مضامین

لال سلام سوروارم سدھاکر ریڈی

سید ولی اللہ قادری حوصلہ افزا وراثت:ایک نڈر دانشور سے لے کر ہندوستان کی محنت کش عوام کی آواز بننے تک، سوروارم سدھاکر ریڈی نے اْس جدوجہد کی علامت پیش

تفویض طلاق خلع جیسے مسائل کا حل

محمد اسد علی ، ایڈوکیٹموجودہ دور میں کثرت سے طلاق اور خلع کے واقعات ہورہے ہیں۔ شوہر اور بیوی میں اختلافات ایک عام بات ہوچکی ہے۔ میاں اور بیوی دونوں

ہوائے وقت کا رخ تو بدل بھی سکتا ہے

خلیل قادریکہتے ہیں سیاست میں کبھی بھی کچھ بھی ہوسکتا ہے ۔ چند ماہ بلکہ چند ہفتے قبل تک یہ کہا جا رہا تھا کہ ملک میں مودی کا کوئی

بلند ہاتھوں میں زنجیر ڈال دیتے ہیں

جرائم ایک بہانہ … نائیڈو اور نتیش اصل نشانہ ووٹ چور گدی چھوڑ … راہول کے نعرہ سے سیاسی سونامی رشیدالدینجمہوریت یا پولیس اسٹیٹ۔ نریندر مودی حکومت یا ہٹلر کی

آؤ ، لوٹ چلیں پیچھے کی طرف…؟

انجینئر محمود اقبالوہ کاغذ کی کشتی ، وہ بارش کا پانیبڑی خوبصورت تھی وہ زندگانیکیا آپ آگے آگے ہی دیکھ رہے ہیں یا کبھی پیچھے کی طرف مڑ کر دیکھنے

ایس آئی آر ناقابل بھروسہ

پی چدمبرم(سابق مرکزی وزیر داخلہ و فینانس) سارے ملک میں فی الوقت الیکشن کمیشن اور اس کے اقدامات کو لے کر بحث و مباحث کا سلسلہ جاری ہے ،خاص طور

مسلمانوں کے خلاف زہر اور میڈیا کا جھوٹ

پروفیسر اپوروانندملک میں فرقہ پرستی کس قدر سرائیت کر گئی ہے اس کا اندازہ مختلف ریاستوں میں پیش آرہے عجیب و غریب بلکہ ناقابل تصور واقعات سے بخوبی لگایا جاسکتا

کس سے ہم شکوہ کریں کہ ووٹ چوری ہوگئے

مودی ۔ آپریشن سندور کا ذکر۔ ٹرمپ کو جواب نہیں دیا ایمرجنسی یاد رہی۔ ووٹ چوری بھول گئے الیکشن کمیشن پر سپریم کورٹ کا شکنجہ رشیدالدینہندوستان نے آزادی کے 79

راج موہن گاندھی باوقار شخصیت

رامچندر گوہاراج موہن گاندھی کو ہندوستان ہی نہیں دنیا بھر میں جانا جاتا ہے۔ عالمی سطح کے دانشوروں ، ماہرین تعلیم ، سوانح نگاروں ، مورخین اور سیاستدانوں میں اُنھوں

مودی کو کون لے ڈوبے گی نااہلی یا عمر

سنجے کے جھاملک کے سیاسی و عوامی حلقوں میں پچھلے چند ہفتوں سے سوشیل میڈیا پلیٹ فارمس اور نیوز پورٹلس کے ذریعہ بڑی تیزی سے پھیلنے والی ایک خبر موضوع

پہلے یہ طئے کرو کہ وفادار کون ہے

سپریم کورٹ … راہول گاندھی کی حب الوطنی پر سوال عدلیہ پر زعفرانی رنگ … بی جے پی ترجمان ہائی کورٹ کی جج نفرت کی مہم … اسکولی بچوں کو

عیسائی مخالف تشدد میں اضافہ

رام پنیانیگزشتہ ماہ کے اواخر میں (26 جولائی 2025) مدھیہ پردیش کے درگ اسٹیشن پر دو عیسائی راہباوں کو گرفتار کیا گیا۔ ان کے خلاف انتہائی سنگین نوعیت کے الزامات