Tuesday , December 11 2018

نکاح کے بعد دوبارہ نکاح کی محفل منعقد کرنا

سوال : زید بغرض تعلیم و ملازمت میں جدہ میں مقیم ہے۔ اس کی شادی بکر کی لڑکی سے طئے پائی ہے ۔ عاقدین ہندوستانی شہری ہیں اور ہندوستانی پاسپورٹ رکھتے ہیں مگر دونوں مختلف شہر والے ہیں ۔ بعض ناگزیر وجوہات کی بناء زید ہندوستان آکر شادی کرنے سے قاصر ہے اس لئے اس نے ہندوستان میں مقیم اپنے ایک عزیز کو وکالت نامہ نکاح دیکر نکاح کا خواہشمند ہے۔ سوال یہ ہے کہ کیا ایسی محفل نکاح کیلئے لڑکے کے وکیل کے علاوہ بغرض ایجاب و قبول عاقد سے ٹیلیفون پر ربط پیدا کرنا ضروری ہے اور کیا وکیل بناتے وقت گواہ ضروری نہیں ؟ براہ کرم یہ بھی رہبری کیجئے کہ کیا اس طرح نکاح منعقد ہوجانے کے بعد ، دلہا و دلہن کے متعلقین کی خواہش پر دوسرے شہر میں اور ایک مرتبہ مذکورہ عاقد و عاقدہ کی وداعی سے قبل نئے قاضی سے دو گواہوں کے روبرو دوبارہ نکاح کرسکتے ہیں ؟
محبوب حسین ، جدہ
جواب : مرد کا اصالۃً یعنی بذات خود موجود رہ کر جس طرح نکاح کرنا جائز ہے اسی طرح وکالۃً یعنی عاقد کی اپنی عدم موجودگی میں کسی کو وکیل بناکر نکاح کرنا بھی جائز ہے۔ صورت مسئولہ میں زید عاقد نے کسی متعین لڑکی سے نکاح کا اپنے عزیز کو وکیل بنایا ہے تو وہ مہر کی رقم بھی متعین کردے ۔ اس طرح وکالۃً نکاح جائز ہے ۔ واذا وکل رجلا ان یزوج لہ امرأۃ بعینھا ببدل سماہ فتزوجھا الوکیل لنفسہ بذلک البدل جاز النکاح للوکیل۔ نکاح کے لئے وکیل بنانے کی صورت میں گواہوں کی ضرورت نہیں تاہم بنالینا بہتر ہے تاکہ اختلاف کی صورت میںثبوت رہے۔ البتہ مذکورہ متعینہ لڑکی سے وکیل کی مخاطبت کے وقت گواہوں کا موجود ہونا ضروری ہے۔ ویصح التوکیل بالنکاح و ان لم یحضرہ الشھود وانما یکون الشھود شرطا فی حال مخاطبۃ الوکیل المرأۃ ۔ (تاتار خانیہ ج 3 ص 69 )
وکالۃً جس محفل میں نکاح ہوگا وکیل اور عاقدہ اور گواہوں کی موجودگی میں عاقدہ کا اور وکیل کا اپنے مؤکل کی طرف سے ایجاب و قبول کافی ہے ۔ ٹیلیفون پر بغرض ایجاب و قبول عاقد سے ربط پیدا کرنا ضروری نہیں ۔ مذکورہ طریقہ وکالت پر نکاح کے انعقاد کے

