Monday , December 18 2017
Home / اضلاع کی خبریں / مسلم مسائل کی یکسوئی کیلئے ٹھوس اقدامات کا مطالبہ

مسلم مسائل کی یکسوئی کیلئے ٹھوس اقدامات کا مطالبہ

رکن پارلیمنٹ کے کویتا کی جگتیال آمد پر ملت اسلامیہ کے وفد کی نمائندگی
جگتیال /15 نومبر (سیاست ڈسٹرکٹ نیوز) مسلمانوں کے دیرینہ مسائل کی یکسوئی کے لئے رکن پارلیمنٹ نظام آباد شریمتی کے کویتا سے شہر جگتیال کی ملی، سماجی اور فلاحی تنظیموں کی جانب سے نمائندگیوں پر مسائل کی عاجلانہ یکسوئی کا تیقن دیا۔ آج مسلم شادی خانہ کمیونیٹی ہال میں مسز کویتا کی آمد پر ملت اسلامیہ کے صدر ریاض الدین ماما، محمد سراج الدین وائس چیرمین بلدیہ، عبد الباری کونسلر، سینئر قائد محمد افضل بیگ صابر، محمد امین الدین، ابوالکلام، محمد عبد المجاہد عادل، صلاح الدین منا اور سید منظور نے مسلمانوں کے مختلف مسائل، جگتیال میں مسلم ریسیڈنشل اسکول اور بوائز اردو میڈیم جونیر کے قیام کے علاوہ مسلم بستی میں میٹرنیٹی ہاسپٹل کے قیام کا مطالبہ کیا۔ انھوں نے قبرستان کے لئے دس ایکڑ اراضی کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ موجودہ قبرستان ناکافی ہو رہا ہے، اسی طرح قدیم عیدگاہ بھی ناکافی ہو رہی ہے۔ انھوں نے جدید عیدگاہ کے لئے دس ایکڑ اراضی، مسلم شادی خانہ کو جلد سے جلد مسلمانوں کے حوالے کرنے اور شادی خانہ میں دیگر سہولیات فراہم کرنے کا مطالبہ کیا۔ اس موقع پر عبد الباری کونسلر نے کہا کہ مسلمانوں پر آئے دن حملے کئے جا رہے ہیں، لہذا مسلمانوں کو بھی ایس سی، ایس ٹی ایکٹ کی طرح مسلم ایکٹ کا قیام عمل میں لایا جائے۔ انھوں نے اردو میڈیم ڈی ایس سی کے قیام اور دیگر مسائل کی یکسوئی کا مطالبہ کیا۔ اس موقع پر محمد عبد المجاہد نے شہر جگتیال میں مولانا ابو الکلام آزاد مینار کی تعمیر کا مطالبہ کیا۔ انھوں نے کہا کہ 15 سال قبل بلدیہ کونسل میں تین کھنی چوراہا پر تعمیر کے لئے قرارداد منظور کئے جانے کے باوجود اس کو سیاسی رنگ دے کر روک دیا گیا۔ انھوں نے کہا کہ ملک کے پہلے وزیر تعلیم کے نام پر مینار تعمیر کرنے میں تساہل سے کام لیا جا رہا ہے۔ بعد ازاں مسز کویتا نے معلومات حاصل کرتے ہوئے جلد از جلد تعمیر کا تیقن دیا۔ اس موقع پر عبد المجاہد نے سجد پرانی پیٹھ کی جدید تعمیر کے سلسلے میں حکومت کی جانب سے فنڈس کی منظوری کے لئے یادداشت پیش کی اور کہا کہ ڈیڑھ سال سے مسلسل نمائندگی کے باوجود اب تک فنڈ منظور نہیں کیا گیا، جب کہ وقف بورڈ سے فائل سکریٹریٹ اور ضلع کلکٹر کو روانہ کردی گئی ہے اور جدید تعمیر ختم ہونے کے مراحل میں ہے۔ جس پر مسز کویتا نے ڈپٹی چیف منسٹر سے نمائندگی اور فنڈ کی منظوری کا تیقن دیا۔ اس موقع پر وائس چیرمین بلدیہ نے مسلم خواتین کے لئے ٹیلرنگ مشین کی تقسیم کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ سابق میں خواتین کو روزگار سے جوڑنے کے لئے سلائی مشینوں کی تقسیم عمل میں لائی گئی تھی۔ عبد الباری کونسلر نے مسلمانوں کو قرض کی فراہمی بینکرس کی بجائے کارپوریشن سے راست منظور کرنے کا مطالبہ کیا، کیونکہ بینکرس کی جانب سے قرض کی فراہمی میں دشواریاں پیدا کرنے کی شکایات عام ہیں۔ تمام مطالبات سننے کے بعد رکن پارلیمنٹ مسز کویتا نے مسلمانوں کے تمام مسائل کی یکسوئی کا تیقن دیا۔

TOPPOPULARRECENT