Friday , December 15 2017
Home / Top Stories / روس کے خلاف اوباما انتظامیہ کی تحدیدات برخواست کرنے کا اشارہ

روس کے خلاف اوباما انتظامیہ کی تحدیدات برخواست کرنے کا اشارہ

NEW YORK, JAN 14 :-U.S.President-elect Donald Trump speaks to members of the news media with television personality Steve Harvey (R) and businessman Greg Calhoun after their meeting at Trump Tower in New York, U.S., January 13, 2017. REUTERS-5R

ایک چین پالیسی پر بھی نظر ثانی ممکن ۔ چین پر کرنسی کا موقف بہتر بنانے دباؤ ۔ منتخب امریکی صدر ٹرمپ کا انٹرویو

واشنگٹن 14 جنوری ( سیاست ڈاٹ کام ) امریکہ کے منتخب صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے اشارہ دیا ہے کہ وہ روس پر عائد کردہ تحدیدات کو ختم کرسکتے ہیں اور ایک چین پالیسی کو بھی ختم کرسکتے ہیں اگر بیجنگ نے اپنی کرنسی کے موقف اور تجارتی طریقہ کار کو بہتر نہ بنائے ۔ ٹرمپ نے وال اسٹریٹ جرنل میں شائع اپنے ایک انٹرویو میں کہا کہ وہ کم از کم ایک مقرہ وقت کیلئے صدر بارک اوباما کے انتظامیہ کی جانب سے روس کے خلافر عائد کردہ تحدیدات کو برقرار رکھیں گے ۔ یہ تحدیدات گذشتہ مہینے عائد کئے تھے اور کہا تھا کہ یہ تحدیدات امریکی انتخابات پر اثر انداز ہونے کے مقصد سے کئے گئے سائبر حملوں کی وجہ سے عائد کئے گئے ہیں۔ ٹرمپ نے کہا کہ اگر روس نے امریکہ کے ساتھ اہم مقاصد جیسے پرتشدد تخریب کاری سے نمٹنے میں تعاون کیا تو پھر وہ روس پر عائد کردہ تحدیدات کو مکمل طور پر ختم کرسکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ وہ 20 جنوری کو امریکی صدارت سنبھالنے کے بعد روس کے صدر ولادیمیر پوٹین سے ملاقات کیلئے بھی تیار ہیں۔ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ وہ روس کے ساتھ دہشت گرد گروپس جیسے داعش سے مقابلہ کا موقع تلاش کرتے ہیں۔ انہوں نے ولادیمیر پوٹین کی ستائش بھی کی ہے ۔ انہوں نے پافی پس و پیش کے بعد امریکی انٹلی جنس کے اس نتیجہ کو قبول کیا تھا کہ روس کے ان ہیکرس نے جو ولادیمیر پوٹین کی اتھاریٹی میں کام کرتے ہیں امریکہ کے انتخابات میں مداخلت کی تھی ۔

امریکہ کی جانب سے تائیوان کو سفارتی طور پر قبول یا تسلیم نہ کرنے کے امریکہ کے دیرینہ طریقہ کار کا حوالہ دیتے ہوئے ڈونالڈ ٹرمپ نے کہا کہ اس مسئلہ پر ہر پہلو پر تبادلہ خیال کیا جا رہا ہے اور اس میں ایک چین پالیسی بھی شامل ہے ۔ ٹرمپ نے انتخابی میں کامیابی کے بعد تائیوان کے صدر تسئی اینگ وین کے مبارکبادی فون کال کو قبول کیا تھا جس پر چین نے برہمی کا اظہار کیا تھا ۔ ٹرمپ نے اس فون کال پر بات چیت کرتے ہوئے امریکہ کی دیرینہ روایت سے انحراف کیا تھا ۔ یہ روایت نہیں تھی کہ امریکی صدر نے کبھی تائیوان کے صدر سے راست بات چیت کی ہو۔ ٹرمپ نے وال اسٹریٹ جرنل کے اپنے انٹرویو میں فون پر بات چیت کی مدافعت کی ہے اور کہا کہ ہم نے تائیوان کو گذشتہ سال 2 بلین ڈالرس مالیتی فوجی آلات فروخت کئے ہیں۔ ہم انہیں مزید دو بلین ڈالرس مالیتی دیگر عصری فوجی آلات بھی فروخت کرسکتے ہیں اس کے باوجود انہیں فون پر بات چیت کا موقع نہیں دیا جاتا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ اگر وہ فون کال قبول نہ کرتے تو یہ بہت رویہ ہوتا ۔ چین کا ماننا ہے کہ تائیوان در اصل اس کا اپنی ہی الگ ہوا صوبہ ہے اور اسے چین کے حدود میں واپس لایا جائیگا اور اس کیلئے ضروری ہوا تو طاقت کا استعمال بھی کیا جائیگا ۔ ڈونالڈ ٹرمپ نے یہ بھی انتباہ دیا ہے کہ اگر چین نے اپنے تجارتی طریقہ کار میں بہتری پیدا نہیں کی تو وہ اس سے سختی سے نمٹیں گے ۔ انہوں نے تجویز کیا کہ دیگر تنازعات میں بھی ایک چین پالیسی کو امریکہ اپنے عزائم کی تکمیل کیلئے استعمال کرسکتا ہے ۔

 

ٹرمپ کے ساتھی کی روسی سفیر سے کئی ملاقاتیں
واشنگٹن 14 فبروری ( سیاست ڈاٹ کام ) امریکہ کے منتخب صدر ڈونالڈ ٹرمپ کے قومی سلامتی مشیر اور روسی سفیر برائے امریکہ نے حالیہ ہفتوں میں مسلسل ملاقاتیں کی ہیں۔ ان دونوں کی اس دن بھی ملاقات ہوئی تھی جس دن اوباما انتظامیہ نے انتخابات سے متعلق ہیکنگ کی پاداش میں ماسکو کے خلاف تحدیدات عائد کی تھیں۔ ایک سینئر امریکی عہدیدار نے یہ بات بتائی ۔ ابتداء میں یہ تردید کرنے کے بعد کہ ٹرمپ کے مشیر مائیکل فلن اور روسی سفارتکار سرگئی کس لیاک نے 29 ڈسمبر کو بات چیت کی تھی ٹرمپ کے ایک قریبی عہدیدار نے کل رات دیر گئے کہا کہ تبدیلی سے متعلق ٹیم اس بات سے واقف ہے کہ جس دن صدر اوباما  نے تحدیدات عائد کی تھیں اس دن دونوں کے مابین فون پر بات چیت ہوئی تھی ۔ حالانکہ یہ غیر معمولی بات نہیں ہے کہ کوئی اقتدار پر فائز ہونے والا انتظامیہ ذمہ داری سنبھالنے سے قبل ہی بیرونی حکومتوں سے مشاورت کرے لیکن جس دن اوباما نے تحدیدات عائد کی تھیں اسی دن بارہا رابطے کئی سوال پیدا کرتے ہیں ۔ یہ سوال کیا جا رہا ہے کہ آیا ٹرمپ کی ٹیم نے ان تحدیدات پر روس کے جواب پر تبادلہ خیال تو نہیں کیا یا پھر اسے کسی موقف کے اختیار کرنے میں مدد تو نہیں کی ۔ غیر متوقع طور پر روسی صدر ولادیمیر پوٹین نے اس کارروائی کے جواب میں امریکہ کے خلاف کوئی اقدام نہیں کیا ہے اور اس کی فوری طور پر ٹرمپ نے ستائش کی تھی ۔

TOPPOPULARRECENT