Friday , December 15 2017
Home / Top Stories / ٹرمپ کی صدارتی مہم کو تازہ جھٹکے ‘ مزید دو خواتین کا جنسی ہراسانی کا الزام

ٹرمپ کی صدارتی مہم کو تازہ جھٹکے ‘ مزید دو خواتین کا جنسی ہراسانی کا الزام

ریپبلیکن امیدوار پربوس و کنار اور دست درازی کا الزام ۔ الزامات ’ جھوٹ ‘ اور ذرائع ابلاغ کی سازش ۔ ڈونالڈ ٹرمپ کا رد عمل

واشنگٹن 15 اکٹوبر ( سیاست ڈاٹ کام ) امریکہ میں ریپبلیکن صدارتی امیدوار ڈونالڈ ٹرمپ کی پہلے سے متاثرہ صدارتی مہم کو مزید مسائل کا سامنا کرنا پڑا جبکہ مزید دو خواتین نے ان کے نامناسب رویہ کی شکایت کی ہے اور الزام عائد کیا کہ انہوں نے جنسی طور پر ہراساں کیا تھا ور انہوں نے ان خواتین کے ساتھ دست درازی کی تھی ۔ ریپبلیکن امیدوار نے تاہم ان الزامات کو جھوٹ قرار دیا ہے اور کہا کہ یہ ان کے خلاف میڈیا کا منصوبہ ہے ۔ ٹرمپ پر جنسی ہراسانی کے الزامات عائد کرنے والی خواتین کی فہرست میں اضافہ کرتے ہوئے ایک ریالٹی ٹی وی شو کی شریک سمر زروس نے الزام عائد کیا کہ ڈونالڈ ٹرمپ نے 2007 میں اس کے ساتھ نامناسب جنسی رویہ اختیار کیا تھا اور اس کے ساتھ دست درازی کی تھی ۔ ٹرمپ نے نارتھ کیرولینا گرینس بورو میں کل رات ایک ریلی سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ یہ سب جھوٹ ‘ جھوٹ اور جھوٹ ہے ۔ ٹرمپ کے خلاف جنسی ہراسانی کے الزامات نیویارک ٹائمز اور دوسرے ذرائع ابلاغ کے اداروں میں عائد کئے گئے ہیں۔ ٹرمپ نے جیسیکا لیڈس نامی ایک خاتون پر بھی تنقید کی جس نے نیویارک ٹائمز سے کہا کہ ٹرمپ نے اس کے ساتھ دست درازی کی تھی اور اسے بوسہ دیا تھا جب وہ 1980 کی دہائی میں ایک طیارہ میں ساتھ سفر کر رہے تھے ۔ ٹرمپ نے کہا کہ ان کی بات پر یقین کیا جانا چاہئے کہ جیسیکا ان کی پہلی پسند نہیں ہوسکتی ۔

