Monday , June 18 2018
Home / Top Stories / سی جے آئی کیخلاف سپریم کورٹ کے چار ججوں کی عملاً بغاوت

سی جے آئی کیخلاف سپریم کورٹ کے چار ججوں کی عملاً بغاوت

جمہوریت خطرہ میں، سپریم کورٹ کا داخلی معاملہ : حکومت ، داخلی طور پر مسائل کی یکسوئی کی خواہش : اپوزیشن

نئی دہلی 12 جنوری (سیاست ڈاٹ کام) جمہوریت خطرہ میں ہونے کا انتباہ دیتے ہوئے سپریم کورٹ کے 4 ججوں نے عملی اعتبار سے چیف جسٹس کے خلاف عملاً بغاوت کردی اور کیسوں کے مختص کئے جانے کے بارے میں کئی اعتراضات ہوئے جس کی وجہ سے عدلیہ اور ریاست کے شعبوں میں تشویش کی لہر دوڑ گئی۔ چار ججوں کا یہ اقدام ایسا تھا جس کی ماضی میں کوئی مثال نہیں ملتی۔ جسٹس چلمیشور نے جسے غیرمعمولی واقعہ قرار دیا ہے، جسٹس مشرا نے کہا کہ یکسوئی کے اقدامات کی کوئی گنجائش نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ جب تک یہ ادارہ اپنے اس دعویٰ کو ثابت نہیں کردیتا کہ جمہوریت خطرہ میں ہے، یہ ادارہ محفوظ رہے گا اور برقرار بھی رہے گا۔ اس سوال پر کہ کیا پریس کانفرنس کرنے والے ججس چیف جسٹس کی سرزنش چاہتے ہیں، انہوں نے کہا کہ یہ کسی بھی ملک کی تاریخ کا ایک غیرمعمولی واقعہ ہے خاص طور پر اس لئے کہ حکومت کی جانب سے کوئی ٹھوس ردعمل ظاہر نہیں کیا گیا ہے۔ اپوزیشن نے اپنے اندیشے ظاہر کرتے ہوئے سپریم کورٹ کے چار اہم ججس کی کانفرنس کو انتہائی حساس مسئلہ قرار دیا اور کہا کہ ماضی میں اس کی کوئی مثال نہیں ملتی۔ صدر کانگریس راہول گاندھی نے کہا کہ ججس نے جو نکات اٹھائے ہیں وہ انتہائی اہم ہیں۔ انہوں نے جسٹس لویا کے مقدمہ کی سپریم کورٹ کی اعلیٰ ترین سطح پر تحقیقات کی ضرورت پر زور دیا ہے۔ صدر بی جے پی امیت شاہ بھی جسٹس لویا مقدمہ میں ملزموں میں سے ایک ہیں۔ چار سینئر ججوں نے جو پریس کانفرنس کی ہے، یہ ایک اہم اور عدیم المثال معاملہ ہے۔ اپوزیشن پارٹی قائد پی چدمبرم نے کہا کہ کانگریس کے سینئر قانون داں قائدین بشمول کپل سبل، چدمبرم، منیش تیواری اور وویک ٹنکھا اور سلمان خورشید کے علاوہ سینئر پارٹی قائدین احمد پٹیل، جنرل سکریٹری انچارج مہاراشٹرا موہن پرکاش اور پارٹی کے ترجمان اعلیٰ رندیپ سنگھ سرجے والا بھی اپوزیشن کی پریس کانفرنس میں موجود تھے۔ کانگریس نے اپیل کی کہ سپریم کورٹ کے اجلاس کاملہ کو یہ تمام نکات اٹھانے چاہئے تاکہ عدلیہ کی آزادی برقرار رکھ سکے۔ سی پی آئی ایم کے جنرل سکریٹری سیتارام یچوری نے کہا کہ مکمل تحقیقات کی ضرورت ہے تاکہ آزادی اور عدلیہ کی یکجہتی کو متاثر ہونے سے بچایا جاسکے۔ انہوں نے کہا کہ کئی ججس کا موقف غیرمتوقع ہے۔ انہوں نے کہا کہ ضروری ہیکہ جمہوریت کے تینوں شعبوں عاملہ، مقننہ اور عدلیہ اس بات کو یقینی بنائیں کہ جن نکات پر سپریم کورٹ کے ان چار ججس نے اپنی پریس کانفرنس میں اعتراض کیا ہے ان کی اصلاح کردی جائے۔ سپریم کورٹ کے چار سینئر ججس نے چیف جسٹس آف انڈیا دیپک مشرا کے خلاف عملاً بغاوت کرتے ہوئے ایک فہرست پیش کی ہے جن سے ملک کی اعلیٰ ترین عدالت متاثر ہورہی ہے اور انتباہ دیا کہ ان مسائل سے ہندوستان کی جمہوریت کو خطرہ ہے۔ سی پی آئی قائد ڈی راجہ نے کہا کہ عدلیہ کی شخصی آزادی کا تحفظ کیا جانا چاہئے کیونکہ یہ کسی پارٹی کی ترجمان نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ وہ اپنے شخصی احساسات کا اظہار کررہے ہیں اور پارٹی کے موقف کی ترجمانی نہیں کررہے ہیں۔ جنرل سکریٹری سی پی آئی سدھاکر ریڈی نے بھی کہا کہ غلط فہمیوں کا جلد از جلد ازالہ ہونا چاہئے۔ ملک کی اہم اپوزیشن کانگریس کے صدر راہول گاندھی نے کہا کہ جو اعتراضات سپریم کورٹ کے چار ججس نے اپنی پریس کانفرنس میں پیش کئے ہیں وہ انتہائی اہم ہیں اور ان کی جلد از جلد یکسوئی ضروری ہے۔

