Saturday , December 16 2017

سابق ماؤنواز و خوفناک گینگسٹر بھونگیر نعیم انکاؤنٹر میںہلاک
شادنگر میں سنسنی خیزواقعہ ‘ کار سے اسلحہ برآمد‘ بشمول بیوی بچے 11افراد گرفتار ‘ 3ٹھکانوں پر دھاوے 3.8کروڑ روپئے نقدضبط

حیدرآباد۔ 8 اگست (سیاست نیوز)   تلنگانہ پولیس کو آج زبردست کامیابی ملی جب ایک خوفناک ماؤنواز سے جرائم کی ٹولی کا سرغنہ بننے والے محمد نعیم الدین عرف بھونگیر کو ضلع محبوب نگر کے شادنگر ٹاؤن کے قریب فائرنگ کے تبادلہ کے دوران ہلاک کردیا گیا ۔ بھونگیر نعیم قتل ‘ جبری وصولی ‘ فائدہ کے لئے قتل‘ اراضی کی معاملتوں اور دیگر جرائم کے کم سے کم 100مقدمات میں پولیس کو شدت سے مطلوب تھا ۔ 45سالہ بھونگیر نعیم جو’’ بالنا ‘‘کے نام سے بھی مشہور تھا ۔ 1993ء میں ایک سینئر آئی پی ایس افسرایس ویاس کے قتل میں بھی ملوث تھا ۔ وہ 1990ء کے دوران بھونگیر ڈگری کالج میں تعلیم کے دوران سابق پیپلز وار گروپ کے نظریات سے متاثر ہوگیا تھا ۔ بعدازاں وہ 1991ء میں سی پی آئی ( ایم ایل) پیپلز وار گروپ کی طلبہ تنظیم آر ایس یو میں شامل ہوگیا تھا ۔ ماؤنواز تحریک سے علحدگی اختیار کرنے کے بعد بھونگیر نعیم کچھ عرصہ خود پولیس کا مخبر بن کر چند اہم ماؤنواز قائدین کا مبینہ طور پر قتل کیا ۔ بعدازاں وہ جرائم کی دنیا سے وابستہ ہوکر کروڑ ہا روپئے کمانے کی چکر میں اغوا ‘ قتل ‘ جبری وصولی ‘ اراضی کی معاملتوں اور غنڈہ گری کے دیگر واقعات میں ملوث ہوگیا تھا ۔تفصیلات کے بموجب شادنگر ٹاؤن میں آج صبح گرے ہاؤنڈس کی ایک پارٹی نے نعیم کو نشانہ بناتے ہوئے اسے موت کے گھاٹ اُتار دیا جبکہ پولیس نے دعویٰ کیا ہے کہ جبراً وصولی کے ایک کیس کی تحقیقات کررہی ضلع نظام آباد کی ڈچپلی پولیس پارٹی نے نعیم کا تعاقب کرتے ہوئے اُسے گرفتار کرنے کی کوشش کی لیکن اُس نے پولیس پارٹی پر فائرنگ کردی جس کے نتیجہ میں اُسے گولی مارکر ہلاک کردیا گیا۔

پولیس نے نعیم کے انکاؤنٹر کے بعد اس کے افراد خاندان بشمول بیوی و دیگر رشتہ دار فرحانہ، آسیہ عرف افشاں ، بچوں14 سالہ احد الدین ، 11 سالہ دلشاد الدین ، 8 سالہ صفاء جملہ 11 افراد جس میں 19 سالہ ریشماں ، 17 سالہ نازیہ ، 10 سالہ سائرہ اور 11 سالہ سلیم پاشاہ کو گرفتار کرلیا۔ انکاؤنٹر کے فوری بعد سائبرآباد ویسٹ اور ایسٹ کمشنریٹ حدود میں نعیم کی خفیہ پناہ گاہوں پر پولیس نے دھاوے کرتے ہوئے 3.5 کروڑ روپئے نقد رقم ، 1.93کیلو طلائی زیورات ، 10 جلیٹن اسٹکس (دھماکو اشیاء) ، 7 پستول ، گاڑیاں اور سینکڑوں اراضیات سے متعلق دستاویزات ضبط کرلئے۔   محمد نعیم الدین عرف بھونگیر نعیم سینکڑوں قتل ، جبراً وصولی اور اغواء کی وارداتوں میں ملوث تھا اور سی بی آئی کو بھی اُس کی تلاش تھی۔ نعیم کے ہمراہ اُس کے افراد خاندان بھی موجود تھے جنھیں پولیس تلاشی کے لئے لے گئی جبکہ اُس کے ساتھ موجود تین ساتھیوں کو بھی گرفتار کرتے ہوئے حیدرآباد لے جایا گیا ۔

