Tuesday , October 23 2018
Home / شہر کی خبریں / ’AKDN‘ معاشی ، سماجی اور ثقافتی خدمات کا مجموعہ

’AKDN‘ معاشی ، سماجی اور ثقافتی خدمات کا مجموعہ

گزشتہ دو روز اس کالم میں آغا خان ڈیولپمنٹ نٹ ورک

(AKDN)

کی چند ہندوستانی ریاستوں میں خصوصیت کے ساتھ اسکولوں میں صفائی و حفظانِ صحت اور پھر کھلے عام رفع حاجت (چھوٹی ضرورت ہو کہ بڑی) کی حوصلہ شکنی نیز ضروری انتظامات کی فراہمی سے متعلق مہم پر روشنی ڈالی گئی۔ زیرنظر سطور این جی او (غیرسرکاری تنظیم) ’اے کے ڈی این‘ کی مختلف النوع سرگرمیوں (زیرنظر خاکہ ملاحظہ کیجئے) کے بارے میں قارئین کو اختصار میں جانکاری فراہم کرنے کی تیسری و آخری قسط ہے۔ ’اے کے ڈی این‘ کی بنیاد اسماعیلی فرقہ کے 49 ویں امام جو 11 جولائی 1957ء سے تاحال برقرار ہیں، 81 سالہ پرنس کریم آغا خان (آغا خان چہارم) نے ڈالی اور وہی اس کے سرپرست ِ اعلیٰ ہیں۔ ’اے کے ڈی این‘ سے قبل کے ابتدائی ادارے ہندوستان میں 1905ء سے فلاحی کاموں سے وابستہ رہے ہیں۔ آغا خان ڈیولپمنٹ نٹ ورک وسیع تر پروگراموں پر کئی ریاستوں میں کام کررہا ہے جن میں گجرات، بہار، اترپردیش، دہلی، مہاراشٹرا، مدھیہ پردیش، راجستھان، آندھرا پردیش، تلنگانہ شامل ہیں۔
عالمی سطح پر ’اے کے ڈی این‘ شمالی امریکا، یورپ، مشرقی افریقا، مغربی افریقا، مشرقِ وسطیٰ، وسطی ایشیا، جنوبی ایشیا، مشرقِ بعید میں پھیلے ہوئے 30 ممالک میں سرگرم ہے۔ اس کے زائد از 80,000 ملازمین ہیں جن میں سے زیادہ تر آغا خان فنڈ فار اکنامک ڈیولپمنٹ (AKFED) کی پراجکٹ کمپنیوں سے وابستہ ہیں۔ ’اے کے ڈی این‘ کا سال 2010ء میں سالانہ بجٹ برائے سماجی و ثقافتی ترقیاتی سرگرمیاں 625 ملین امریکی ڈالر رہا۔ تمام اے کے ڈی این ایجنسیاں ماسوائے ’اے کے ایف ای ڈی‘ غیرمنفعت بخش ہیں، جو اپنے فارمولا برائے استحکام کے تحت منافع پیدا کرنے کی سعی کرتے ہیں، لیکن تمام قسم کے نفع کو مزید ترقیاتی سرگرمیوں کیلئے دوبارہ مشغول کردیتے ہیں۔ اے کے ڈی این کی ایجنسیاں بلالحاظ مذہب، نسل یا جنس اپنے پروگراموں کو چلاتے ہیں۔ جہاں ہر ایجنسی کا اپنا مفوضہ کام ہوتا ہے، وہیں وہ سب مجموعی طور پر آغا خان ڈیولپمنٹ نٹ ورک‘ کے جامع چوکھٹے کے اندرون کام کرتے ہیں تاکہ اُن کی مختلف نوعیت کی مساعی باہم تال میل کے ساتھ ٹھوس نتائج پیش کریں۔
بہار اور اُترپردیش میں ’اے کے ڈی این انڈیا‘ کے Multi-Input Area Development Model (سادہ الفاظ میں طویل مدتی مثبت تبدیلی کیلئے پیچیدہ و ہمہ رخی عمل) کے تحت دیہی علاقوں میں لگ بھگ 25 سال سے کام ہورہا ہے۔ خواتین کو بچت کے مؤثر استعمال کی ترغیب دی جارہی ہے۔ تعلیم، صحت اور معاشی خدمات تک دیہاتیوں کی رسائی کو بہتر بنایا جارہا ہے۔ ’آغا خان رورَل سپورٹ پروگرام‘ کے تحت بہار میں بالخصوص درج فہرست طبقات اور غریب مسلم اقلیتوں پر توجہ دی جارہی ہے جو زمینات نہیں رکھتے۔ ’آغا خان ٹرسٹ فار کلچر‘ بڑی یادگاروں اور یادگاری مقامات کے تحفظ کی سرگرمیوں میں مشغول ہے۔ چنانچہ دہلی میں مقبرۂ ہمایاں اور حضرت نظام الدین بستی اَربن رنیول پراجکٹ پر کام ہوا ہے۔ ’آغا خان ایجوکیشن سرویسز‘ میں لڑکیوں کی تعلیم کو اعلیٰ ترجیح دی گئی ہے۔ ’اے کے ای ایس‘ ابتدائی بچپن کا ایجوکیشن پروگرام ’’شیشو پہل پددھاتی‘‘ چلاتا ہے۔ ’آغا خان اکیڈیمی، حیدرآباد‘ (واقع ہارڈویئر پارک، مہیشورم منڈل، آر آر ڈسٹرکٹ ) 100 ایکڑ پر پھیلی ہوئی ہے۔ ’ہیلت سرویسز‘ ، ’پلاننگ اینڈ بلڈنگ سرویسز‘ بھی ’اے کے ڈی این‘ ریاستی و مرکزی حکومتوں نیز دیگر کے تعاون و اشتراک سے انجام دیتا ہے، جس کیلئے وہ تمام کا مشکور ہے۔
’اے کے ڈی این‘ کی سرگرمیوں کو پرنس کریم کے تاثرات میں یوں پیش کیا جاسکتا ہے جو انھوں نے 4 مارچ 2010ء کو اپنی تقریر میں کئے کہ آغا خان ڈیولپمنٹ نٹ ورک نے خود پر خصوصیت سے لازم کرلیا ہے کہ جو کچھ بھی وسائل دستیاب ہیں اُن کی اثرپذیری کو زیادہ سے زیادہ بڑھایا جائے۔ سوال یہ ہے کہ اسے عملی میدان میں کس طرح انجام دیا جائے؟ اس کیلئے پہلا سوال یہ ہونا چاہئے کہ آیا نوعیت ِترقیاتی عمل بجائے خود گزرتے وقت کے ساتھ تبدیل ہوئی ہے۔ ’’میرا ماننا ہے کہ ایسا ہوا ہے۔‘‘چنانچہ ’اے کے ڈی این بدلتے وقت کے تقاضوں کو پورا کرنے کی کوشش ہے۔

TOPPOPULARRECENT