Monday , June 18 2018
Home / ہندوستان / 2G اسکام: اے راجہ اپنے دفاع کیلئے بطور گواہ پیش ہوں گے

2G اسکام: اے راجہ اپنے دفاع کیلئے بطور گواہ پیش ہوں گے

نئی دہلی۔ 2؍جون (سیاست ڈاٹ کام)۔ 2G اسپکٹرم کیس میں ایک خصوصی عدالت نے سابق ٹیلی کام منسٹر اے راجہ کی اس درخواست کو منظور کرلیا ہے جہاں انھوں نے اپنے دفاع کے لئے گواہ کی حیثیت سے پیش ہونے کی خواہش کی۔ خصوصی سی بی آئی جج او پی سینی نے سی بی آئی کی جانب سے راجہ کی درخواست پر کوئی اعتراض نہ کرنے پر اسے منظور کرلیا اور اس طرح گواہ کے بیان ک

نئی دہلی۔ 2؍جون (سیاست ڈاٹ کام)۔ 2G اسپکٹرم کیس میں ایک خصوصی عدالت نے سابق ٹیلی کام منسٹر اے راجہ کی اس درخواست کو منظور کرلیا ہے جہاں انھوں نے اپنے دفاع کے لئے گواہ کی حیثیت سے پیش ہونے کی خواہش کی۔ خصوصی سی بی آئی جج او پی سینی نے سی بی آئی کی جانب سے راجہ کی درخواست پر کوئی اعتراض نہ کرنے پر اسے منظور کرلیا اور اس طرح گواہ کے بیان کی ریکارڈنگ کے لئے یکم جولائی کی تاریخ مقرر کی۔ یہاں اس بات کا تذکرہ دلچسپ ہوگا کہ راجہ خود اپنے دفاع کے لئے خود کو ہی گواہ کے طور پر پیش کرنا چاہتے ہیں جس کے لئے انھوں نے جو درخواست داخل کی ہے، اس میں ان کے دستخط موجود ہیں جس پر جج نے فوری طور پر فیصلہ سناتے ہوئے کہا کہ سی بی آئی کو جب کوئی اعتراض نہیں ہے تو ملزم راجہ کو خود اپنے آپ کو گواہ کے طور پر پیش کئے جانے کی اجازت ہے۔

البتہ جج نے یہ وضاحت کردی ہے کہ راجہ کو یہ بات بالکل واضح طور پر کہنی چاہئے کہ آیا یکم جولائی کو خود اپنے دفاع کے لئے راجہ بہ نفس نفیس عدالت میں موجود ہوں گے یا ان کی جگہ پر کسی اور گواہ کو پیش کیا جائے گا؟ عدالت نے اس کے علاوہ سابق ٹیلی کام سکریٹری سدھارتھ بیہورا، یونی ٹیک لمیٹیڈ ایم ڈی سنجے چندرا، ریلائنس ADAG ایگزکیٹیوز سریندر پپارا اور ہری نائر، بالی ووڈ پروڈیوسر کریم مورانی، کلائگنار ٹی وی ایم ڈی شرد کمار اور خاطی کمپنی یونی ٹیک وائرلیس (ٹامل ناڈو) پرائیویٹ لمیٹیڈ کی داخل کردہ درخواستوں کو بھی منظور کیا ہے جہاں انھوں نے اپنے دفاع کے لئے گواہوں کو پیش کرنے کی خواہش کی۔ عدالت نے مندرجہ بالا تمام کو ہدایت کی ہے کہ وہ اس بات کو یقینی بنائیں کہ ان کے گواہان عدالت میں جولائی 2014ء کے پہلے یا دوسرے ہفتہ کے دوران موجود رہیں۔ انکے علاوہ ڈی ایم کے ایم پی کنی موزھی، ریلائنس ADAG ایگزیکٹیو گوتم دوشی، سوان ٹیلی کام پروموٹر ونود گوئنکا، ریلائنس ٹیلی کام لمیٹیڈ اور سوان ٹیلی کام پرائیویٹ لمیٹیڈ نے واضح کیا کہ وہ اپنے دفاع کیلئے کسی گواہ کو پیش کرنا نہیں چاہتے۔

TOPPOPULARRECENT