Sunday , November 19 2017
Home / ہندوستان / ساتویں پے کمیشن کی رپورٹ کل پیش کی جائیگی

ساتویں پے کمیشن کی رپورٹ کل پیش کی جائیگی

48 لاکھ مرکزی سرکاری ملازمین اور 55 لاکھ وظیفہ یابوں کے مشاہیر پر نظرثانی
نئی دہلی ۔ 17نومبر (سیاست ڈاٹ کام) ساتویں پے کمیشن کی رپورٹ جمعرات کو پیش کی جائے گی۔ کمیشن نے بتایا کہ وزیرفینانس ارون جیٹلی سے ملاقات کرتے ہوئے یہ رپورٹ پیش کی جائے گی، جس میں مرکزی سرکاری ملازمین کے ساتھ ساتھ وظیفہ یابوں کے مشاہیر میں اضافہ کی سفارش کی گئی ہے۔ کمیشن کے چیرمین جسٹس اے کے ماتھر نے کہا کہ ہم رپورٹ کے ساتھ تیار ہیں اور اسے 19 نومبر کو پیش کریں گے۔ اس کمیشن کو یو پی اے حکومت نے فبروری 2014ء کو تشکیل دیا تھا تاکہ تقریباً 48 لاکھ مرکزی ملازمین اور 55 لاکھ وظیفہ یابوں کی تنخواہوں پر نظرثانی کی جاسکے۔ کمیشن کی سفارشات میں ریاستی سرکاری ملازمین کی تنخواہوں پر بھی تجاویز پیش کی جارہی ہیں۔ مرکزی کابینہ نے کمیشن کی میعاد میں اگست سے مزید چار ماہ کیلئے توسیع کی تھی جو ڈسمبر کو ختم ہورہی ہے۔ سرکاری اداروں میں کام کرنے والے ملازمین کی تنخواہوں پر نظرثانی کیلئے ہر 10 سال بعد پے کمیشن کو ذمہ داری دی جاتی ہے۔ مرکزی ملازمین کے پے اسکیل پر نظرثانی کرتے ہوئے اس میں اضافہ کیا جاتا ہے۔ اکثر ریاستی حکومتیں بھی پے کمیشن کی سفارشات کو قبول کرتی ہیں۔ اس پورے عمل کے حصہ کے طور پر پے کمیشن نے مختلف دعویداروں، تنظیموں، فیڈریشن، گروپ کے نمائندوں سے تبادلہ خیال کیا ہے۔ ساتویں پے کمیشن کی سفارشات یکم ؍ جنوری 2016ء سے نافذالعمل ہوں گے۔ چیرمین کے علاوہ کمیشن کے دیگر ارکان میں وویک رائے ریٹائرڈ آئی اے ایس آفیسر 1978 بیاچ اور نتھن رائے ماہر معاشیات کے علاوہ مینااگروال سیکوریٹی کمیشن بھی شامل ہیں۔ چھٹویں پے کمیشن کی سفارشات کو یکم ؍ جنوری 2006ء سے نافذ کیا گیا تھا جبکہ پانچویں پے کمیشن کی سفارشات یکم ؍ جنوری 1996ء سے نافذ ہوئی تھی اور چوتھے چھٹویں پے کمیشن کی سفارش پر عمل کرتے ہوئے یکم ؍ جنوری 1986ء سے تنخواہوں میں اضافہ کیا گیا تھا۔

TOPPOPULARRECENT