Monday , December 18 2017
Home / شہر کی خبریں / مسجد نانا باغ بشیر باغ میں تعمیری کام روکنے میں ناکامی

مسجد نانا باغ بشیر باغ میں تعمیری کام روکنے میں ناکامی

وقف بورڈ میں مقامی افراد اور مصلیوں کی نمائندگی ، بورڈ کے رویہ پر ناراضگی
حیدرآباد ۔ 11۔ جولائی (سیاست نیوز) مسجد نانا باغ بشیر باغ کی اوقافی اراضی پر غیر مجاز تعمیرات کے مسئلہ پر آج پھر ایک بار وقف بورڈ میں مقامی افراد اور مصلیوں نے نمائندگی کی اور وقف بورڈ پر تعمیری کام روکنے میں ناکامی کا الزام عائد کیا۔ واضح رہے کہ مسجد سے متصل عمارت کی تعمیری سرگرمیاں دن رات جاری ہیں اور غیر مجاز قابض نے وقف بورڈ کے احکامات کو نظرانداز کردیا ہے۔ وقف بورڈ نے تعمیری سرگرمیوں کے خلاف نہ صرف نوٹس جاری کی بلکہ پولیس میں شکایت درج کی گئی تھی۔ بتایا جاتا ہے کہ غیر مجاز قابض اور مذکورہ عمارت کا مالک سیاسی اثر و رسوخ کے باعث وقف بورڈ کے احکامات کو ماننے سے انکار کر رہا ہے ۔ بظاہر یہ دعویٰ ہے کہ تعمیری کام بند ہے لیکن عارضی شیڈ کی آڑ میں دن رات کام جاری ہے اور امکان ہے کہ بہت جلد شوروم کی تیاری کا کام مکمل ہوجائے گا۔ تعمیری کام روکنے کیلئے صدرنشین وقف بورڈ محمد سلیم نے حال ہی میں مسجد نانا باغ دورہ کیا تھا اور غیر مجاز قابض کو ہدایات دی تھی لیکن اس کے باوجود وہ تعمیری سرگرمیوں سے باز نہیں آرہا ہے ۔ اطلاعات کے مطابق حکومت میں شامل بعض اہم افراد کی سرپرستی میں یہ کام جاری ہے اور پولیس کو کسی بھی کارروائی سے روک دیا گیا ہے۔ مقامی افراد اور مصلیان مسجد نے آج حج ہاؤز پہنچ کر وقف بورڈ کے رویہ پر ناراضگی ظاہر کی ۔ ان کا کہنا ہے کہ وقف بورڈ کے قریبی فاصلہ پر موجود اوقافی جائیداد کے تحفظ میں عہدیدار غفلت سے کام لے رہے ہیں ۔ وہ دور دراز کے علاقہ میں اوقافی جائیدادوں کا تحفظ کس طرح کرپائیں گے۔ مقامی افراد نے صدرنشین وقف بورڈ محمد سلیم سے ملاقات کی کوشش کی لیکن یہ ممکن نہ ہوسکا ۔ انہوں نے چیف اگزیکیٹیو آفیسر منان فاروقی سے نمائندگی کی اور فوری مداخلت کی اپیل کی ۔ واضح رہے کہ مسجد نانا باغ کے تحت تقریباً 7 ایکر اراضی موجود ہے اور اس کی بازیابی کیلئے بورڈ نے غیر مجاز قابضین کو نوٹسیں جاری کی ہیں۔ شہر کے مرکزی مقام پر موجود ان جائیدادوں پر قابضین کی بری نظریں ہیں اور وہ کسی بھی صورت میں اسے بورڈ کے حوالے کرنے تیار نہیں۔ وقف بورڈ نے تمام غیر مجاز قابضین کو بورڈ کا کرایہ دار بننے کی ہدایت دی تھی۔ بتایا جاتا ہے کہ کئی قابضین اس سلسلہ میں عدالت سے رجوع ہوچکے ہیں۔

TOPPOPULARRECENT