42 گنا تیزی سے پھیلنے کے اندیشے ۔ صورتحال مزید تباہ کن ہونے کے خدشات
حیدرآباد۔4جنوری(سیاست نیوز) دنیا بھر میں کورونا کی نئی قسم ’اومی کرون‘ کے متعلق تاحال کوئی قطعی فیصلہ یا علاج کے علاوہ اسے پھیلنے سے روکنے کے اقدامات نہیں کئے جاسکے لیکن ابھی سے فرانس نے کورونا کی ایک اور قسم آئی ایچ یو(IHU) کی توثیق کی اور یہ دعویٰ کیا کہ اس قسم کے سبب مزید تباہ کن صورتحال پیدا ہوسکتی ہے کیونکہ یہ انتہائی متعدی ہے ۔ اب تک اومی کرون کے متعلق کہا جا رہاتھا کہ یہ ڈیلٹا سے 5گنا زیادہ رفتار سے پھیلتا ہے اور اس سے نمٹنے سخت اقدامات اور احتیاط ناگزیر ہے لیکن اب فرانس نے جو نئی قسم کی توثیق کی ہے اس کے متعلق دعویٰ کیا ہے کہ یہ 42 گنا زیادہ رفتار سے پھیلنے والی قسم ہے اور IHU کے متاثرین کی تعداد میں تیزی کے ساتھ اضافہ ہوگا ۔ محققین کا کہناہے کہ اگر یہ نئی قسم تیزی سے پھیلنے لگتی ہے تو کورونا پر قابو پانا انتہائی دشوار ہوجائے گا ۔ ماہرین نے بتایا کہ یہ انتہائی متعدی قسم مسافرین کے ذریعہ دیگر ممالک تک رسائی حاصل کر رہی ہے اور اب جبکہ جنوبی افریقہ میں اومی کرون مریضوں کی تعداد میں کمی آرہی ہے اسی دوران جنوبی افریقہ میں ہی IHU کی نشاندہی کی گئی اور افریقی ممالک سے پہنچنے والے مریضو ںکے ذریعہ فرانس میں شہری اس سے متاثر ہوئے ہیں۔ فرانسیسی محققین نے بتایا کہ اس نئی قسم کے متعلق تحقیق جاری ہے لیکن یہ توثیق ہوچکی ہے کہ یہ قسم سب سے زیادہ متعدی ہے اور اس قدر طاقتور ہے کہ کورونا سے محفوظ رہنے جو ٹیکہ دیا گیا وائرس اس کا بھی مقابلہ کرسکتا ہے ۔ دنیا میں اس نئی قسم کے انکشاف اور توثیق کے ساتھ ہی ایک اور الرٹ جاری کرکے بیشتر ممالک میں کورونا معائنہ کے ساتھ جینوم ترتیب سے یہ پتہ لگانے کی کوشش کی جا رہی ہے کہ متاثرین میں کون اومی کرون متاثر ہیں اور کون IHU سے متاثر ہے ۔ فرانس نے اپنے محققین کی جانب سے تیار کی گئی رپورٹ اور تمام تر تفصیلات عالمی ادارہ ٔ صحت کو روانہ کردی ہیں تاکہ عالمی ادارہ صحت کے ماہرین کی جانب سے اس نئی قسم کا جائزہ لینے کے بعد احتیاطی اقدامات کے سلسلہ میں عالمی سطح پر رہنمایانہ خطوط جاری کئے جاسکیں۔م