Monday , June 25 2018
Home / شہر کی خبریں / l تلنگانہ تہذیب کے فروغ کے اقدامات

l تلنگانہ تہذیب کے فروغ کے اقدامات

اسمبلی میں وقفہ سوالات l آر ٹی سی کو بھاری نقصان lعثمان ساگر اور حمایت ساگر کا تحفظ

اسمبلی میں وقفہ سوالات
l آر ٹی سی کو بھاری نقصان

lعثمان ساگر اور حمایت ساگر کا تحفظ
حیدرآباد۔/14نومبر، ( سیاست نیوز ) وزیر ٹرانسپورٹ مہندر ریڈی نے بتایا کہ گزشتہ چند برسوں میں روڈ ٹرانسپورٹ کارپوریشن کو بھاری نقصانات کا سامنا کرنا پڑا۔ ایم کشن ریڈی اوردوسروں کے سوال پر وزیر ٹرانسپورٹ نے بتایا کہ یکم جون 2014ء تک روڈ ٹرانسپورٹ کارپوریشن کے نقصانات گزشتہ چند برسوں میں مجمودی طور پر 1095کروڑ 12لاکھ رہے جبکہ کارپوریشن کے قرضہ جات 2056کروڑ 75لاکھ سے متجاوز ہوچکے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ آر ٹی سی کی مسلمہ یونینوں سے 4جولائی 2013ء کو جو معاہدہ کیا گیا اس کے مطابق موجودہ10150 کنٹراکٹ ڈرائیورس اور7137 کنٹراکٹ کنڈکٹرس کے تقرر سے اتفاق کیا گیا۔ انہوں نے بتایا کہ چار مرحلوں میں ڈرائیورس اور کنڈکٹرس کی خدمات کو باقاعدہ بنایا گیا ہے۔ مجموعی طور پر 5084 ڈرائیورس اور 4207 کنڈکٹرس کی خدمات کو باقاعدہ بنایا گیا۔
٭٭ چیف منسٹر کے چندر شیکھر راؤ نے کہا کہ حکومت تلنگانہ تہذیب اور ثقافت کے تحفظ اور اس کے فروغ کیلئے اقدامات کررہی ہے۔ شریمتی جی سنیتا کے سوال کے جواب میں چیف منسٹر نے کہا کہ سابقہ حکومتوں کی جانب سے تلنگانہ تہذیب اور ثقافت کو نظرانداز کیا گیا۔ انہوں نے بتایا کہ بونال اور بتکماں تہواروں کو ریاستی تہوار قرار دیا گیا ہے اور بڑے پیمانے پر ان کا انعقاد عمل میں آیا۔ محکمہ ثقافت کی جانب سے شاعر ڈی کرشنم چاریلو کے یوم پیدائش کو منایا گیا۔ عوامی شاعر کالوجی نارائن راؤ کی یوم پیدائش تقاریب کے موقع پر ورنگل میں کالوجی کلچرل سنٹر کا سنگ بنیاد رکھا گیا۔ انہوں نے بتایا کہ تلنگانہ میں ضعیف فنکاروں کے وظائف میں حکومت نے اضافہ کیا ہے اور یکم نومبر 2014سے ماہانہ 500/- روپئے کے بجائے 1500/- روپئے ادا کئے جارہے ہیں۔ رویندرا بھارتی کی نگہداشت کے گرانٹ میں 30لاکھ سے ایک کروڑ کا اضافہ کیا گیا۔ 50لاکھ روپئے کے خرچ سے للت کلا تھورانم کی تزئین نو کا کام انجام دیا گیا۔ انہوں نے بتایا کہ بونال فیسٹول میں محکمہ انڈومنٹ و کلچرل نے 25لاکھ روپئے خرچ کئے جبکہ بتکماں فیسٹول کیلئے 10کروڑ خرچ کئے گئے۔
٭٭ وزیر جنگلات و ماحولیات جوگو رامنا نے بتایا کہ عثمان ساگر اور حمایت ساگر ذخائر آب کے آبگیر علاقے میں آلودگی پیدا کرنے والی صنعتوں، بڑی ہوٹلوں، رہائشی کالونیوں اور دیگر اداروں پر پابندی عائد کرتے ہوئے حکومت نے احکامات جاری کئے ہیں تاکہ علاقہ میں آلودگی کو روکا جاسکے۔ انہوں نے بتایا کہ پولیوشن کنٹرول بورڈ نے آبگیر علاقے میں 176صنعتوں کی نشاندہی کی ہے جن سے آلودگی کا خطرہ ہے۔ ان میں سے 117 یونٹس کو بند کردیا گیا جبکہ مابقی 59یونٹس پر حکام نظر رکھے ہوئے ہیں۔ وزیر جنگلات نے بتایا کہ اس طرح کے صنعتی اداروں کو دیگر مقامات پر منتقل کرنے کیلئے احکامات جاری کئے گئے۔ انہوں نے بتایا کہ میدک ضلع میں انڈسٹریل پارک کے قیام کیلئے مرکزی حکومت سے ماحولیاتی منظوری حاصل ہوچکی ہے۔

TOPPOPULARRECENT