Wednesday , June 20 2018
Home / نوجوانوں کا صفحہ / INDIA’S X & XII EXAM – Board دسویں بارہویں کے امتحانی بورڈس

INDIA’S X & XII EXAM – Board دسویں بارہویں کے امتحانی بورڈس

مارچ کا مہینہ امتحانات کا مہینہ ہوتا ہے ۔ بالخصوص بورڈ کے امتحانات طالب علم کیلئے نئے تجربہ کے ساتھ ذہانت اور سال بھر کی تعلیم کا صحیح جانچ کے ساتھ ہوتے ہیں ۔ ہندوستان میں اس وقت 14 ملین ( ایک کروڑ 40 لاکھ ) امیدوار دسویں کا امتحان لکھ رہے ہیں اور بارہویں کا امتحان 9 ملین ( 90 لاکھ ) لکھ رہے ہیں ، ملک بھر میں اس وقت 34 بورڈس یہ امتحانات منعقد

مارچ کا مہینہ امتحانات کا مہینہ ہوتا ہے ۔ بالخصوص بورڈ کے امتحانات طالب علم کیلئے نئے تجربہ کے ساتھ ذہانت اور سال بھر کی تعلیم کا صحیح جانچ کے ساتھ ہوتے ہیں ۔ ہندوستان میں اس وقت 14 ملین ( ایک کروڑ 40 لاکھ ) امیدوار دسویں کا امتحان لکھ رہے ہیں اور بارہویں کا امتحان 9 ملین ( 90 لاکھ ) لکھ رہے ہیں ، ملک بھر میں اس وقت 34 بورڈس یہ امتحانات منعقد کرتے ہیں ان میں دو قومی سطح کے بورڈس / کونسل ہیں اور تین انٹرنیشنل بورڈس ہیں ۔ بعض ریاستوں میں دسویں اور بارہویں کا ایک ہی بورڈ ہے جبکہ بیشتر ریاستوں میں دسویں کا الگ اور گیارہویں / بارہویں کے امتحانات کا الگ بورڈ ہے جیسے آندھراپردیش میں دسویں کیلئے بورڈ آف سکنڈری ایجوکیشن ہے جو ایس ایس سی امتحانات منعقد کرتے ہوئے سرٹیفیکٹ جاری کرتا ہے اس طرح گیارہویں / بارہویں کیلئے بورڈ آف انٹرمیڈیٹ ایجوکیشن ہے جو انٹرمیڈیٹ کے سال اول اور سال دوم کے امتحانات منعقد کرتا ہے

ملک کی تمام بڑی ریاستوں میں دسویں اور بارہویں کے بورڈ امتحانات میں شریک طلبہ کی تعداد لاکھوں میں ہوتی ہے ۔ ہمارے ملک کا تعلیمی نظام 10+2+3 ہے ۔ دسویں سطح تک اسکول ایجوکیشن ہے اور دسویں کا بورڈ کا امتحان ہے ۔ بارہویں سینئر سکنڈری ، ہائر سکنڈری یا جونیر کالج سطح کا ہے اور +2 بارہویں کا بورڈ امتحان ہوتا ہے اور بارہویں کے بعد تین سالہ ڈگری کورس ہے جس کو انڈر گریجویشن بیاچلر ڈگری کہا جاتا ہے جو یونیورسٹی تعلیم میں آتا ہے اور اس کے امتحانات بھی یونیورسٹی منعقد ہوگا ۔ اس وقت ملک بھر میں 34 اسکولس بورڈس ہیں جو درسی کتب / نصاب کے ساتھ دسویں اور بارہویں کے بورڈ امتحانات منعقد کرتے ہیں اور کامیابی پر سرٹیفیکٹ عطا کرتے ہیں یہ بورڈ کامیابی پر جہاں سرٹیفیکٹ جاری کرتے ہیں وہیں پر تعلیمی اصلاحات اور امتحانی اصلاحات کے تحت کئی تبدیلیاں لاتے ہیں چنانچہ امیدواروں کو پہلے نشانات ان کا فیصد اور اس فیصد کے اعتبار سے ڈیویژن دیا جاتا تھا ۔ اس کو ختم کرتے ہوئے اس کی جگہ گریڈ دیا جانے لگے پھر گریڈ سسٹم کو ختم کرتے ہوئے گریڈ پوائنٹ دیئے جارہے ہیں اور مجموعی طو رپر GPAگریڈ پوائنٹ Avarage دیا جارہا ہے جو 10 میں سے 10 دیا جاتاہے ۔ آندھراپردیش میں دسویں کے امتحانات SSC میں GPA ہے اور انٹرمیڈیٹ میں گریڈ 75 فیصد یا A گریڈ اور 60 فیصد پر B گریڈ دیا جاتا ہے ۔ اسی طرح ہر ریاست میں بورڈ کا طریقہ کار جداگانہ ہے ۔ اور اسکولی تعلیم میں چاہے وہ دسویں سطح کی ہو یا بارہویں سطح کی اکثریت ریاستی حکومت کے تحت اسٹیٹ بورڈ کی ہوتی ہے اور ملک بھر کے لگ بھگ 90 فیصد طلبہ ریاستی بورڈ کے تحت تعلیم حاصل کرتے ہوئے امتحانات میں شرکت کرتے ہیں ۔ سرکاری اسکولس اور گورنمنٹ جونیر کالجس طلباء صرف ریاستی حکومت کے تحت ہی ہوتے ہیں ۔

