Sunday , December 17 2017
Home / Ads Others / کانگریسی ارکان لوک سبھا کی معطلی کے خلاف دونوں ایوانوں میں احتجاج

کانگریسی ارکان لوک سبھا کی معطلی کے خلاف دونوں ایوانوں میں احتجاج

لوک سبھا اجلاس سے اپوزیشن کا واک آؤٹ، راجیہ سبھا کا اجلاس دو بار ملتوی، حکومت مخالف نعرے

نئی دہلی۔ 7 اگست (سیاست ڈاٹ کام) کانگریس کے معطل 25 ارکان آج ایک بار پھر بائیں بازو، سماج وادی پارٹی اور راشٹریہ جنتادل کے احتجاج کا کلیدی مسئلہ بنے رہے۔ ان ارکان نے نعرہ بازی کی اور لوک سبھا اجلاس سے واک آؤٹ کیا۔ ایوان کی کارروائی کا آغاز ہوتے ہی سماج وادی پارٹی رکن دھرمیندر یادو اور آر جے ڈی رکن جئے پرکاش نارائن یادو نے کانگریسی ارکان کی 5 روزہ معطلی منسوخ کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے نعرہ بازی کی۔ ان کے ساتھ بائیں بازو کی پارٹیاں بھی شامل ہوگئیں۔ اسپیکر سمترا مہاجن نے نشاندہی کی کہ ارکان نے کوئی تحریری نوٹس نہیں دی ہے، تاہم وہ یہ مسئلہ وقفہ صفر کے دوران اٹھانے کی اجازت دے سکتی ہیں۔ اپوزیشن ارکان نے نعرہ بازی جاری رکھی۔ مرکزی وزیر برائے پارلیمانی امور ایم وینکیا نائیڈو نے کہا کہ اگر نعرہ بازی اس بات کی ضمانت ہے کہ معطل ارکان اسپیکر کے ساتھ تعاون کریں گے اور ایوان کی کارروائی بلارکاوٹ جاری رہنے دیں گے اور ان کا رویہ توقعات کے مطابق ہوگا تو اس صورت میں وہ یہ مسئلہ اٹھا سکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ انہیں خوشی ہیکہ کارروائی کا بائیکاٹ کرنے والوں کو اپنے اقدام پر ’’عوامی ردعمل‘‘ کا احساس ہوگیا ہے۔ اس مرحلہ پر اپوزیشن ارکان نے واک آؤٹ کیا۔ آر جے ڈی کے خارج شدہ رکن پپو یادو صرف ان دو اپوزیشن ارکان میں سے ایک تھے جو اپوزیشن کے واک آؤٹ کے باوجود اپنی نشستوں پر بیٹھے ہوئے تھے۔ دوسرے رکن انا ڈی ایم کے کے پی وینو گوپال تھے۔ بعدازاں پپو یادو نے بہار میں ابتر ہوتی ہوئی نظم و ضبط کی صورتحال کا مسئلہ اٹھایا۔ راجیہ سبھا میں بھی کانگریس ارکان کا شوروغل لنچ سے پہلے کے اجلاس کے دوران جاری رہا۔ وقفہ صفر اور وقفہ سوالات منعقد نہیں کیا جاسکا کیونکہ کانگریسی ارکان ایوان کے وفد میں جمع ہوگئے تھے اور نعرہ بازی کررہے تھے۔ چنانچہ ایوان کا اجلاس اپنے آغاز کے فوری بعد ملتوی کردیا گیا۔
چیف الیکشن کمشنر کی بہار کے سیاسی قائدین سے ملاقات
پٹنہ /7 اگست (سیاست ڈاٹ کام) چیف الیکشن کمشنر نسیم زیدی کی زیر قیادت الیکشن کمیشن کی ٹیم آج پٹنہ پہنچ گئی۔ یہ ٹیم اپنے دو روزہ دورہ کے دوران بہار اسمبلی کے آنے والے انتخابات کا جائزہ لے گی۔ الیکشن کمشنر اچل کمار جیوتی اور ڈپٹی الیکشن کمشنر اومیش سنہا، بہار کی سیاسی پارٹیوں کے نمائندوں سے علحدہ علحدہ ملاقات کریں گے اور انتخابات سے متعلق ان کی تجاویز کی سماعت کریں گے۔ حکمراں پارٹی جنتادل (یو) کے وفد نے الیکشن کمیشن کو یادداشت پیش کرتے ہوئے منصفانہ اور آزادانہ انتخابات کو یقینی بنانے پر زور دیا ہے۔

 

دہشت گرد حملوں پر پاکستان کو بے نقاب کرنے ارکان لوک سبھا کا مطالبہ
نئی دہلی /7 اگست (سیاست ڈاٹ کام) گرداسپور اور ادھم پور دہشت گرد دھماکوں کے پس منظر میں لوک سبھا میں تمام ارکان نے آج سیاسی وابستگی سے بالاتر ہوکر حکومت پر زور دیا کہ سرحد پار سے ابھرنے والے اس چیلنج سے نمٹنے کے لئے سخت ترین اقدامات کئے جائیں، پاکستان کو بے نقاب کرنے کے لئے مہم شروع کی جائے اور دہشت گردوں کے خلاف مقدمہ چلانے کے لئے فاسٹ ٹریک (سریع السماعت) عدالتیں قائم کی جائیں۔ شیو سینا کے رکن ونایک راوت نے ادھم پور حملے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ زندہ پکڑے جانے والے دہشت گرد پر مقدمہ چلانے کے لئے سریع السماعت عدالت قائم کی جائے، تاکہ اس کو بعجلت ممکنہ سزا دی جاسکے۔ ایسے اقدام دوسروں کے لئے بھی عبرت ثابت ہوسکتے ہیں۔ راوت نے کہا کہ زندہ پکڑے جانے والے دہشت گرد کو سزا دینے کے لئے یعقوب میمن کی طرح 20 سال تک مقدمہ نہیں چلایا جانا چاہئے، بلکہ جلد سزا دی جائے، تاکہ دوسروں کو اس سے سبق حاصل ہوسکے، جو اس قسم کے حملے کرنے کے لئے ہندوستان آنا چاہتے ہیں۔ بی جے پی کے راجندر اگروال نے ادھم پور حملے کو بھی گرداسپور میں گزشتہ ہفتہ کئے گئے حملے کی طرح دہشت گردی کا واقعہ قرار دیا اور پاکستان کو بے نقاب کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔ انھوں نے کہا کہ ادھم پور حملے میں زندہ پکڑے جانے والے قاسم خاں (نوید) کی طرف سے دی گئی معلومات سے اس واقعہ میں پاکستان کے راست ملوث ہونے کا ثبوت ملتا ہے۔ دہشت گرد ہندوستان میں دراندازی کر رہے ہیں اور یہاں حملے کر رہے ہیں۔ اس قسم کے حملے روکتے ہوئے ہمارے سپاہی شہید ہوئے ہیں۔ انھوں نے کہا کہ پاکستانی منصوبوں کو بے نقاب کرنے کے لئے قومی سطح پر خصوصی مہم چلانے کی ضرورت ہے۔ پاکستان کو چاہئے کہ وہ اپنی سرزمین پر واقع تمام دہشت گرد کیمپوں کو ختم کرے، تاکہ مستقبل میں ایسے حملے نہ ہوسکیں۔

TOPPOPULARRECENT