 

سہراب انکاؤنٹر کی سماعت کرنے والے جج کی پراسرار موت پرتشویش
سپریم کورٹ کی حالت ٹھیک نہیں، چیف جسٹس کی کارکردگی پر ریمارک، چار سینئر ججس کی پریس کانفرنس
نئی دہلی ۔ 12 جنوری (سیاست ڈاٹ کام) سپریم کورٹ کے چار انتہائی سینئر ججوں نے ایک ایسے حیرت انگیز اقدام کے طور پر جس کی ماضی میں کوئی نظیر نہیں ملتی، آج ایک پریس کانفرنس طلب کی اور کہا کہ ملک کی اعلیٰ ترین عدالت کی صورتحال ٹھیک نہیں ہے اور ایسے واقعات ہوئے ہیں جس کی شاید ہی کوئی خواہش کی جاسکتی ہے۔ چار ججوں نے کہا کہ جب تک اس ادارہ کا تحفظ نہیں کیاجاتا ملک میں جمہوریت زندہ نہیں رہ سکتی‘‘۔ جسٹس جے چلمیشور نے جو چیف جسٹس کے بعد دوسرے سینئر جج ہیں، کہا کہ ’بعض مرتبہ سپریم کورٹ انتظامیہ میں نظم و ضبط نہیں رہتا اور گذشتہ چند ماہ کے دوران بعض ایسے واقعات پیش آئے ہیں، جن کی شاید ہی کوئی خواہش کی جاسکتی ہے۔ جسٹس چلمیشور نے جن کے ساتھ جسٹس رنجن گوگوئی، مدن بی لوکور اور جسٹس کریان جوزف بھی پریس کانفرنس میں موجود تھے، کہا کہ انہوں نے چیف جسٹس دیپک مصرا سے آج ملاقات کی اور ادارہ کو متاثر کرنے والے مسائل اٹھایا۔ عدالت کے ذرائع نے کہا کہ ان چاروں سینئر ججوں کی پریس کانفرنس کے بعد چیف جسٹس نے اٹارنی جنرل کے کے وینو گوپال کو طلب کیا۔ جسٹس چلمیشور نے کہا کہ ’جب تک اس ادارہ کا تحفظ نہیں کیا جاتا، اس ملک میں جمہوریت باقی و برقرار نہیں رہ سکتی‘۔ انہوں نے کہا کہ پریس کانفرنس طلب کرکے انہیں شدید تکلیف ہورہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ چار ججوں نے کچھ عرصہ قبل چند اہم مسائل اٹھاتے ہوئے چیف جسٹس دیپک مصرا کو ایک مکتوب روانہ کیا تھا، لیکن چیف جسٹس آف انڈیا کو یہ تمام چاروں ججس یہ باور کرانے میں ناکام ہوگئے تھے کہ چند امور میں سب کچھ ٹھیک نہیں ہے اور چنانچہ آپ کو اصلاحی اقدامات کرنا چاہئے۔ بدبختی کی بات ہیکہ ہماری مساعی ناکام ہوگئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ’چاروں اس بات سے متفق ہیں کہ جمہویت داؤ پر لگی ہوئی ہے اور ماضی میں کئی واقعات پیش آئے ہیں‘۔

