Tuesday , September 25 2018
Home / ہندوستان / 2014-15 ء میں معاشی فروغ میں 6.2 فیصد کا اضافہ متوقع

2014-15 ء میں معاشی فروغ میں 6.2 فیصد کا اضافہ متوقع

نئی دہلی۔/5جون، ( سیاست ڈاٹ کام ) ٹیکس کنٹسلٹنسی فرم ارنیٹ اینڈینگ (E&Y) کے مطابق جاریہ مالیاتی سال کے دوران معاشی فروغ میں 6.2فیصد کا اضافہ ہوگا جبکہ یہ قیاس آرائیاں بھی کی گئی ہیں کہ سازگار عالمی اور قومی معاشی صورتحال کو مدنظر رکھا جائے تو آئندہ تین سال کے دوران اس میں 8فیصد کا اضافہ بھی ہوسکتا ہے۔ فرم کے مطابق اسٹرکچورل میں بہتری، نئ

نئی دہلی۔/5جون، ( سیاست ڈاٹ کام ) ٹیکس کنٹسلٹنسی فرم ارنیٹ اینڈینگ (E&Y) کے مطابق جاریہ مالیاتی سال کے دوران معاشی فروغ میں 6.2فیصد کا اضافہ ہوگا جبکہ یہ قیاس آرائیاں بھی کی گئی ہیں کہ سازگار عالمی اور قومی معاشی صورتحال کو مدنظر رکھا جائے تو آئندہ تین سال کے دوران اس میں 8فیصد کا اضافہ بھی ہوسکتا ہے۔ فرم کے مطابق اسٹرکچورل میں بہتری، نئی حکومت پر اعتماد اور عالمی سطح پر سازگار صورتحال اس بات کی طمانیت ہوگی کہ معاشی فروغ میں آئندہ تین سال کے دوران 8فیصد کا اضافہ ہوگا۔ حالانکہ مسلسل دو سال سے معاشی فروغ کا تناسب 4.7 فیصد رہا ہے لیکن اب اس میں اضافہ متوقع ہے جس کا سہرہ سازگار عالمی صورتحال کے سر بندھنا چاہیئے۔ لہذا معاشی فروغ کے لئے ٹیکس کنسلٹنسی فرم نے وزیر مالیات ارون جیٹلی سے استدعا کی ہے کہ انکم ٹیکس سے استثنیٰ کی حد کو چار لاکھ روپئے تک بڑھادیا جائے

اور جولائی میں پیش کئے جانے والے بجٹ میں چھوٹے سرمایہ کاروں کو زائد ٹیکس مفادات دیئے جائیں اور اس طرح ان دو اقدامات سے صرفہ کی طلب میں اضافہ ہوگا اور ساتھ ہی ساتھ جی ڈی پی میں بھی اضافہ ہوگا۔E&Y کے چیف پالیسی مشیر ڈی کے سریواستو نے یہ بات بتائی۔ انھوں نے حکومت سے یہ استدعا بھی کی کہ کیپٹل مصارف میں اضافہ کرتے ہوئے پالیسیوں کو کچھ اس ڈھنگ سے وضع کیا جائے کہ اس کی طلب میں اضافہ ہوجائے۔ لہذا وہ یہ بات یقینی طور پر کہ سکتے ہیں کہ 2014-15 کے دوران معاشی فروغ میں 6.2 فیصد کا اضافہ ہوگا۔ سریواستو کے مطابق حکومت کی ان کوششوں سے خصوصی طور پر انفراسٹرکچر، رئیل اسٹیٹس اور فینانشیل سرویسس سیکٹر میں سرمایہ کاری میں اضافہ بھی متوقع ہے۔ یاد رہے کہ معاشی فروغ کا تعلق ہمیشہ عالمی سطح پر پائی جانے والی سازگار معاشی صورتحال سے مربوط ہوتا ہے۔ مقامی سطح پر اگر اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں اضافہ ہوتا ہے تو اس کا اثر ملک کے دیگر حصوں میں بھی محسوس کیا جاتا ہے۔

بالکل اسی طرح اگر عالمی سطح پر حالات سازگار ہوں تو معاشی فروغ میں اضافہ ہوسکتا ہے۔ سریواستو نے کہا کہ دنیا کے بعض ممالک جنگ زدہ ہیں لیکن ان کا راست اثر ہندوستانی معیشت پر نہیں ہوا ہے جو ایک اچھی علامت ہے لہذا عالمی سطح پر حالات اگر معمول پر رہیں تو نہ صرف ہندوستان بلکہ دیگر ممالک بھی معاشی فروغ میں اضافہ سے استفادہ کرسکیں گے۔گزشتہ 10 سال کے یوپی اے دور حکومت میں جبکہ حکومت کے سربراہ ایک ماہر معاشیات وزیراعظم منموہن سنگھ تھے، بظاہر ہندوستان کی شرح ترقی برقرار رہی تھی جبکہ امریکہ اور پورا یوروپ عالمی معاشی انحطاط کی بناء پر معاشی بحران میں مبتلا ہوگیا تھا۔ لیکن یہ شرح ترقی بی جے پی قائدین کے بقول مصنوعی تھی کیونکہ غریبوں اور امیروں کے درمیان خلیج مزید وسیع ہوگئی تھی اور خط غربت کی سطح سے نیچے زندگی گزارنے والوں کی تعداد اور زیادہ ہوگئی تھی۔ شرح ترقی صنعت کاروں اور سرمایہ کاروں کی آمدنی کے اعداد و شمار کو غریب عوام کی آمدنی کے اعداد و شمار میں شامل کرکے اوسط سالانہ آمدنی کا تخمینہ لگانے کا نتیجہ تھی۔

TOPPOPULARRECENT