بعد دوبارہ نکاح کا انعقاد بے محل ہے کیونکہ اب دوبارہ نکاح کی ضرورت نہیں۔ اگر دوبارہ نکاح کیا جائے تو ایک لغو عمل ہے ۔ البتہ وداعی وغیرہ کے عنوان سے رشتہ داروں اور دوست احباب کو مدعو کرنا درست ہے۔
معیشت کی تنگی کے سبب سود پر قرض لینا
سوال : میرے داماد کا کاروبار بہت اچھا تھا لیکن کسی بدخواہ کی شاید نظر لگ گئی کہ دیکھتے دیکھتے ان کا پورا کاروبار ٹھپ ہوگیا ۔ نقصان پہ نقصان ہوگیا ۔ قرضے ہوگئے ۔ بڑی مشکلات کا سامنا کرنا پڑا لیکن انہوں نے ہمت نہیں ہاری ۔ اپنی محنت جاری رکھی اور دوسرا کاروبار انہوں نے اپنے پرانے کاروبار کے ساتھ شروع کیا ۔ لیکن پرانے قرضے باقی ہیں ۔ لوگ تقاضہ کر رہے ہیں۔ اب وہ معیشت سے تنگ آکر سود پر قرضہ لینا چاہتے ہیں اس لئے آپ کو یہ خط لکھ رہی ہوں تاکہ آپ اپنے سوال جواب کے کالم میں ہماری رہنمائی کریں کہ اس طرح سود پرقرضہ لینا درست ہے یا نہیں کیونکہ معاشی مجبوری ہے ۔
ایک خاتون، حیدرآباد
جواب : سود دینے والا شرعاً گنہگار ہے ، اور حدیث شریف میں سود کھانیوالے ، کھلانے والے ، اس معاملے کو لکھنے والے اور اس پر گواہی دینے والے اشخاص پر لعنت وارد ہوئی ہے ۔ عینی شرح بخاری جلد 5 ص : 436 کتاب البیوع فصل موکل الربا میں ہے : ان موaکل الربا واکلہ آثمان۔ فتاوی کمالیہ ص : 282 کتاب الحظر والا باحۃ میں ہے ۔ وقدورد فی ذم آکل الربا من الاحادیث مالا یحصی فمنھا : لعن اللہ آ کل الربا و مؤکلہ و کاتبہ و شاھدہ کلھم فی اللعنۃ سواء ۔
معاشی تنگدستی و مجبوری سود کے لین دین اور دیگر شرعی حرام کردہ اشیاء کو قطعا جائز نہیں کرتی البتہ جبکہ کسی انسان پر فاقہ کشی کی وجہ ’’ مخمصہ‘‘ یعنی جان جانے کی حالت آجائے تب اس کے لئے جان بچانے کے موافق حرام چیز کا کھانا جائز ہے ۔ اس کے علاوہ نہیں۔ در مختار برحاشیہ رد المحتار جلد 5 ص 222 کتاب الحظر والا باجۃ میں ہے : (الاکل) للغذاء والشرب للعطش ولو (من حرام او میتۃ اومال غیرہ ) وان ضمنہ (فرض) یثاب علیہ بحکم الحدیث ولکن (مقدار ما یدفع ) الانسان (الھلاک عن نفسہ و ماجور علیہ )پس دریافت شدہ مسئلہ میں آپ کے داماد کا معاشی مجبوری کی بناء سودی قرض لینا شرعاً جائز نہیں۔
کھانے کی خاطر مسلک تبدیل کرنا
سوال : ایک شخص جو کہ نسل در نسل سے حنفی ہے۔ اس نے بعض اشیاء کے استعمال کرنے کے لئے حنفی سے شافعی مذہب قبول کرلیا ہے اور اس کا کہناہے کہ وہ تقلید کر رہا ہے ۔ اس لئے گنہگار نہیں ہے تو کیا شریعت مطھرہ میں اس بات کی اجازت ہے کہ وہ کسی جانور کو کھانے کے لئے اپنے مذہب کو تبدیل کرسکتا ہے ۔ کئی ایسے جانور ہیں جو ازروئے فقہ حنفی اس کا کھانا جائز نہیں اور دوسرے مذاہب میں جواز نکل جاتا ہے۔ کیا مذہب تبدیل کرنے کی گنجائش ہے ؟ براہ کرم اس بارے میں شرعی احکام بیان کیجئے ؟
محمد عبدالباری، سکندرآباد
جواب : اگر کسی حنفی یا شافعی دنیوی غرض اور منفعت کے لئے یا بغیر سوچے سمجھے بلا دلیل اپنا مذہب تبدیل کرلیتا ہے تو اس شخص نے چونکہ اپنے پہلے مذہب کی توہین کی ہے ، اس کو خفیف جانا ہے اس لئے وہ آخرت میں گنہگار وماخوذ ہوگا اور دنیا میں تعزیری سزا کا بھی مستحق ہوگا اور اگر اس کا مبلغ علم پایہ اجتھاد کو پہنچا ہوا ہے، وہ اپنے اجتھاد میں مذہب کے بدلنے سے شریعت کی بھلائی جانتا ہے ، کوئی دنیوی غرض نہیں ہے تو ایسے شخص کے لئے اپنا مذہب تبدیل کرنا جائز ہے ورنہ نہیں۔ در مختار جلد 3 ص : 196 میں ہے : ارتحل الی مذہب الشافعی یعزر ، سراجیہ ۔ اور اسی جگہ رد المحتار میں ہے : ای اذا کان ارتحالہ لالغرض محمود شرعا اور اس صفحہ میں ہے تاتارخانیہ سے منقول ہے: ولو ان رجلا بریٔ من مذھبہ باجتھاد وضح لہ کان محمود امأ جورا اما انتقال غیرہ من غیر دلیل بل لما یرغب من غرض الدنیا و شھوتھا فھو المذموم الآثم المستوجب للتادیب والتعزیر لارتکابہ المنکر فی الدین و استخفافہ بدینہ و مذھبہ۔
پس صورت مسئول عنہا میں چاروں مذاہب برحق ہیں اور امت اسلامیہ نے صدیوں سے نہ صرف ان کی حقانیت کو تسلیم کیا ہے بلکہ اس پر عمل پیرا ہے ۔ قرون اولی کے اکابر فقہاء و اجلہ محمدثین نے تقلید میں نجات کو پایا ہے ۔ اب کسی شخص کا اپنی دنیوی غرض و منفعت کیلئے اپنے مذہب کو ترک کرنا اور کسی جانور کو کھانے کیلئے دوسرے مذہب کو اختیار کرنا شرعاً مذموم ہے اور اسلامی ملک ہو تو زجر و توبیخ و تعزیری سزا کا مستحق ہے ۔

