Friday , November 24 2017
Home / شہر کی خبریں / ف40 فیصد پانی سے حکومت کو کوئی آمدنی نہیں ، واٹر ورکس کو خسارہ

ف40 فیصد پانی سے حکومت کو کوئی آمدنی نہیں ، واٹر ورکس کو خسارہ

آلودہ پانی سے بچانے پائپ لائن کی درستگی ، اسمبلی میں وزیر بلدی نظم و نسق کا بیان
حیدرآباد۔/22ڈسمبر، ( سیاست نیوز) وزیر بلدی نظم و نسق کے ٹی راما راؤ نے کہا کہ حیدرآباد کو آلودہ پانی کی سربراہی سے بچانے کیلئے پائپ لائن کی درستگی کا کام بڑے پیمانے پر انجام دیا گیا اور 2009-14 کے درمیان991 کلو میٹرس طویل پائپ لائن کی نشاندہی کی گئی جس کے لئے مرمت کا کام کیا جانا تھا جس پر 1152کروڑ روپئے کی مالیت کا تخمینہ کیا گیا۔ انہوں نے بتایا کہ 476 کلو میٹر طویل پائپ لائن کو تبدیل کردیا گیا ہے جبکہ باقی کام مرحلہ وار انداز میں مکمل کیا جائے گا۔ اسمبلی میں وقفہ سوالات کے دوران شہر کے ارکان اسمبلی کے سوال پر کے ٹی راما راؤ نے بتایا کہ ناقص پائپ لائن کے سلسلہ میں کئے گئے سروے میں مزید 819کلو میٹر طویل لائن میں خرابی کا پتہ چلا ہے جس کی تبدیلی ضروری ہے۔ اس طرح جملہ 1334 کلو میٹر پائپ لائن گریٹر حیدرآباد میونسپل کارپوریشن کے علاقہ میں تبدیلی کی منتظر ہے۔ انہوں نے بتایا کہ 691 کلو میٹرس پائپ لائن کی تبدیلی کا کام جاری ہے۔ کے ٹی آر کے مطابق باقی 465کلو میٹر کے کام کی تکمیل کیلئے 502 کروڑ روپئے درکار ہیں جس کے لئے ہڈکو سے مدد حاصل کی گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ پائپ لائنس کی تبدیلی اور مرمت کے کام مرحلہ وار انداز میں مکمل کئے جائیں گے۔ کے ٹی آر نے اس سلسلہ میں حیدرآباد کے 3 بلدی سرکلس اور مختلف ڈیویژنس میں ناقص پائپ لائن اور اس کے لئے درکار بجٹ کی تفصیلات جاری کی ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ حکومت حیدرآباد میٹرو واٹر ورکس اینڈ سیوریج بورڈ کو قدیم اور ناقص پائپ لائن کی تبدیلی کیلئے امداد فراہم کررہی ہے تاکہ عوام کو صاف پینے کا پانی سربراہ کیا جاسکے۔ انہوں نے کہا کہ جن علاقوں میں آلودہ پانی کی شکایات موصول ہوئی ہیں وہاں ٹینکرس کے ذریعہ سربراہی کا کام انجام دیا جارہا ہے۔ مجلس اور بی جے پی کے ارکان نے ضمنی سوالات کے تحت شہر میں ناقص پائپ لائن کے سبب پانی کے ضائع ہونے کی شکایت کی۔ ارکان نے کہا کہ کئی علاقوں میں پانی کی سربراہی بری طرح متاثر ہوئی ہے اور نظام دور حکومت کی پائپ لائن ابھی بھی برقرار ہے۔ ارکان اسمبلی نے شہر کو سربراہ کرنے والے ذخائر آب کے تحفظ کی تجویز پیش کی اور گوداوری اور کرشنا کے زیر تکمیل کاموں کی جانب حکومت کی توجہ مبذول کرائی۔ مجلسی ارکان نے پرانے شہر کے مختلف علاقوں میں پانی کی سربراہی میں رکاوٹوں اور مختلف زیر التواء کاموں کی تکمیل کا مطالبہ کیا۔ ارکان کے ضمنی سوالات پر کے ٹی راما راؤ نے کہا کہ شہر میں روزانہ 602 ملین گیلن پانی مختلف ذخائر آب سے سربراہ کیا جارہا ہے جس میں عثمان ساگر 25 ملین گیلن، حمایت ساگر 15، سنگور 75 ، مانجرا 45 ، کرشنا 270 اور گوداوری 172 ملین گیلن شامل ہیں۔ انہوں نے کہا کہ حیدرآباد میں پانی کے ضائع ہونے کی کئی وجوہات ہیں۔ شہر میں میٹرو واٹر ورکس کے کنکشنس کی تعداد 9 لاکھ 2000 ہے جبکہ میٹرس کی تعداد ایک لاکھ 60ہزار ہے۔ حکومت میٹرس کی تنصیب کے اقدامات کررہی ہے۔ اس کے علاوہ بعض کمرشیل اداروں نے گھریلو کنکشن حاصل کیا ہے جنہیں باقاعدہ بنایا جائے گا۔ کے ٹی آر نے بتایا کہ شہر میں 40 فیصد پانی سے واٹر ورکس کو کوئی آمدنی نہیں ہے۔ اس خسارہ کو 20 فیصد کرنے کے اقدامات کئے جارہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ 3331 بورویلس اور 100 واٹر ٹینکرس بھی واٹر ورکس کے تحت پانی کی سربراہی میں اہم رول ادا کررہے ہیں۔ حیدرآباد واٹر ورکس ادارہ کو مستحکم کرنے کیلئے حکومت کے اقدامات کا ذکر کرتے ہوئے کے ٹی آر نے کہا کہ کانگریس دور حکومت میں 5 برسوں میں 337 کروڑ روپئے جاری کئے گئے تھے جبکہ تلنگانہ حکومت نے صرف 2 سال میں 261 کروڑ روپئے واٹر ورکس اینڈ سیوریج بورڈ کو جاری کئے ہیں۔ حکومت اس ادارہ کو خودمکتفی بنانے کی کوشش کررہی ہے۔ واٹر ورکس بورڈ کی سالانہ آمدنی 93 کروڑ ہے جبکہ خرچ 115 کروڑ کا ہے۔ اس فرق کو حکومت پورا کررہی ہے۔ گزشتہ دو برسوں کے دوران 448 کروڑ مالیتی 7624 کاموں کی منظوری دی گئی۔ انہوں نے بتایا کہ نورخاں بازار علاقہ میں  اوورہیڈ ریزروائر کا کام مارچ 2017 تک مکمل کرلیا جائے گا۔ کے ٹی آر کے مطابق پرانے شہر میں سیوریج لائنس کے 1200 کروڑ مالیاتی پراجکٹس منظور کئے گئے ہیں۔ آؤٹر رنگ روڈ کے علاقہ کو بھی واٹر ورکس کے تحت شامل کیا جائے گا جس سے اس کی آمدنی میں اضافہ ہوسکتا ہے۔

TOPPOPULARRECENT