Monday , October 22 2018
Home / سیاسیات / 2019 میں بھی مایاوتی سے مفاہمت برقرار رکھنے کا عہد

2019 میں بھی مایاوتی سے مفاہمت برقرار رکھنے کا عہد

بی جے پی سے مقابلے کیلئے ایس پی چند نشستوں کی قربانی کیلئے تیار : اکھلیش
لکھنؤ 11 جون (سیاست ڈاٹ کام) سماج وادی پارٹی کے سربراہ اور اترپردیش کے سابق چیف منسٹر اکھلیش یادو نے اپنی سیاسی حریف مایاوتی کی پارٹی کے ساتھ مفاہمت کے ذریعہ حالیہ ضمنی انتخابات میں حاصل ہونے والی کامیابیوں سے حوصلہ پاکر آج یہ واضح کیاکہ ان کی پارٹی (ایس پی) اپنی دیرینہ حریف بی ایس پی سے 2019 ء کے قومی انتخابات میں بھی مفاہمت برقرار رکھنا چاہتی ہے۔ حتیٰ کہ اس سے خود ان کی پارٹی کو چند نشستوں کو نقصان ہی کیوں نہ ہو۔ وہ اس کو بھی قبول کرنے تیار ہیں۔ اکھلیش نے گزشتہ روز اپنے خاندان کا طاقتور سیاسی گڑھ سمجھے جانے والے مقام مین پوری میں ایک جلسہ عام سے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ ’’2019 ء میں بھی بی ایس پی کے ساتھ ہمارا اتحاد برقرار رہے گا۔ حتیٰ کہ ہمیں چند نشستیں چھوڑنا پڑا تو ہم یہ بھی کریں گے۔ ہمیں بی جے پی کی شکست کو یقینی بنانا ہے‘‘۔ اپوزیشن نے گزشتہ سال پارلیمانی حلقہ پر متحدہ اپوزیشن کی تائیدی امیدوار تبسم حسن نے قبضہ کرلیا تھا۔ اس طرح اترپردیش میں حکمراں بی جے پی کی یہ لگاتار تیسری بدترین شکست تھی۔ قبل ازیں اکھلیش کی سماج وادی پارٹی (ایس پی) اور مایاوتی کی بہوجن سماج پارٹی (بی ایس پی) قبل ازیں بی جے پی کے دو طاقتور گڑھ پارلیمانی حلقوں چیف منسٹر یوگی آدتیہ ناتھ کے گورکھپور اور ڈپٹی چیف منسٹر کیشو پرساد موریہ کے پھولپور کو حکمراں جماعت سے چھین لیا تھا۔ یہ کامیابیاں 2019 میں بی جے پی سے مقابلے کیلئے اس قسم کے اپوزیشن اتحاد کے قیام کا شاخسانہ بنی ہیں۔

TOPPOPULARRECENT