Friday , December 15 2017
Home / شہر کی خبریں / سپریم کورٹ مقدمہ میں فریق بننے محمد علی شبیر کا اعلان

سپریم کورٹ مقدمہ میں فریق بننے محمد علی شبیر کا اعلان


یکساں سیول کوڈ کا نفاذ سنگھ پریوار کے ایجنڈہ کا حصہ ، شریعت میں تبدیلی ناقابل قبول
حیدرآباد۔/14 اکٹوبر،( سیاست نیوز) تلنگانہ قانون ساز کونسل میں قائد اپوزیشن محمد علی شبیر نے ملک میں یکساں سیول کوڈ کے نفاذ کی کوششوں کو سنگھ پریوار کے ایجنڈہ کا حصہ قرار دیا اور اعلان کیا کہ مسلم پرسنل لابورڈ سے مشاورت کے بعد وہ سپریم کورٹ میں زیر دوران مقدمہ میں بحیثیت فریق شامل ہوں گے۔ انہوں نے کہا کہ مسلم پرسنل لا کے خلاف اور یکساں سیول کوڈ کے حق میں مرکزی حکومت اور لا کمیشن کے ذریعہ سپریم کورٹ میں جو دلائل پیش کئے جائیں گے وہ ان کے جواب کیلئے ملک کے کسی ممتاز ماہر قانون کی خدمات حاصل کرنے کیلئے تیار ہیں۔ انہوں نے کہا کہ نریندر مودی حکومت اپنی ناکامیوں سے عوام کی توجہ ہٹانے کیلئے یکساں سیول کوڈ کے مسئلہ پر سیاست کررہی ہے۔ لا کمیشن کی جانب سے یکساں سیول کوڈ کے بارے میں عوامی رائے حاصل کرنے کی مہم کا مسلم پرسنل لا بورڈ کی جانب سے بائیکاٹ کا خیرمقدم کرتے ہوئے محمد علی شبیر نے کہا کہ حکومت نے لا کمیشن کو آلہ کار کے طور پر استعمال کرنے کی کوشش کی ہے اور عوام سے رائے حاصل کرنا محض ایک ڈھکوسلہ ہے۔ لا کمیشن کے ذریعہ سپریم کورٹ میں یکساں سیول کوڈ کے حق میں رپورٹ پیش کی جاسکتی ہے۔ محمد علی شبیر نے کہا کہ ملک میں یکساں سیول کوڈ کا نفاذ ناممکن ہے کیونکہ مختلف مذاہب کے ماننے والوں کے علحدہ علحدہ پرسنل لا ہیں۔ انہوں نے کہا کہ مسلم پرسنل لا کو نشانہ بنانے کا مقصد ہندو ووٹ کو متحد کرتے ہوئے اتر پردیش، گجرات اور پنجاب میں کامیابی حاصل کرنا ہے جہاں آئندہ سال اسمبلی انتخابات ہوں گے۔ انہوں نے کہا کہ ملک میں نریندر مودی حکومت  عوام سے کئے گئے وعدوں کی تکمیل میں بری طرح ناکام ہوچکی ہے جس کے باعث عوام حکومت سے سخت ناراض ہیں۔ کسی بھی ریاست میں بی جے پی کو اقتدار کا حصول ممکن نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ سنگھ پریوار کے ہندوتوا ایجنڈہ میں موجود متنازعہ مسائل کو نریندر مودی وقفہ وقفہ سے اٹھاتے ہوئے ملک کو بدامنی اور فرقہ وارانہ کشیدگی کی طرف لے جانا چاہتے ہیں۔ محمد علی شبیر نے مرکزی حکومت کی جانب سے سپریم کورٹ میں داخل کردہ حلف نامہ کی مذمت کی اور کہا کہ خواتین کے حقوق کے تحفظ کے نام پر مسلم پرسنل لا کو نشانہ بنایا جارہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ملک کے مسلمان اس مسئلہ پر پرسنل لا بورڈ  کے ساتھ ہیں اور بورڈ کے ہر لائحہ عمل میں مسلمانوں کا مکمل تعاون حاصل رہے گا۔ انہوں نے یاد دلایا کہ آنجہانی راجیو گاندھی نے شاہ بانو کیس میں سپریم کورٹ کے مقدمہ کے خلاف مسلمانوں کے احتجاج پر قانون میں ترمیم کرتے ہوئے شریعت اسلامی کے حق میں قانون سازی کی تھی۔ اس طرح کانگریس پارٹی نے مسلم پرسنل لا کے احترام کا ثبوت دیا۔ کانگریس دور حکومت میں ہمیشہ تمام مذاہب کے جذبات کا نہ صرف احترام کیا گیا بلکہ دستور میں دیئے گئے حقوق کے مطابق انہیں مذہبی آزادی بھی دی گئی۔ قائد اپوزیشن نے کہا کہ بعض نام نہاد مسلم تنظیموں اور افراد کا سہارا لے کر بی جے پی حکومت شریعت اسلامی میں تبدیلی کا ناپاک منصوبہ بنارہی ہے۔ شریعت کوئی انسانی قانون نہیں بلکہ یہ قرآن و حدیث پر مبنی آفاقی قانون ہے جس میں تبدیلی کا تصور نہیں کیا جاسکتا۔ انہوں نے کہا کہ شریعت میں تبدیلی یا ملک میں یکساں سیول کوڈ کے نفاذ کی کوئی بھی کوشش ملک کے اتحاد و یکجہتی کیلئے خطرہ ثابت ہوگی۔ انہوں نے ملک کی تمام سیکولر جماعتوں کو مشورہ دیا کہ وہ سیکولرازم اور مذہبی رواداری کے تحفظ اور تمام مذاہب کو دی گئی دستوری آزادی کو بچانے کیلئے آگے آئیں۔ جناب محمد علی شبیر جو ان دنوں کاماریڈی میں ہیں مقامی علماء کے وفد نے ان سے ملاقات کرتے ہوئے ان کے بڑے بھائی کے انتقال پر پرسہ دیا۔ اس موقع پر محمد علی شبیر نے علمائے کرام کی جانب سے مرکزی حکومت کی شرانگیزی پر اظہار تشویش سے مکمل یگانگت کا اظہار کیا۔

TOPPOPULARRECENT