سہراب الدین فرضی انکاؤنٹر کیس معاملے میں سنٹرل بیورو انوسٹی گیشن (سی بی آئی ) کی خصوصی ٹیم چند سال قبل بھونگیر نعیم کا تعاقب کرتے ہوئے حیدرآباد پہونچی تھی اور اُس کی تلاش میں کئی مقامات پر دھاوے کئے تھے جس کے نتیجہ میں وہ سی بی آئی کو چکمہ دے کر فرار ہونے میں کامیاب ہوگیا تھا ۔ 45 سالہ محمد نعیم الدین ولد خواجہ نصیرالدین متوطن ضلع نلگنڈہ بھونگیر ٹاؤن سال 1990ء میں سی پی آئی ایم ایل پیپلزوار گروپ میں شمولیت اختیار کی تھی اور بعد ازاں وہ 1991 ء میں ریاڈیکلس اسٹوڈنٹس یونین (آر ایس یو) بھونگیرکا صدر بنا ۔ نعیم کو یادگیر گٹہ پولیس نے طفنچہ اور گرینائیڈ رکھنے کے الزام میں گرفتار کیا تھا لیکن جیل سے رہا ہونے کے بعد اُس نے پیپلز وار گروپ (پی ڈبلیو جی ) نکسلائیٹ تنظیم کے آلیرو دلم میں شامل ہوگیا اور اُسے بالنا کے نام سے جانا تھا ۔ نعیم کی قیادت میں نکسلائیٹ کی ایک ایکشن ٹیم نے 27 جنوری 1993 ء کو سینئر آئی پی ایس عہدیدار و گرے ہانڈس فورس کے بانی کے ایس ویاس کو لال بہادر اسٹیڈیم میں گولی مارکر قتل کردیا تھا جس کے نتیجہ میں اُسے پولیس نے گرفتار کرتے ہوئے اُس کے قبضہ سے اسلحہ برآمد کیا تھا ۔ غیرقانونی سرگرمیوں کے نتیجہ میں نکسلائیٹس تنظیم نے اُسے پارٹی سے خارج کردیا تھا ۔ سال 2000 ء میں جیل سے رہا ہونے کے بعد اُس نے اے پی سی ایل سی کے لیڈر کرنم پرشوتم کا کتہ پیٹ علاقہ میں بہیمانہ طورپر قتل کردیا تھا۔

 

سہراب فرضی انکاؤنٹر میں نعیم کا اہم رول
حیدرآباد۔ 8 اگست (سیاست نیوز) گرے ہاؤنڈس کے ہاتھوں ہلاک ہونے والے بدنام زمانہ سابق نکسلائٹ محمد نعیم الدین عرف بھونگیر نعیم نے مبینہ طور پر سہراب الدین فرضی انکاؤنٹر میں اہم رول ادا کیا تھا۔ سنٹرل بیورو آف انوسٹی گیشن (سی بی آئی) کی ٹیم جو سال 2005ء سہراب الدین فرضی انکاؤنٹر اور کوثر بی کے قتل کی تحقیقات کے سلسلے میں حیدرآباد آئی تھی اور یہ انکشاف کیا تھا کہ بھونگیر نعیم نے سہراب الدین کو اس کی بیوی کے روحانی علاج کے بہانے حیدرآباد بلاتے ہوئے گجرات پولیس ٹیم کے حوالے کردیا تھا۔ افضل گنج سے سنگیتا ٹراویلس کی بس میں سوار ہونے والے سہراب الدین شیخ اور اس کی بیوی کوثر بی کو سانگلی (مہاراشٹرا)  جانے کے دوران گجرات پولیس کی ٹیم نے ان کا اغوا کرلیا تھا اور بعدازاں فرضی انکاؤنٹر میں انہیں ہلاک کرتے ہوئے بیوی کی عصمت ریزی کے بعد نعش کو جلا دیا تھا۔ سہراب الدین معاملہ کی تحقیقات کررہی سی بی آئی ٹیم حیدرآباد پہنچ کر بھونگیر نعیم کے بھانجے داماد فہیم الدین کو سی بی آئی کے دفتر تحقیقات کے سلسلے میں طلب کیا تھا، جس کے بعد پراسرار طور پر لاپتہ ہوگیا تھا اور اس سلسلے میں سی بی آئی کے خلاف آندھرا پردیش ہائیکورٹ میں رِٹ درخواست بھی داخل کی گئی تھی۔

بھونگیر نعیم سے سازباز‘ تین رپورٹرس زیرحراست
حیدرآباد ۔ 8 اگسٹ ۔ ( سیاست نیوز) سابق نکسلائیٹ بھونگیر نعیم سے مبینہ ساز باز رکھنے کے الزام میں پولیس نے تین رپورٹرس کو حراست میں لے لیا ۔ باوثوق ذرائع نے بتایا کہ بدنام زمانہ نعیم کے مجرمانہ سرگرمیوں میں اُس کی پشت پناہی کرنے اور مالی معاملات میں شامل ہونے والے مقامی ٹی وی چینلس کے تین رپورٹرس نوین ، سدھاکر اور وجئے کو پولیس نے حراست میں لے لیا ہے ۔ باور کیا جاتا ہے کہ مذکورہ افرادنے نعیم کے ہمراہ 35 کروڑ مالیتی اراضیات کے معاملات کئے جس کی تحقیقات کیلئے انکاؤنٹر کے فوری بعد اُنھیں حراست میں لے لیا گیا ۔ سینئر پولیس عہدیداروں نے بتایا کہ مقامی اسٹنگرس کی مدد سے نعیم اپنی غیرقانونی سرگرمیاں جاری رکھے ہوئے تھا ۔

TOPPOPULARRECENT