Sunday , July 22 2018
Home / Top Stories / l گرین کارڈ بیک لاگ l

l گرین کارڈ بیک لاگ l

امریکہ میں ہندوستانی پروفیشنلس کی پرامن ریالیاں فی ملک کوٹہ سسٹم ختم کرنے کا مطالبہ
موجودہ نظام پر عمل آوری ہوئی تو انتظار 70 سال طویل بھی ہوسکتا ہے
’’جی سی ریفارمس‘‘ امریکی شہریوں میں بھی بیداری پیدا کرنے میں کامیاب

واشنگٹن ۔ 20 مارچ (سیاست ڈاٹ کام) امریکہ میں ملک گیر پیمانے پر سینکڑوں ہندوستانی پروفیشنلس نے پرامن ریالیوں کا اہتمام کرتے ہوئے امریکی حکومت سے مطالبہ کیا کہ گرین کارڈ کی اجرائی کا جو کام لیت و لعل میں پڑا ہوا ہے اس میں پیشرفت کرتے ہوئے فی ملک حدود قائم کرنے کا سلسلہ مسدود کیا جائے۔ ہندوستانی نژاد امریکی شہری جن کی کثیر تعداد انتہائی ہنرمندوں کے زمرہ میں آتی ہے اور H-1B ویزے پر امریکہ آئی ہے، انہیں امریکی حکومت کے موجودہ امیگریشن نظام سے سخت مشکلات کا سامنا ہے کیونکہ نئے نظام کے تحت امریکہ میں مستقل رہائش کیلئے فی ملک سات فیصد کا کوٹہ مقرر کیا گیا ہے جس کا نتیجہ یہ سامنے آیا ہے کہ اگر انتظار کے موجودہ طریقہ پر عمل کیا گیا تو پھر ہندوستان کے انتہائی ہنرمند طبقہ کو گرین کارڈ کی اجرائی کیلئے 70 سال تک انتظار کرنا پڑے گا جوکہ ایک مضحکہ خیز اور ناقابل عمل طریقہ ثابت ہوسکتا ہے۔ ارکنساس، کینٹکی اور اوریگن میں سینکڑوں افراد نے ریالیوں میں حصہ لیکر قانون سازوں سے یہ مطالبہ کیا کہ وہ بھی مستقل رہائش کیلئے درکار گرین کارڈس کے حصول کیلئے فی ملک کوٹہ سسٹم کی مخالفت کریں۔ دریں اثناء حال ہی میں ہندوستانی نژاد امریکی شہریوں کی جانب سے تشکیل دی گئی تنظیم ’’جی سی ریفارمس‘‘ جو سیاٹل سے اپنی سرگرمیاں چلائے گی، نے ایک اہم بیان دیتے ہوئے کہا کہ جیسے جیسے اس معاملہ میں امریکی عوام اور قانون سازوں کو بیداری کا پیغام مل رہا ہے وہ بھی ہمارے ساتھ شامل ہوکر اس قانون میں اصلاحات کی بات کرنے لگے ہیں جس کی وجہ سے گرین کارڈس کی اجرائی کا ڈھیر سارا کام لیت و لعل میں پڑا ہوا ہے اور جس کی یکسوئی کیلئے کئی سال درکار ہوں گے۔ کسی مخصوص ملک کے ساتھ امتیازی رویہ اختیار کرنا انتہائی نامناسب اور غیرانسانی حرکت ہوگی۔ ان کا ماننا ہیکہ جس وقت لنڈن جانسن امریکہ کے صدر تھے، اس وقت بھی اسی نوعیت کی حدبندی متعارف کی گئی تھی لیکن وہ ناکام ہوگئی تھی

لہٰذا جی سی دیگر ریاستوں میں بھی اپنی بیداری مہم جاری رکھے گا اور سب سے اچھی بات یہ ہیکہ اس مہم کو بعض سیاستدانوں کی تائید اور تعاون بھی حاصل ہے۔ ایوان نمائندگان میں ان اصلاحات پر بحث ہوئی ہے اور چار کے منجملہ تین کانگریسی ارکان اس مہم کی تائید کرتے ہیں اس کے باوجود اس بل کو ووٹنگ کیلئے پیش نہیں کیا گیا۔ ارکنساس میں متعدد امریکی شہریوں نے بھی ’’بریک دی بیک لاگ سیریز‘‘ اور ’’گرین کارڈ بیک لاگ راؤنڈ ٹیبل‘‘ کے عنوانات سے مباحثوں میں بھی حصہ لیا تاکہ انہیں گرین کارڈ کے حصول کیلئے طویل ترین انتظار کے بارے میں مزید معلومات حاصل ہوسکے۔ اس موقع پر تقریباً 300 افراد انتہائی ہنرمند ہندوستانیوں کی تائید میں وہاں جمع ہوئے جو گرین کارڈ بیک لاگ میں پھنس کر رہ گئے ہیں۔ بعدازاں جی سی ریفارمس کی جانب سے جو پریس ریلیز شائع ہوئی اس میں خصوصی طور پر ان ریالیوں کا تذکرہ کیا گیا کیونکہ وہ ہندوستانیوں کیلئے ایک اہم ترین مدعا تھا جس سے یہاں کے ڈاکٹرس، انجینئرس، ٹیچرس، نرسیس اور دیگر میڈیکل پروفیشنلز جڑے ہویء ہیں اور ان کی کثیر تعداد گرین کارڈ بیک لاگ کی وجہ سے اپنی اپنی ملازمتوں میں مزید پیشرفت سے قاصر ہیں۔ اس موقع پر نبراسکا ایونٹ سے کانگریس مین ڈان بیکن نے بھی خطاب کیا اور کہا کہ امریکہ جیسے عظیم ترین ملک کی ترقی میں ہندوستانیوں کے رول کو فراموش نہیں کیا جاسکتا ۔ انہوں نے نہ صرف ثقافتی طور پر بلکہ اپنی کڑی محنت سے بھی امریکی معیشت کو مستحکم کیا اور آج H-1B ویزا نظام میں جو خامیاں ہیں اس کا خمیازہ انہیں بھگتنا پڑ رہا ہے جس کا راست اثر نہ صرف ان کے ارکان خاندان پر بلکہ یہاں کے مقامی افراد پر بھی مرتب ہورہا ہے۔ میں چاہتا ہوں کہ اس مسئلہ کی یکسوئی کیلئے میری آواز بھی متعلقہ حکام تک پہنچے۔ سینیٹ ری پبلکن پالیسی کمیٹی کے مطابق امریکہ ہر سال ایسے ممالک سے تعلق رکھنے والوں کیلئے50,000 ویزے قرعہ اندازی کے ذریعہ جاری کرتا ہے جہاں سے میرٹ کی بنیاد پر ملازمتوں کا ویزا حاصل کرتے ہوئے لوگوں کو امریکہ آنے کا موقع نہیں ملتا۔

TOPPOPULARRECENT