شہر کی غیر سرکاری تنظیموں کے وفد کی تلنگانہ ویمنس کمیشن سے نمائندگی
حیدرآباد۔4جنوری (سیاست نیوز) مسلم خواتین کی توہین اور آن لائن ہراج کے معاملہ میں شہر حیدرآباد سے تعلق رکھنے والے متاثرین نے آج مختلف غیر سرکاری تنظیموں کے نمائندوں کے ہمراہ صدرنشین تلنگانہ ریاستی خواتین کمیشن سنیتا لکشما ریڈی سے ملاقات کرتے ہوئے انہیں ایک یادداشت حوالہ کی اور کہا کہ ریاست تلنگانہ کی جانب سے خواتین کمیشن کو چاہئے کہ وہ خواتین کے خلاف کی جانے والی اس اوچھی حرکت پر سخت کاروائی کرتے ہوئے ان لوگوں کو کیفر کردار تک پہنچانے کے اقدامات کرے جو اس طرح کی مذموم حرکت کر رہے ہیں۔ محترمہ سنیتا لکشما ریڈی نے ملاقات کرنے والے وفد کو بتایا کہ تلنگانہ ریاستی ویمنس کمیشن نہ صرف قومی خواتین کمیشن سے نمائندگی کرے گا بلکہ چیف جسٹس آف انڈیا کو بھی مکتوب روانہ کرتے ہوئے صورتحال سے واقف کرواتے ہوئے ان سے کاروائی کی خواہش کی جائے گی۔ صدرنشین ریاستی خواتین کمیشن سے ملاقات کرنے والوں میں محترمہ خالدہ پروین‘ محترمہ عائشہ منہاز ‘ ستیہ وتی‘ سندھیا‘ وجیہ ‘ کنیز فاطمہ ‘ پدمجا شاہ‘ دیپتی کے علاوہ دیگر شامل تھے ۔ وفد کے ذمہ داروں اور متاثرین نے صدرنشین ویمنس کمیشن کو بتایا کہ اخلاقی گراوٹ کی اس انتہاء کا سخت نوٹ نہ لینے کا نتیجہ یہ ہوا ہے کہ دوسری مرتبہ اس طرح کی حرکت ہوئی ہے اگر سال گذشتہ اس طرح کی حرکات کا نوٹ لیتے ہوئے ان کے خلاف سخت کاروائی کی جاتی تو دوبارہ کسی کی ہمت نہ ہوتی لیکن ایسا نہیں کیا گیا اور مسلم طبقہ کے خلاف جس انداز میں نفرت پھیلائی جا رہی ہے اس کو دیکھتے ہوئے نوجوان نسل میں بھی نفرت پیدا ہونے لگی ہے اسی لئے نہ صرف خواتین کی عصمت و آبرو بلکہ ملک کی سالمیت و فرقہ وارانہ ہم آہنگی کے لئے اس طرح کی حرکتوں کے خلاف سخت کاروائی کی جانی چاہئے ۔ محترمہ سنیتا لکشما ریڈی نے وفد کو اس بات کا تیقن دیا کہ ریاستی ویمنس کمیشن کی جانب سے سخت کاروائی کی جائے گی کیونکہ متاثرین کی یادداشت اور شکایات موصول ہونے سے قبل ہی کمیشن نے اس سلسلہ میں کاروائی کا فیصلہ کرلیا ہے ۔ انہوں نے مسلم خواتین کے کردار اور ان کی عصمت کو داغدار کرنے کی کوشش کو انتہائی افسوسناک اور ذلت آمیز قرار دیتے ہوئے کہا کہ جو لوگ خواتین کی عزت و حرمت کا احساس نہیں رکھتے وہ مسلم یا غیر مسلم کی تمیز سے بھی عاری ہیں اس لئے وہ نفرت کو بڑھاوادیتے ہوئے مذموم حرکات کے مرتکب بن رہے ہیں۔م