CBSE کے تحت 15 ہزار اسکولس ملحقہ
ملک گیر سطح پر قومی سطح کی سنٹرل بورڈ CBSE ہے جو مرکزی حکومت کے وزارت فروغ انسانی وسائل MHRD کے تحت کام کرتا ہے ۔ سنٹرل بورڈ آف سکنڈری ایجوکیشن کا قیام 1962 ء میں ہوا اس وقت اس بورڈ سے ملک اور بیرون ملک 15 ہزار اسکولس ملحقہ ہیں اور اس بورڈ کے تحت دسویں کے امتحان کو جس کو سنٹرل بورڈ نے Optional قرار دیا ہے اس کے دسویں سطح کے امتحان میں لگ بھگ 12 لاکھ امیدوار شریک ہوتے ہیں CBSE کے الحاق کردہ اسکولس میں اکثریت دسویں سطح تک ہی تعلیم دیتا ہے ۔ اگرچہ کہ گیارہویں اور بارہویں بھی اس بورڈ میں ہے لیکن یہ سہولت کم تعلیمی اداروں میں ہے 15 ہزار کے منجملہ صرف 3500 اسکولس ہی ہیں یہ سہولت ہیں ۔ مرکزی حکومت کے تحت چلنے والے اسکولس KV کیندر ودیالیہ ، JNU جواہر نوویہ ودیالیہ آرمی اسکولس ، ایرفورس اسکولس ، اٹامک انرجی اسکولس ، سائنٹفک اسکولس کے علاوہ بیرون ممالک میں انڈین ایمبسی کے تحت چلنے والے اسکولس CBSE نصاب کے ہوتے ہیں ۔ NCERT کا تعلیمی نصاب Curriculumہوتا ہے CBSE بورڈ نہ صرف نصاب مہیا کرتا ہے اور اسکولس کو الحاق کرتا ہے بلکہ امتحانات منعقد کرتے ہوئے کامیابی پر سرٹیفیکٹ عطا کرتا ہے ۔ CBSE کے تحت جہاں دسویں سطح کے امتحان میں 12 لاکھ امیدوار شریک ہوتے ہیں ۔ وہی بارہویں سطح کے بورڈ امتحان میں 8 لاکھ امیدوار شریک ہوتے ہیں اور ان کو کامیابی پر بارہویں +2 سینئر سکنڈری سرٹیفیکٹ عطا کیا جاتا ہے ۔

CISCE کونسل فار انڈین اسکول سرٹیفیکٹ اگزامیشن کے تحت اسکولس / امتحانات
ملک بھر میں انگلش میڈیم کے معیاری تعلیم کے پرائیویٹ سکٹر میں جو کونسل قومی سطح پر ہے وہ نئی دہلی کی کونسل فار انڈین اسکول سرٹیفیکٹ اگزامیشن ہے ۔ اس کونسل کا قیام 1959 ء میں ہوا ۔ اس کے تحت الحاق کردہ اسکولس کی تعداد ملک بھر میں درجنوں اسکولس بیرون ملک میں جملہ صرف2 ہزار ہیں حیدرآبادکے معیاری اسکولس جو اس کونسل کے تحت ہیں ۔ ان میں HPS بیگم پیٹ ، گیتان جلی اسکول ،نصر اسکول ، پرنسس عیسن وغیرہ شامل ہیں ۔ اس کونسل کے تحت نہ صرف اسکولس کو ملحقہ کیا جاتا ہے بلکہ اس کے نصاب کے ساتھ کونسل دسویں اور بارہویں کے امتحانات منعقد کرتا ہے ۔ دسویں کا امتحان ICSE انڈین سرٹیفیکٹ آف سکنڈری ایجوکیشن کہلاتا ہے اور یہ سرٹیفیکٹ کامیابی پر دیا جاتا ہے ۔ اور بارہویں سطح کو ISC انڈین اسکول سرٹیفیکٹ کہا جاتا ہے ۔ لیکن CBSE کی طرح اس کونسل کے ملحقہ اسکولس کی اکثریت بھی صرف دسویں نصاب تک تعلیم دیتے ہوئے امتحانات منعقد کرتی ہے ۔ بارہویں سطح پر یہ تعداد گھٹتے ہوئے بہت کم ہوجاتی ہے اور بارہویں کے اسکولس بھی کم ہیں ۔ یہ ریگولر تعلیم کے 34 بورڈس کے علاوہ اوپن اسکولنگ سسٹم کے تحت NIOS نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف اوپن اسکولنگ ہے جو دسویں کا امتحان سکنڈری اور بارہویں کا امتحان سینئر سکنڈری ہوگا اس کیلئے درسی کتب میٹرئیل مہیا کئے جاتے ہیں اور NOS جو اب NIOS ہوگیا امتحانات منعقد کرتے ہوئے اسنادات جاری کرتا ہے ۔

انٹرنیشنل نصاب / بورڈ
IB – CIE – IGCSE
اسکول میں جہاں معیار اور عصری سہولیات کی بات آئی وہاں انٹرنیشنل معیار کے اسکولس ملک کے بڑے شہروں میں ٹائم ہیں جن میں حیدرآباد بھی شامل ہے ان کا نصاب بھی انٹرنیشنل اور بورڈ بھی انٹرنیشنل ہے ۔
IBO-Internaltional Baccalureate Orgnasition (Geneva)
CIE-Cambridge International Examination UK
IGCSE International Grade Certificate of Secondary Education
یہ بورڈس بین الاقوامی سطح پر دنیا کے مختلف ممالک میں اسکولس چلاتے ہوئے اپنا الگ نصاب اور اپنی الگ امتحان منعقد کرتے ہوئے سرٹیفیکٹ جاری کرتے ہیں۔

TOPPOPULARRECENT