l کالیشورم اور برقی خریدی کے تحقیقاتی کمیشن کی رپورٹ کے بعد کارروائی
l کے ٹی آر اپنے بزنس پارٹنر کی مشتبہ موت پر خاموش
l ہر ماہ تنخواہوں کیلئے 6500 کروڑ اور سود کیلئے 6800 کروڑ کی ادائیگی
l ڈرگس کیس کی عنقریب جانچ l ریاست میں ضمنی چناؤ کا کوئی امکان نہیں
l کونسل چناؤ میں بی آر ایس کی بی جے پی کو مدد l دہلی میں چیف منسٹر کا میڈیا سے خطاب
حیدرآباد۔/26 فروری، ( سیاست نیوز) چیف منسٹر ریونت ریڈی نے الزام عائد کیا کہ میٹرو ریل توسیعی پراجکٹ کو مرکزی کابینہ میں پیش کرنے کی راہ میں کشن ریڈی اہم رکاوٹ بن رہے ہیں وہ نہیں چاہتے کہ میٹرو ریل پراجکٹ پر عمل کیا جائے۔ نئی دہلی میں وزیر اعظم نریندر مودی سے ملاقات کے بعد میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے چیف منسٹر نے تلنگانہ کی تازہ ترین سیاسی صورتحال اور مختلف بدعنوانیوں کی جانچ کے بارے میں کھل کر اظہار خیال کیا۔ انہوں نے کہا کہ کالیشورم پراجکٹ کے تحت میڈی گڈہ بیاریج کی ناقص تعمیرات پر مقدمہ دائر کرنے والے راج لنگا مورتی کو قتل کردیا گیا۔ مقدمہ کی بحث کرنے والے سنجیو ریڈی کی مشتبہ حالت میں موت واقع ہوئی۔ کے ٹی آر کے بزنس پارٹنر کیدار کی دبئی میں مشتبہ حالت میں موت واقع ہوئی ہے۔ ریڈیسن ڈرگس کیس میں کیدار اہم ملزم ہے۔ چیف منسٹر نے سوال کیا کہ مذکورہ مشتبہ اموات پر کے ٹی آر کوئی تبصرہ کیوں نہیں کرتے، وہ ان معاملات کی عدالتی تحقیقات کا مطالبہ کیوں نہیں کررہے ہیں۔ چیف منسٹر نے کہا کہ کالیشورم اور دیگر پراجکٹس کی تعمیر میں بدعنوانیوں سے متعلق تکنیکی رپورٹ کی وصولی سے قبل وہ کوئی تبصرہ کرنا نہیں چاہتے۔ کالیشورم پراجکٹ پر تحقیقاتی کمیشن کی رپورٹ کے بعد ہی کوئی کارروائی کی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ فون ٹیاپنگ مقدمہ میں بیرون ملک فرار ملزمین کو واپس لانا مرکز کی ذمہ داری ہے۔ ملزمین کو واپس لائے جانے کے بعد تحقیقات میں اہم پیش رفت ہوگی۔ چیف منسٹر نے کہا کہ عنقریب ڈرگس معاملہ کی تحقیقات کا آغاز ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ ریاست کی درخواستوں کو مرکز سے منظور کرانا کشن ریڈی کی ذمہ داری ہے۔ انہوں نے کہا کہ وزیر اعظم سے جن 5 پراجکٹس کی نمائندگی کی گئی اگر ان کی منظوری کشن ریڈی حاصل کرنے میں کامیاب ہوجائیں تو انہیں عوامی جلسہ میں سمان کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ سری سیلم لفٹ بنک کنال کے کام بی آر ایس کے دس سالہ دور حکومت میں انجام نہیں دیئے گئے۔ کاموں کا سہرا کانگریس کے سر جانے کے خوف سے کے سی آر نے پراجکٹ کا کام نہیں کیا۔ کانگریس برسراقتدار آنے کے بعد پراجکٹ کے کاموں کا دوبارہ آغاز ہوا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایس ایل بی سی سرنگ میں پھنسے ہوئے ورکرس کو بچانے کیلئے جنگی خطوط پر امدادی کام جاری ہیں۔ قومی اور ریاستی سطح کے 11 ادارے بچاؤ کاموں میں مصروف ہیں۔ انہوں نے کہا کہ حیدرآباد میں میٹرو ٹرین کے آغاز کا سہرا آنجہانی جے پال ریڈی کے سر جاتا ہے اور کے سی آر دور حکومت میں میٹرو کے توسیعی کاموں پر کوئی توجہ نہیں دی گئی۔ ریاست کی معاشی صورتحال کو بہتر بنانے کیلئے حکومت کی مساعی کا حوالہ دیتے ہوئے چیف منسٹر نے کہا کہ ہر ماہ کی پہلی تاریخ کو 22500 کروڑ کی ضرورت ہے۔ ریاست کی آمدنی 18500 کروڑ ہے، تنخواہوں کیلئے 6500 کروڑ اور سود کے طور پر 6800 کروڑ ادا کئے جارہے ہیں۔ حکومت ماہانہ آمدنی کو 22000 کروڑ تک اضافہ کرنے کی مساعی کررہی ہے۔ ایک سوال کے جواب میں ریونت ریڈی نے کشن ریڈی کو کے سی آر کا پارٹنر قرار دیا اور کہا کہ کے سی آر کیلئے کشن ریڈی کام کررہے ہیں۔ انہوں نے کہاکہ میٹرو ٹرین کے کاموں سے کانگریس کی نیک نامی کے خوف سے وہ مرکزی کابینہ میں پراجکٹ کی منظوری میں رکاوٹ پیدا کررہے ہیں۔چیف منسٹر نے کہا کہ 2014 سے 2024 تک بی آر ایس نے انحراف کی نہ صرف حوصلہ افزائی کی بلکہ منحرف ارکان کو کابینہ میں شامل کیا گیا۔ بی آر ایس نے اپنے دور میں منحرف ارکان کو نااہل قرار دینے کے اقدامات نہیں کئے لیکن آج یہ مطالبہ کررہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ضمنی چناؤ کے بارے میں کے ٹی آر کا بیان مضحکہ خیز ہے۔ چیف منسٹر نے کہاکہ کے ٹی آر کے بزنس پارٹنر کیدار کی نعش کو ہندوستان لایا جارہا ہے اور اس سلسلہ میں ایک سابق رکن اسمبلی دبئی میں ہیں۔ کے ٹی آر کو ان کا نام عوام میں پیش کرنا چاہیئے۔ انہوں نے کہا کہ کمیشن نہ ملنے کے خوف سے کے سی آر نے ایس ایل بی سی کے کام انجام نہیں دیئے تھے۔ انہوں نے کہا کہ کالیشورم کمیشن کی رپورٹ کے بعد ہی حکومت کارروائی کرے گی۔ انہوں نے کہا کہ بی آر ایس کا تلنگانہ میں صفایا ہوچکا ہے۔ جو پارٹی انتخابی مقابلہ میں نہیں ہے اسے تنقید کا حق نہیں پہنچتا۔ انہوں نے کہا کہ کونسل انتخابات میں بی آر ایس کی جانب سے بی جے پی کی مدد کی جارہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ فون ٹیاپنگ معاملہ کی نگرانی ہائی کورٹ کی جانب سے کی جارہی ہے۔ سی بی آئی مقدمہ کی آڑ میں بی جے پی چاہتی ہے کہ بی آر ایس کا انضمام کرلیا جائے۔ انہوں نے سوال کیا کہ فارمولہ ای ریسنگ اور بھیڑ بکریوں کی تقسیم میں بدعنوانی کے معاملہ میں انفورسمنٹ ڈائرکٹوریٹ شامل ہے لیکن تاحال ملزمین کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کی گئی۔ کالیشورم اور برقی خریدی کے معاملات کی جانچ کیلئے دو علحدہ کمیشن کام کررہے ہیں۔1