اگر وہ اس میں شرکت نہ کرتے تو انہیں سخت مایوسی ہوتی۔ طلبہ کو جو اردو زبان سے تعلق رکھتے ہیں، مفید مشوروںسے نوازا اور اونچی سوچ اور بلند خیالات رکھنے کا مشورہ دیا اور کہا کہ آسمان اور سورج کو اپنے تیرنشانہ بنانا چاہئے گرچہ کہ وہ آسمان یا سورج تک نہیں پہنچتے لیکن ضرور سب سے آگے جائیں گے۔ انہوں نے ادارہ سیاست اور سنٹرل پبلک اسکول کے انتظامیہ کو مبارکباد دی۔ جاپان کی ایک ریسرچ اسکالر نے جو اردو میں تحقیق کررہی ہے، اسمبلی کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ اردو شیرین زبان ہے۔ ٹوکیو یونیورسٹی سے مشرقی ایشیاء میں اردو پر کام کررہی ہے انہیں اردو کے اس پروگرام میں شریک ہوکر بڑی مسرت ہوئی۔ جناب سید مسکین احمد صدر انجمن محبان اردو نے مہمان خصوصی کی حیثیت سے شرکت کی اور انعامات تقسیم کئے۔ دکن پن اسٹور کی جانب سے کلیم اللہ اختر نے تمام طلبہ کو قلم ’’پن‘‘ تحفہ د یا۔ جناب ظفراللہ فہیم سنٹرل پبلک اسکول نے خیرمقدم کیا۔ حمیدہ بیگم، فریدہ خاتون نے معاونت کی۔ ایم اے حمید نے نظامت کے فرائض انجام دیئے۔ آخر میں شکریہ ادا کیا۔ اس موقع پر اردو ٹیچرس، سرکردہ احباب ممتاز شاعرہ تنسیم جوہر، حاجی عبدالکریم، حافظ صابر پاشاہ قادری، احمد صدیقی میکش نے شرکت کی۔

TOPPOPULARRECENT