Wednesday , May 23 2018
Home / اداریہ / ۔ 2 جی اسکام ۔ملزمین کی برأت

۔ 2 جی اسکام ۔ملزمین کی برأت

۔2 جی اسکام میں سی بی آئی کی خصوصی عدالت نے بالآخر تمام ملزمین کو بری کردیا ہے ۔ اس طرح ایک بڑے اسکام کے ملزمین بھی کسی کارروائی کے بغیر بچ نکلنے میں کامیاب ہوگئے ۔ 2جی اسکام کروڑہا روپئے کا اسکام تھا جس سے سرکاری خزانہ کو بھاری نقصانات کا سامنا کرنا پڑا تھا اور قوم کی دولت چند مٹھی بھر مفاد پرستوں کے ہاتھوں میں چلی گئی اورسارا ملک دیکھتا رہا ۔ اس حقیقت سے انکار نہیں کیا جاسکتا کہ یہ اسکام ہوا ہے ۔ تاہم ملزمین کے خلاف عدالت میں ناکافی ثبوت پیش کئے گئے جس کی بنیاد پر انہیں عدالت نے بری کردیا ۔ عدالتیں ثبوت و شواہد کی بنیاد پر فیصلے سناتی ہیںاور عدالت نے ناکافی ثبوتوں کو دیکھتے ہوئے ملزمین کو راحت دیدی ۔ہندوستان کی تاریخ کے بڑے اسکامس میں شامل 2G اسکام کے ملزمین کو راحت مل جانا اور عدالتوں میں ناکافی ثبوتوں کی بنیاد پر انہیںبراء ت مل جانا اس بات کو ظاہر کرتا ہے کہ ہمارے انصاف رسانی کا نظام آج بھی کمزور اور ناقص ہے ۔ ہماری تحقیقاتی ایجنسیاں آج بھی ایک ایسے انداز میں کام کرتی ہیں جن سے ملزمین کو قانون کا خوف ہونے کی بجائے انہیں قانون کا آسرا مل جاتا ہے اور وہ قانون سے کھلواڑ کرتے ہوئے بری ہوجاتے ہیں۔ لاکھوں کروڑ روپئے کے نقصان والے اس اسکام کے ملزمین کو برات تحقیقاتی ایجنسیوں کی افادیت اور ان کی کارکردگی پر سوالیہ نشان پیدا کرتی ہیں۔ آج ہم سائنٹفک دور میں زندگی گذار رہے ہیں۔ زندگی ٹکنالوجی کی مدد سے آگے بڑھ رہی ہے ۔ ہر کام میں عصری تکنیک کے ذریعہ مدد لی جا رہی ہے لیکن بڑے اسکامس اور جرائم اور خاص طور پر ایسے معاملات جن میں سیاستدان اور بااثر افراد و بڑے کاروباری افراد ملوث ہوں ان کی تحقیقات کے معاملہ میں ہم آج بھی صفر ہی ہیں۔ ہندوستان میں لاکھوں کروڑ روپئے کے اسکامس سامنے آئے ہیں۔ یہ حقیقت ہے کہ سرکاری خزانہ کا لاکھوں کروڑ روپیہ چند مٹھی بھر مفاد پرستوں نے ہڑپ لیا ہے اس کے باوجود یہ لوگ آزاد ہیں۔ یہ الگ بات ہے کہ سابق وزیر ڈی راجہ ‘ رکن پارلیمنٹ کنی موزی یا دوسرے بیوروکریٹ اس اسکام کے ذمہ دار ہیں یا نہیں لیکن کوئی نہ کوئی تو اس کا ذمہ دار تھا اور وہ آج بھی آزاد ہے اور اس کے خلاف کوئی کارروائی نہیں ہو رہی ہے ۔
