Thursday , December 14 2017

برمنگھم ۔ 28 جولائی ۔ ( سیاست ڈاٹ کام )جوروٹ کو اعتماد ہے کہ آسٹریلیا کے مچل جانسن کی قیادت والے پیس اٹیک کیخلاف انگلینڈ کا حالیہ بکھراؤ انھیں تیسرے ایشز ٹسٹ میں پریشان نہیں کرے گا جو کل ایجبسٹن میں شروع ہورہا ہے ۔ لیفٹ آرم فاسٹ بولر جانسن نے 2013-14 ء کے ایشز میں وطن میں کھیلتے ہوئے انگلینڈ کو 5-0 سے شکست فاش دینے میں اہم رول ادا کیا تھا ۔ انھوں نے 14 رنز فی وکٹ کے اوسط سے 37و کٹیں لئے تھے اور آسٹریلیا نے ایشز دوبارہ حاصل کرلیا تھا۔ تاہم کارڈف میں جو رواں ایشز مہم کا افتتاحی میچ رہا ، آسٹریلیا کی 169 رنز کی شکست کی پہلی اننگز کے دوران جانسن کو کوئی وکٹ نہ ملنے پر انگلینڈ کے شائقین نے اُن کا کافی مذاق اُڑایا تھا ۔ مگر دوسرے ٹسٹ منعقدہ لارڈس میں معاملہ بالکلیہ مختلف ثابت ہوا جہاں جانسن نے میچ میں 6/80 کے اعداد و شمار درج کرائے اور آسٹریلیا نے 405 رنز کی غیرمعمولی جیت کے ساتھ پانچ میچ کی سیریز 1-1 سے برابر کردی ۔ انگلینڈ کے کیپٹن السٹر کک بھلے ہی آسٹریلیائی ہم منصب مائیکل کلارک کے مقابل بہتر فام میں ہیں لیکن اس کا کچھ خاص فائدہ نہیں ہوا کیونکہ میزبانوں کا اسکور جانسن کی جانب سے تین وکٹیں تیزی سے لینے کے بعد دوسری اننگز میں 103 آل آؤٹ تک محدود رہ گیا۔ مگر پرجوش روٹ کا کہنا ہے کہ صرف ایک شخص کے سر جیت کا سہرا نہیں باندھا جاسکتا۔

آپ کارڈف ٹسٹ کا جائزہ لیں جہاں جانسن کو مجموعی طورپر کافی رنز خرچ کرنے کے بعد صرف دو وکٹیں حاصل ہوئے۔ انگلینڈ نے لارڈس کی شکست کے بعد اپنی ٹیم ترکیب میں تبدیلی لاتے ہوئے گیری بیلنس کو ڈراپ کردیا اور تجربہ کار ای این بیل کو بیلنس کی نمبر تین پوزیشن پر آگے بڑھایا ہے ۔ جانی بیرسٹواپنے یارکشائر رفیق کی جگہ ٹیم میں شامل کئے جارہے ہیں۔ اس سال انگلینڈ نے ویسٹ انڈیز اور نیوزی لینڈ کے مقابل شکستوں کے بعد تیزی سے واپسی کرتے ہوئے اپنا اگلا ہی ٹسٹ جیتا ہے ۔ اب دیکھنا ہے وہ آسٹریلیا کے خلاف بھی اس رجحان کے مطابق مظاہرہ کرپاتے ہیں یا نہیں ۔

TOPPOPULARRECENT