Tuesday , November 21 2017
Home / شہر کی خبریں / 4 فیصد نامزد عہدے مسلمانوں کیلئے مختص کرنے کی کے سی آر سے اپیل

4 فیصد نامزد عہدے مسلمانوں کیلئے مختص کرنے کی کے سی آر سے اپیل

حیدرآباد ۔20اگست ( سیاست نیوز) ریاست تلنگانہ میں مسلمانوں کی ترقی کیلئے تمام مسلم قائدین کو  متحدہ جدوجہد کرنا ہوگا ۔ بلالحاظ پارٹی مسلمانوں کو چاہیئے کہ وہ چیف منسٹر کے چندر شیکھر راؤ اور ڈپٹی چیف منسٹر محمود علی کی مسلم مسائل کے علاوہ مسلمانوں کی ترقی کے اقدامات پر توجہ مرکوز کروائیں ۔ ان خیالات کا اظہار معروف وکیل مسٹر رماکانت ریڈی نے کیا ۔ انہوں نے کہاکہ چونکہ 12فیصد تحفظات پر عمل آوری کیلئے وقت لگ سکتا ہے‘ اس لیے موجودہ 4 فیصد پر موثر عمل آوری پر زور دیں ۔ مسٹر رماکانت ریڈی نے کہا کہ ریاست تلنگانہ میں نامزد عہدوں کے علاوہ ایسے کئی محکموں میں مواقع موجود ہیں جہاں مسلمانوں کی نمائندگی نہ کے برابر ہے ۔مسلم قائدین کو چاہیئے کہ وہ متحدہ جدوجہد کو اولین ترجیح دیتے ہوئے مسلمانوں کی ترقی کو یقینی بناسکتے ہیں ۔ ایڈوکیٹ رماکانت ریڈی کا کہنا ہے کہ ریاست تلنگانہ میں 64 اسٹینڈنگ کونسل ہیں جہاں حکومت وکلاء کو مقرر کرتے ہوئے خدمات حاصل کررہی ہیں جبکہ مسلمانوں میں قابل ترین وکلاء کی ایک اچھی خاصی تعداد موجود ہے ‘ باوجود اس کے صرف دو مسلم وکلاء کا تقرر ہو پایا ہے ۔ مسلم قائدین کی متحدہ کوششیں ہونی چاہیئے کہ وہ اس خلاء کو پُر کرنے اور جامع منصوبہ بندی کے تحت حکومت کی توجہ مبذول کروائیں ۔ سینیئر ایڈوکیٹ نے چیف منسٹر تلنگانہ مسٹر چندر شیکھر راؤ اور ڈپٹی چیف منسٹر جناب محمد محمود علی سے اپیل کی ہے کہ ہر اس شعبہ میں یا جب کبھی نامزد عہدوں میں نشستیں مخلوعہ ہوں کم از کم 4 فیصد مسلمانوں کو نامزد کریں ۔ سینئر ایڈوکیٹ مسٹر رماکانت ریڈی نے کہاکہ تلنگانہ کی تشکیل کیلئے جو جدوجہد کی گئی اور جو تحریک چلائی گئی ان میں مسلمان بھی شامل تھے ‘ انہوں نے کہا کہ متحدہ ریاست میں آندھرائی حکمرانوں نے جس سازش اور منصوبہ کے تحت مسلمانوں کو ترقی سے دور رکھا اور اجنبی بنائے رکھا ‘ موجودہ ریاست تلنگانہ میں اس سلسلہ کو توڑنا چاہیئے اور مسلمانوں کو دوسرے طبقات کے برابر ترقی دی جانی چاہیئے ۔ انہوں نے کہا کہ تلنگانہ ریاست ہر تلنگانہ شہری کا خواب تھا اور بالخصوص مسلمان اس ریاست کے قیام کا خواب دیکھ رہے تھے اور ایک حسرت بھری نگاہ سے مسلمانوں کی ترقی کے اقدامات کے منتظر ہیں‘ انہیں اب مایوس نہیں کرناچاہیئے ۔ لہذا مسلم قائدین کو چاہیئے کہ وہ متحدہ طور پر مسلمانوں کی ترقی کیلئے جدوجہد کریں ۔ انہوں نے بتایا کہ ہائیکورٹ میں 317 رجسٹرڈ مسلم وکلاء موجود ہیں اور جو اپنا  نام رجسٹرڈ نہیں کروایا ‘ ان کی تعداد رجسٹرڈ  کروانے والوں سے سے دگنی ہے ‘ ہر کسی کا خواب ہے کہ  وہ ترقی کریں ۔ سینئر ایڈوکیٹ رما کانت ریڈی نے مسلمانوں کو ترقی کیلئے جدوجہد کرنے پر زور دیا اور چیف منسٹر کے چندر شیکھر راؤ سے اپیل کی کہ وہ مسلمانوں کی ترقی کے اقدامات کریں ۔ مسٹر رماکانت ریڈی سینئر ایڈوکیٹ ہونے کے علاوہ  ان کا تعلق تلنگانہ کے معروف سیاسی خاندان سے ہے ۔ ضلع رنگاریڈی جس کے نام سے موسوم ہے وہ ان کے نانا کے وی رنگا ریڈی تھے جو سابق میں ڈپٹی چیف منسٹر رہ چکے ہیں ۔ جس وقت وقف اراضیات اور جاگیر ابالیشن کا مسئلہ تھا ‘ کے وی رنگا ریڈی مسلمانوں کے حق میں جدوجہد کی تھی اور جس وقت سنٹرل ایکٹ تشکیل دیا گیا اور ریاستوں کو اختیار تھا کہ وہ اپنی ریاست میں چاہے تو وقف بورڈ تشکیل دے سکتے ہیں ‘ اس وقت کے وی رنگاریڈی نے جدوجہد کرتے ہوئے ریاست میں وقف بورڈ کی تشکیل کروائی اور اب اس خاندان کے ایک رکن ہونے کی حیثیت سے رماکانت ریڈی مسلمانوں کی ترقی کیلئے اپنی طرف سے کوشش کرنے میں مصروف ہیں ۔

TOPPOPULARRECENT