Monday , September 24 2018
Home / Top Stories / افغانستان میں خواتین کیلئے خواتین کا پہلا ’’ زن ٹی وی‘‘

افغانستان میں خواتین کیلئے خواتین کا پہلا ’’ زن ٹی وی‘‘

صرف خواتین کے مسائل پر مبنی پروگرامس کی پیشکشی ،جوکھم کے باوجود خاتون صحافیوں کی کامیاب کوشش

کابل۔ 7 مارچ (سیاست ڈاٹ کام) افغانستان کے بارے میں مشہور کردیا گیا ہے کہ وہاں خواتین کے ساتھ مساویانہ سلوک نہیں کیا جاتا۔ انہیں معمولی مسئلہ پر گھریلو تشدد کا نشانہ بنایا جاتا ہے لیکن حال ہی میں سی این این کی ایک رپورٹ منظر عام پر آئی جس میں بتایا گیا کہ دارالحکومت کابل میں ایک ایسا ٹی وی اسٹیشن ہے جہاں آپ کو کوئی مرد نظر نہیں آئے گا۔ صرف خواتین و طالبات ہی نظر آئیں گی۔ صحافی، ایڈیٹرس اور پروڈیوسرس یہاں تک کہ پروگرامس پیش کرنے والی بھی خواتین ہی ہیں۔ اس ٹی وی اسٹیشن کی خاص بات یہ ہے کہ اس کے ذریعہ افغان خواتین کے مسائل پر مبنی پروگرامس ٹیلی کاسٹ کئے جاتے ہیں۔ اس ٹی وی اسٹیشن کا نام بھی بڑا پرکشش اور مختصر رکھا گیا ہے، اسے زن ٹی وی (Zan TV) کے نام سے جانا جاتا ہے جسے عورتیں عورتوں کیلئے چلاتی ہیں۔ 1996ء سے 2001ء تک طالبان کے زیراقتدار رہے۔ افغانستان میں زن ٹی وی اپنی نوعیت کی پہلی میڈیا آؤٹ لیٹ ہے۔ طالبان اقتدار میں بتایا جاتا ہے کہ خواتین کے حقوق پامال کئے گئے صحافت اور تعلیمی شعبوں تک خواتین کی رسائی پر پابندی عائد کردی گئی تھی۔ اب طالبان اقتدار کے خاتمہ کو 17 برس ہوچکے ہیں۔ مختلف شعبوں میں خواتین کی تعداد میں مسلسل اضافہ ہورہا ہے۔ خواتین پولیس اور میڈیا میں اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوا رہی ہیں۔ حالیہ دونوں میں کئے گئے سروے سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ تقریباً 1500 خواتین شعبہ صحافت سے وابستہ ہیں، ایسے میں زن ٹی وی شعبہ صحافت میں خواتین کیلئے ایک نعمت غیرمترقبہ ثابت ہوگا۔ اس ٹی وی اسٹیشن میں کام کرنے والی خاتون صحافی (رپورٹرس) پیشہ وارانہ مہارت کا غیرمعمولی مظاہرہ کرتی ہیں۔ اس ٹی وی اسٹیشن کی حرکیاتی اینکر 22 سالہ شبانہ نوری کے خیال میں خواتین پر تشدد، انسانیت کے خلاف ہے۔ شبانہ نوری کی طرح شملا نیازی بھی خواتین کے حقوق کی باتیں کرتی ہیں۔ اگرچہ افغانستان میں اب خواتین کو بااختیار بنانے کے متعدد اقدامات کئے جارہے ہیں۔ مختلف شعبوں میں ان کی تعداد میں بتدریج اضافہ ہورہا ہے۔ اس کے باوجود اب بھی تقریباً 83% افغان خواتین ناخواندہ ہیں۔ ایک تہائی خواتین ایسی ہیں جن کی 18 سال سے کم عمر میں شادی کردی گئیں۔ اکثر خواتین کو اپنے خاندان اور پڑوسیوں کی انتہا پسندی کا شکار بننا پڑتا ہے۔ زن ٹی وی کی بانی حمید ثمر کے مطابق ان کے ٹی وی اسٹیشن میں 12 خواتین کام کرتی ہیں اور یہ اسٹیشن آمدنی کے ساتھ خواتین کو بااختیار بنانے انہیں مختلف شعبہ میں شامل کرنے کے مشق میں کامیاب ہورہا ہے۔ نوری کہتی ہیں کہ وہ نسلی ہزارہ فیملی سے تعلق رکھتی ہیں اور اس کمیونٹی پر اکثر طالبان اور داعش کے جنگجو حملے کرتے رہتے ہیں۔ نوری اس بات کا اعتراف بھی کرتی ہے کہ اس کی زندگی کو خطرہ لاحق ہے۔ اس کے باوجود وہ خواتین کے حقوق کیلئے ایک صحافی کی حیثیت سے اپنی جدوجہد جاری رکھے گی۔

Top Stories

TOPPOPULARRECENT