رہبانیت اور مذہبی انتہا پسندی
سوال : میری عمر 40 سال ہے اور میں زندگی سے بیزار ہوچکا ہوں۔ ہر طرف جھوٹ ، مکر، فریب ، دھوکہ ہے۔ کہیں بھی پیار و محبت ، سچائی ، امانت نہیں ہے۔ اس لئے مجھے گھر میں اور باہر الجھن ہورہی ہے۔ ذہنی تناؤ بڑھ رہا ہے۔ بیوی میں جھوٹ کی عادت ہے۔ گھر والے دیندار نہیں ہے اور باہر ہر طرف جھوٹ ہے۔ ایسے ماحول میں میں سب سے الگ تھلگ ہوکر زندگی بسر کرنا چاہتا ہوں اور صدق دل سے اللہ کی طرف رجوع ہوکر رات دن بسر کرنا چاہتا ہوں۔ مجھے لوگوں سے، عوام سے گھبراہٹ سی ہوگئی ہے

لیکن میں شرعی نقطہ نظر سے جاننا چاہتا ہو ں کہ میرا اس طرز عمل اختیار کرنا درست ہے یا نہیں ؟
محمد عباس قادری ، ٹولی چوکی
جواب : دین اور دینی مسائل کے بارے میں اتنے اہتمام کے باوجود نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو رہبانیت (ترک دنیا) کا اسلوب قطعی ناپسند تھا ۔ اگر کسی صحابی نے اپنے طبعی میلان کی وجہ سے آپؐ سے اجازت مانگی بھی ، تو آپؐ نے سختی سے اسے منع فرمادیا۔ خود آپؐ کا جو طرز عمل تھا اسے آپؐ نے یوں بیان فرمایا : ’’ میں اللہ سے تم سب کی نسبت زیادہ ڈرنے والا ہوں ، مگر میں روزہ بھی رکھتا ہوں اور نہیں بھی رکھتا، نماز بھی پڑھتا ہوں اور آرام بھی کرتا ہوں اور اسی طرح عورتوں سے نکاح بھی کرتا ہوں ‘‘ پھر فرمایا : ’’ یہی میرا طریقہ (سنت) ہے۔ جس نے میرے طریقے کو چھوڑا وہ میری امت میں سے نہیں‘‘ (البخاری ، 411:3 ، کتاب النکاح ، باب 41 ، مطبوعہ لائیڈن)
حضرت عبداللہ بن عمرؓ و بن العاص نے آپؐ سے ’’ مسلسل اور ہمیشہ روزے ‘‘ رکھنے کی اجازت مانگی تو فرمایا : ’’ زیادہ سے زیادہ تم صوم داؤدؑ ، یعنی ایک دن چھوڑ کر روزہ رکھ سکتے ہو‘‘ پھر فرمایا : ’’ تیرے بدن کا بھی حق ہے، تیرے گھر والوں کا بھی تجھ پر حق ہے ‘‘ (کتاب مذکور ، 443:1 ، کتاب الصوم ، باب 56 ، 47 ) ۔ ایک اور موقع پر زندگی کے ناقابل بنانے کا ارادہ ظاہر کیا تو آپؐ نے سختی سے منع فرمادیا (کتاب مذکور ، 413:3 تا 414 ) ۔ ایک صحابیؓ نے دنیا کے تمام بندھنوں سے الگ ہوکر ایک غار میں معتکف ہوکر عبادت الٰہی کرنے کی اجازت طلب کی تو فرمایا : ’’ میں یہودیت یا عیسائیت کی طرح رہبانیت کی تعلیم نہیں لے کر آیا بلکہ مجھے تو آسان اور سہل دین ، دین ابراہیم ملا ہے ‘‘ (احمد بن حنبل : مسند 266:5 )
کتب حدیث و سیرت میں مذکور اس طرح کے بے شمار واقعات سے اس بات کی بخوبی شہادت ملتی ہے کہ آپؐ کو عیسائیت کے راہبوں اور بدھ مت کے بھکشوؤں کی طرح دنیا اور اس کے رشتوں سے قطع تعلق کرنا ہرگز گوارا نہ تھا ۔ آپؐ اسے ایک طرح کا عملی زندگی سے فرار اور قنوطیت سمجھتے تھے اور آپؐ کے نزدیک زندگی کی طرف یہ منفی رویہ کسی عالمگیر اور پا ئیدار مذہب (اور اس کے بانی) کے شایان شان نہیں تھا ۔ اس کے بالمقابل آپؐ کے رویے میں امید و رجا کا پہلو بہت نمایاں تھا ۔ آپؐ کا مسلک یہ رہا کہ دنیا میں رچ بس کر دنیا کی اصلاح کی کوشش کی جائے ۔ ا گر آپؐ کا کام رہبانیت ، یعنی خود کو برائی سے بچانے تک محدود ہوتا تو آپؐ کو اپنی عملی زندگی میں اتنی مشکلات اور مصائب و آلام کا ہرگز سامنا نہ کرنا پڑتا۔ واقعہ یہ ہے کہ آپؐ کو دین اسلام میں غیر