جی2 اسکام میں سابق وزیر ٹیلیکام ڈی راجہ ‘ کنی موزی کے علاوہ سابق ٹیلیکام سکریٹری سدھارتھ بیہورا اور ڈی راجہ کے پرائیوٹ سکریٹری آر کے چنڈولہ اور بڑے تاجرین میں شاہد بلوا ڈی بی گروپ پروموٹر ‘ کلائگنار ٹی وی کے ایم ڈی شرت کمار ‘ یونی ٹیک کے ایگزیکیٹیو سنجئے چندرا ‘ ریلائنس اے ڈی اے جی کے ایگزیکیٹیوز گوتم دوشی ‘ سریندر پیپارا اور ہری نائر کے علاوہ ایسار گروپ کے پروموٹرس روی روئیہ اور انشومن روئیہ جیسے با اثر لوگ شامل تھے ۔ان سب کو عدالت سے برات مل گئی ہے اور جج موصوف نے اپنے فیصلے میں جو ریمارک کیا ہے وہ قابل غور ہے ۔ فیصلے میں کہا گیا ہے کہ سات سال سے روزآنہ انتظار کیا جا رہا تھا کہ اس کیس میں کوئی تو ثبوت پیش کیا جائیگا لیکن ایسا نہیں ہوا لہذا ملزمین کو بری کیا جا رہا ہے ۔ اتنے بڑے اسکام میں ملزمین کا اتنی آسانی سے برات حاصل کرلینا اور تحقیقاتی ایجنسیوں کی جانب سے اتنی لا پرواہی سے کام کیا جانا انتہائی تشویش کی بات ہے ۔ اس سے ان شبہات کو تقویت حاصل ہوتی ہے کہ کرپشن اور بدعنوانیوں کے خلاف جدوجہد محض ایک دکھاوا ہے اور اس میں کوئی سچائی نہیں ہے ۔ مرکز میں چاہے جس کسی پارٹی یا اتحاد کی حکومت ہو سیاسی اثر والے افراد اپنی راہ تلاش کرنے میں کامیاب ہو ہی جاتے ہیں اور ملک کا قانون انہیں کوئی سزا دلانے میں کامیاب نہیں ہوسکتا ۔ عدالت نے تقریبا دو ہزار صفحات پر مشتمل اپنے فیصلے میں کئی نکات کو پیش کئے ہیں جن کا تفصیلی جائزہ لینے کی ضرورت ہے لیکن جب کوئی کوشش پہلے مرحلہ ہی میں ناکام ہوجاتی ہے تو اس سے مستقبل میں امیدیں لگائے رکھنا فضول ہی ہوسکتا ہے ۔ ملزمین اپنی برات کا جشن منانے میں مصروف ہوچکے ہیں۔
ان شبہات کو بھی تقویت ملتی ہے کہ اس فیصلے کے بھی سیاسی اثرات مرتب ہوسکتے ہیں۔ بی جے پی نے کانگریس دور حکومت میں اس اسکام کے تعلق سے کئی مرتبہ احتجاج کیا تھا اور تحقیقات کو موثر بنانے کی ضرورت پر زور دیاتھا ۔ اب جبکہ ملک میں ساڑھے تین سال سے بی جے پی کی حکومت ہے اور سی بی آئی اس کے تحت کام کر رہی ہے لیکن سی بی آئی ملزمین کے خلاف نہ کوئی ثبوت پیش کرسکی ہے اور نہ انہیں سزائیں دلا سکی ہے ۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ بی جے پی بھی مصلحت کا شکار ہوچکی ہے اور وہ کسی بھی کام کے سیاسی اثرات اور مستقبل کے منصوبوںکی پرواہ کئے بغیر کوئی کام کرنے کو تیار نہیں ہے ۔ بحیثیت مجموعی عدالت کے فیصلے سے ملک کی تحقیقاتی ایجنسیوں کی کارکردگی پر مایوسی ہی ہاتھ لگی ہے ۔ ان ایجنسیوں کو اپنی کارکردگی پر شبہات کو دور کرنا ہوگا ۔

TOPPOPULARRECENT