لاس اینجلس میں منعقدہ ایک پریس کانفرنس میں زروس نے الزام عائد کیا کہ ان کے ساتھ دست درازی کا واقعہ اس وقت پیش آیا جب وہ ریالٹی ٹی وی شو The Apprentice سے باہر ہوگئی تھیں اور انہوں نے ان کے گولف کورس میں کام کیلئے ٹرمپ سے رجوع ہوئی تھیں۔ زروس نے الزام عائد کیا کہ ابتدائی ملاقات میں ٹرمپ نے انہیں بوسہ دیا تھا اور بعد میں جب ٹرمپ لاس اینجلس آئے تو انہوں نے زروس سے بیورلی ہلز کی ایک ہوٹل میں ملنے کو کہا تھا ۔ انہوں نے یہ بھی سوال کیا کہ وہ عشائیہ کہاں کرنا پسند کرینگی ؟ ۔ زروس نے ادعا کیا کہ اسی وقت ٹرمپ نے ان کی سمت جنسی پیشرفت کی تھی اور ان کے ساتھ دست درازی کی تھی ۔ تاہم زروس کے ایک قریبی رشتہ دار جان بیری نے الزام عائد کیا کہ زروس کی پریس کانفرنس سستی شہرت حاصل کرنے کی کوشش ہے اور اتنے طویل عرصہ تک انہوں نے ٹرمپ کے خلاف کوئی بیان نہیں دیا تھا بلکہ ان کی ستائش کرتی رہی تھیں۔ کل شائع شدہ ایک رپورٹ میں کرسٹین اینڈرسن نے واشنگٹن پوسٹ سے کہا تھا کہ ٹرمپ نے 1990 کی دہائی کے اوائل میں ان کے ساتھ دست درازی کی تھی ۔ یہ واقعہ نیویارک کے ایک مقام پر پیش آیا تھا ۔ ٹرمپ نے نارتھ کیرولینا واقعہ کا تذکرہ کرتے ہوئے کہا کہ کوئی شو سے باہر آیا تھا ۔ وہ اس وقت ایک کلب میں تنہا بیٹھے تھے ۔ وہ عموما تنہا نہیں بیٹھتے ۔ تاہم واشنگٹن پوسٹ کا کہنا ہے کہ خود اینڈرسن نے بھی یہ نہیں کہا کہ ٹرمپ تنہا تھے ۔ ٹرمپ نے زروس کے الزامات کا بھی حوالہ دیا اور کہا کہ انہیں یاد ہے کہ مس زروس ایک ٹی وی شو میں مقابلہ کر رہی تھیں۔ بہت واضح ہے کہ انہوں نے اس دوشیزہ سے کسی ہوٹل میں ملاقات نہیں کی تھی اور نہ ہی ان کے ساتھ کوئی نامناسب رویہ اختیار کیا تھا ۔ انہوں نے کہا کہ وہ ایسی شخصیت نہیں ہے اور نہ ہی زندگی میں ان کا ایسا کوئی رویہ ہے ۔ دراصل مس زروس نے مدد کیلئے ان سے بارہا رابطہ کیا تھا ۔ ان کے دفتر کو ای میل روانہ کئے تھے اور خواہش کی تھی کہ وہ کیلیفورنیا میں ان سے ایک ریسٹورنٹ میں ملاقات کریں ۔ واضح رہے کہ ٹرمپ کے خلاف حالیہ عرصہ میں اس طرح کے الزامات میں تیزی آگئی ہے ۔ اس سے قبل کم از کم پانچ خواتین نے ٹرمپ کے خلاف جنسی ہراسانی کے الزامات عائد کئے تھے

 

ٹرمپ کا نیوجرسی میں ہندوستانی امریکیوں سے خطاب
واشنگٹن 15 اکٹوبر ( سیاست ڈاٹ کام ) ریپبلیکن صدارتی امیدوار ڈونالڈ ٹرمپ نیوجرسی میں ہندوستانی امریکیوں سے ایک امدادی تقریب میں خطاب کرنے والے ہیں جس کا دہشت گردی کے ہندو متاثرین کی جانب سے انعقاد عمل میں لایا جا رہا ہے ۔ ٹرمپ کل نیوجرسی میں ریپبلیکن ہندو اتحاد کی جانب سے منعقدہ کئے جانے والے اس پروگرام سے خطاب کرینگے اور جاریہ صدارتی انتخابی مہم میں وہ ایسا کرنے والے پہلے امیدوار ہونگے ۔ ریپبلیکن ہندو اتحاد کے صدر نشین و بانی شلبھ شلی کمار نے کہا کہ یہ تاریخ بننے جا رہی ہے ۔ ایسا امریکی صدارتی انتخاب میں پہلے کبھی نہیں ہوا ہے ۔ ایک امیدوار ایک ہندو تقریب میں شرکت کیلئے آ رہا ہے ۔ کمار نے اس پروگرام کو بالی ووڈ ‘ ٹالی ووڈ اور پنجابی پروگرام قرار دیا جس کا مقصد کشمیری اور ہندو پناہ گزینوں کی مدد کرنا ہے ۔ گذشتہ مہینے ایک مختصر ویڈیو پیام میں ٹرمپ نے اس تقریب میں اپنی شرکت کی توثیق کی تھی ۔ ٹرمپ نے کہا کہ ہندو برادری نے دنیا کی تہذیب میں زبردست رول ادا کیا ہے اور وہ امریکی کلچر کا بھی حصہ ہیں۔

TOPPOPULARRECENT