Tuesday , June 19 2018
Home / نوجوانوں کا صفحہ / APTET ٹیچرس اہلیتی امتحان

APTET ٹیچرس اہلیتی امتحان

NCTE نیشنل کونسل فار ٹیچرس ایجوکیشن کا 1995 ء میں پارلیمنٹ ایکٹ کے تحت قیام عمل میں آیا ۔ یہ کونسل ملک بھر کے تمام ٹیچر ٹریننگ اداروں کی نگرانی کرتی ہے ۔ ان کو ہدایات اور رہنمایانہ نکات جاری کرتی ہے ۔ چنانچہ کونسل کے قیام کے بعد انٹرمیڈیٹ کے بعد ٹیچر ٹریننگ کورس جس کو TTC کہا جاتا تھا کرناٹک میں TCH تھا ۔ مہاراشٹرا میں ڈی ایڈ تھا ۔ ملک بھر می

NCTE نیشنل کونسل فار ٹیچرس ایجوکیشن کا 1995 ء میں پارلیمنٹ ایکٹ کے تحت قیام عمل میں آیا ۔ یہ کونسل ملک بھر کے تمام ٹیچر ٹریننگ اداروں کی نگرانی کرتی ہے ۔ ان کو ہدایات اور رہنمایانہ نکات جاری کرتی ہے ۔ چنانچہ کونسل کے قیام کے بعد انٹرمیڈیٹ کے بعد ٹیچر ٹریننگ کورس جس کو TTC کہا جاتا تھا کرناٹک میں TCH تھا ۔ مہاراشٹرا میں ڈی ایڈ تھا ۔ ملک بھر میں اس کو ایک ہی نام D.Ed ڈپلوما ان ایجوکیشن کردیا گیا ۔ اس طرح یونیورسٹی کے کالج آف ایجوکیشن کا نام بدل کر ملک بھر میں ایک ہی نام IASE انسٹی ٹیوٹ آف اڈوانس اسٹڈی ان ایجوکیشن کردیا گیا

داخلہ کے طریقہ کار کو بھی ملک بھر میں ایک نظام / سسٹم بنایا گیا ۔ ریگولر بی ایڈ کے علاوہ بی ایڈ فاصلاتی Distance کو ختم کردیا گیا صرف IGNOU اندرا گاندھی نیشنل اوپن یونیورسٹی کو DEC کے مسلمہ حیثیت کے ذریعہ اس کورس کی سہولت ہے ۔ بعض یونیورسٹیز میں بی ایڈ ووکیشنل (Vacation) کورس برسرخدمت ٹیچرس کیلئے ہوتا ہے ۔ NCTE کے کاموں میں جہاں ان اداروں کی نگرانی کرنے انہیں احکامات اور ہدایات جاری کرنا ہے وہیں پر نصاب کی تدوین کیلئے بھی رہنمایانہ نکات دینا ہے اور NCTE ہی نے 2010 ء سے ملک بھر میں ٹیچر ٹریننگ کورسز کئے امیدواروں کیلئے اور ایک اہلیتی امتحان Eligibility Test روشناس کیا ہے ۔

اب یہ امتحان کیا ہے کیوں لکھنا چاہئے اور اس کیلئے کون اہل ہیں ۔ 16 مارچ کے امتحان کے پیش نظر مختصر معلومات شائع کی جارہی ہیں ۔ NCTE نیشنل کونسل فار ٹیچرس ایجوکیشن نے ان تین امتحانات اکیڈمک ، انٹرنس اور رکروٹمنٹ کے علاوہ ٹیچر ٹریننگ کورس کئے امیدواروں کو صرف ٹیچنگ کی اہلیت بتانے کیلئے ٹیچرس اہلیتی امتحان TET 2010 ء سے تمام ریاستوں میں ریاستی حکومت کے محکمہ تعلیمات کے تحت منعقد کرنے اور قومی سطح پر CBSE کے تحت CTET منعقد کرنے کے نہ صرف احکامات جاری کئے بلکہ سال 2010 ء سے سال میں دو دفعہ اس کو انعقاد کرنے کیلئے پابند کیا گیا چنانچہ ہر سال جون میں اور ڈسمبر / جنوری میں دو دفعہ یہ ٹٹ امتحان منعقد ہورہا ہے ۔