ضروری مذہبی انتہا پسندی سخت ناپسند تھی اور اسے آپؐ معاشرے کے لئے خطرہ سمجھتے تھے۔
سسرال والوں کی خدمت
سوال : میں نظام آباد میں رہتی ہوں، میری شادی ہوکر (5) سال کا عرصہ ہوا ، سسرال میں مجھے بہت تکلیف ہے، ساس خسر کی خدمت کرتی ہوں۔ اس کے باوجود مجھے ستایا جاتا ہے ۔ شوہر کے بھائی بہنوں کے کام مجھے ہی کرنے پڑتے ہیں، آپ سے پوچھنا یہ ہے کہ بیوی پر شوہر کے ماں باپ اور بھائی بہنوں کی خدمت ازروئے شرع لازم ہے یا نہیں؟ نیز شوہر کے والدین اور بہنوں بھائیوں کے ساتھ کشیدگی کی صورت میں بیوی علحدہ رہائش کا مطالبہ کرسکتی ہے یا نہیں ؟ کیا شوہر اپنی بیوی کو نازیبا و ناشائستہ الفاظ میں مخاطب کرسکتا ہے یا زد و کوب کرسکتا ہے ؟
امتہ المتین ، نظام آباد
جواب : شوہر کے ماں باپ کی خدمت شوہر پر واجب ہے، اس کی بیوی پر نہیں۔ اگر بیوی شوہر کے ماں باپ کی خدمت کرتی ہے تو یہ حسن سلوک ہے، اور بیوی خوشدلی سے ساس خسر کی خدمت کرتی ہے تو وہ آخرت میں اجر و ثواب کی حقدار رہے گی ۔ تاہم بیوی کو ساس خسر کی خدمت پر مجبور نہیں کیا جاسکتا ۔ شوہر کے بھائی بہن کی خدمت بیوی (بھاوج) پر لازم نہیں۔ شوہر کو چاہئے کہ وہ بیوی کیلئے ایسی رہائش کا انتظام کرے جہاں شوہر اور بیوی دونوں کے افراد خاندان نہ ہوں اور اگر شوہر اپنے ماں باپ بھائی بہن کے ساتھ بیوی کو رکھتا ہے اور کشیدگی پیدا ہوتی ہے تو بیوی علحدہ رہائش فراہم کرنے کا مطالبہ کرسکتی ہے ۔ البتہ شوہر مشترکہ گھر میں ایک علحدہ کمرہ مع قفل و کنجی بیوی کو دے دیتا ہے تو پھر بیوی کو علحدہ مکان کے مطالبہ کا حق نہیں۔
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد گرامی ہے ۔ خیر کم خیر کم لأھلہ : تم میں بہترین وہ شخص ہے جو اپنے اہل و عیال کے ساتھ بہتر ہو اس لئے شوہر کو بیوی کے ساتھ پیار و محبت اور حسن سلوک سے رہنا چاہئے ۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے و عاشر وھن بالمعروف ۔ تم بیویوں کے ساتھ حسن معاشرت سے پیش آؤ ۔ البتہ بیوی نافرمان ہو تو شوہر کو تنبیہ کا حق ہے ۔ مغلظات استعمال کرنے اور سخت زد و کوب کا حق نہیں۔

TOPPOPULARRECENT