اس سوال پر کہ آیا یہ مسائل کیا ہیں۔ انہوں نے جواب دیا کہ ان میں ’چیف جسٹس آف انڈیا کی طرف سے ’مقدمات مختص کرنا‘ شامل ہے۔ ان ریمارکس کو غیرمعمولی اہمیت حاصل ہوگئی ہے کیونکہ سپریم کورٹ نے سہراب الدین شیخ مقدمہ کی سماعت کرنے والے خصوصی سی بی آئی جج بی ایچ لوہیا کی پراسرار حالات میں موت کے مسئلہ پر آج سے غوروخوض کا آغاز کیا ہے۔ جسٹس چلمیشور نے کہا کہ ’ہم اس ملک اور ادارہ (عدلیہ) کے تئیں اپنی ذمہ داری قبول کرتے ہیں۔ ادارہ کے تحفظ کیلئے اقدامات کرنے چیف جسٹس کو باور کروانے میں اپنی مساعی ناکام ہوگئی ہے‘۔ انہوں نے کہا کہ ’یہ کسی بھی ملک بالخصوص ہمارے ملک کی تاریخ کا ایک غیرمعمولی واقعہ ہے اور عدلیہ کے کسی ادارہ کیلئے انتہائی غیرمعمولی واقعہ ہے۔ ہم خوشی سے نہیں بلکہ بہت مجبوری کی حالت میں یہ پریس کانفرنس طلب کئے ہیں۔ جسٹس چلمیشور نے کہا کہ ’لیکن بعض اوقات سپریم کورٹ انتظامیہ میں نظم و ضبط نہیں رہا اور گذشتہ چند ماہ کے دوران ایسے کئی واقعات پیش آئے ہیں، جن کی خواہش نہیں کی جاسکتی تھی‘‘۔ تمام ججوں نے ان سوالات کو مسترد کردیا کہ آیا انہوں نے اپنے رتبہ کی روایت شکنی کی ہے۔ جسٹس گوگوئی نے کہا کہ ’’کسی نے بھی رتبہ کے خلاف کام نہیں کیا ہے بلکہ ایسا کرتے ہوئے قوم کیلئے فرض ادا کیا ہے‘‘۔ چلمیشور کے جانشین کی حیثیت سے جسٹس گوگوئی اس سال اکٹوبر میں چیف جسٹس کاعہدہ سنبھالیں گے۔ اس سوال پر کہ آیا آپ چاہتے ہیں کہ چیف جسٹس کا مواخذہ کیا جائے۔ جسٹس چلمیشور نے جواب دیا کہ ’’آپ ہمارے منہ میں الفاظ ڈالنے کی کوشش نہ کریں۔ چار ججوں نے چیف جسٹس آف انڈیا کے نام سات صفحات پر مبنی اپنے مکتوب میں کہا تھا کہ ’’اس ملک کے قانون و دستور میں یہ بات بالکل طئے شدہ چیف جسٹس صرف تمام مساویوں (مساوی حیثیت کی حامل شخصیات) میں سب سے پہلے ہیں اور اس سے کچھ کم یا کچھ زیادہ نہیں ہیں۔ مکتوب میں مزید کہا گیا ہے کہ ’’یہ انتہائی افسوس اور تشویش کے ساتھ ہم آپ کے نام یہ مکتوب مناسب سمجھتے ہیں تاکہ چند عدالتی احکام پر روشنی ڈالی جائے جو آپ کی طرف سے جاری کئے گئے ہیں جس سے انصاف رسانی کی مجموعی کارکردگی ہائی کورٹس کی آزآدی کے علاوہ چیف جسٹس آف انڈیا کے دفتر کی انتظامی کارکردگی بری طرح متاثر ہوئی ہے۔

 

TOPPOPULARRECENT