آندھراپردیش پہلے دو سال 4 امتحانات ہوئے 5 واں ٹسٹ ڈسمبر 2012 ء جنوری 2013 کا نہیں ہوا اس کے بجائے پانچواں ٹٹ ستمبر 2013 ء کو رکھنے کیلئے فارم آن لائن داخل کئے گئے لیکن اس کو باربار ملتوی کیا جاکر اب 16 مارچ کو پانچواں APTET رکھا جارہا ہے ۔ یہ ٹسٹ TET ، 150 – 150 سوالات کے دو دو پرچوں پر مشتمل ہوتا ہے ۔ ایک مضمون پہلے تیس سوالات کیلئے جو دیا گیا وہ چائلڈ ڈیولپمنٹ اینڈ پیاڈاگوجی ہے جس کو بچہ کی نشو و نما و تدریسی مطالعہ کہا جاتا ہے ڈی ایڈ / بی ایڈ / یو پی ٹی / ٹی پی ٹی امیدوار جو بچوں کی نفسیات ، تعلیمی نفسیات اور تعلیمی فلاسفی پڑھتے ہیں اس کے سوالات ہی بدل کر آبجیکوٹائپ MCQ میں پوچھے جاتے ہیں ۔ سابق درسی کتب کا نصاب ہوگا اس کے علاوہ تمام سوالات کو OMR جوابی شیٹ پر حل کرنا ہوگا ۔ دائرہ O کو صحیح بھرنا ہوگا ۔ TET امتحان کو سخت مشکل کردیا گیا ہے ۔ CTET جو ملک گیر سطح پر ہوا جنوری 2013 ء میں صرف ایک فیصد امیدوار ہی کامیاب ہوئے تھے اور 99 فیصد امیدوار ناکام ہوئے تھے ۔

اس کے خلاف راجستھان ، ٹاملناڈو اور کئی ریاستی حکومتیں سے عدلیہ سے رجوع ہو کر TET کو ختم کرنے کی سفارش کی گئی اس وجہ سے یہ وقت پر ہو بھی نہ پایا لیکن ایک ٹرینڈ گریجویٹ امیدوار کو صرف Teachers کی اہلیت بتانے کیلئے جو سخت امتحان ہے ۔ اس کے سوالات کی نوعیت بھی تعلیمی فلسفہ اور تدریسی رحجان کے ساتھ طریقہ تدریس سے متعلق گھومے پھرے سوالات پر مشتمل ہوتی ہے اور امتحان کا سوالی پرچہ یقینی طور پر الگ رہے گا ۔ اور اس میں کامیابی کے جو اقل ترین نشانات رکھے گئے وہ بھی عام امتحانات کی بہ نسبت زیادہ ہے ۔ ہر امتحان میں کامیابی کیلئے 35 فیصد یا 36 فیصد نشانات کے حصول پر کامیاب قرار دیا جاتا ہے ۔ لیکن اس امتحان TET میں کامیابی کیلئے کم از کم نشانات 60 فیصد یعنی 150 کے منجملہ 90 نشانات لانا ہوگا صرف BC اور تحفظات زمرہ کیلئے 50 فیصد نشانات یعنی 150 کے منجملہ 75 نشانات پر کامیابی حاصل ہوگی ۔ اس طرح ایک نشان کم لا کر بھی امیدوار ناکام ہورہے ہیں ۔ TET کیلئے اس دفعہ امتحان کی صحیح تاریخ نہ معلوم ہونے سے امیدوار تیاری روک دیئے تھے ۔ اب ہال ٹکٹ ملنے پر تیزی آئے گی ۔

TET کا سوالی پرچہ نیا آتا ہے ؟
TET کے امتحان میں شرکت کرنے والے شہر اور اضلاع کے امیدواروں کو مشورہ دیا جاتا ہیکہ وہ TET کیلئے کئی کتب ، گائیڈ میٹرئیل کا مطالعہ کئے ہو سوالی پرچے بالکل نیا ہوگا ۔ سوالات نئے قسم کے آئینگے ۔ امیدوار ذہنی طو رپر تیار ہو کر ان کے سامنے جو سوالی پرچہ دیا جائے گا وہ نئے سوالات پر مشتمل ہوگا ۔ صرف Pattery اور عنوانات رہینگے ۔ لہذا اس سوالات کو وقت پر سمجھ کر حل کرنا ہی امتحان ہے اور صحیح جوابات سے نشانات حاصل ہونگے ۔ منفی مارکس نہیں ہے ۔ اس کے ماڈل پیپر گائیڈ دفتر سیاست عابڈس ۔سے حاصل کریں

TOPPOPULARRECENT