شیشہ و تیشہ

شیشہ و تیشہ

پاپولرؔ میرٹھیڈھونڈتی رہ جاؤگی …!!تم کنواری رہ کے شوہر ڈھونڈتی رہ جاؤگیدیکھ لینا زندگی بھر ڈھونڈتی رہ جاؤگیجلد سے جلد اپنے گھر میں نوکری دیدو مجھےورنہ بے قیمت کا نوکر

شیشہ و تیشہ

پاپولرؔ میرٹھیخوف سے …!!حسن کا نایاب اور دلکش خزانہ چھوڑ دیںاس کے گھر کے سامنے سیٹی بجانا چھوڑ دیںسچ ہے اُس کے بھائیوں سے ہم کو خطرہ ہے مگرزلزلوں کے

شیشہ و تیشہ

اطہر شاہ خاں جیدیماموں …!!ناکام محبت کاہر اک دکھ سہناہرحال میں انجام سے ڈرتے رہناقدرت کا بڑا انتقام ہے جیدیؔمحبوبہ کی اولاد کا ماموں کہنا…………………………فرید سحرؔ…!!دم نکلتے ہی میاں پچیس

شیشہ و تیشہ

احمد علویاچھا …!!نہ ٹانگیں توڑنا اچھا نہ سر کو پھوڑنا اچھاجہاں پٹنے کا خدشہ ہو وہاں سے دوڑنا اچھااگر معلوم ہو جائے وہ دختر ہے داروغہ کیاسی میں خیریت ہے

شیشہ و تیشہ

احمد علویمشورہ !!جسے سالے سسر اور سالیوں سے پیار ہوتا ہےاِسی شوہر کا اس دنیا میں بیڑا پار ہوتا ہےکہا بیوی نے یہ مجھ سے مٹا دے اپنی ہستی کوکہ

شیشہ و تیشہ

شاہد ریاض شاہدؔیہ سال بھی !مسئلے تو پچھلے سال کے اپنی جگہ رہےسب سوچتے رہے کہ نیا سال آ گیاخوشیاں جو بانٹتا تو کوئی نئی بات تھیگزرا ہوا یہ سال

شیشہ و تیشہ

شاہد ریاض شاہدؔنیا سال مبارکلو جی غربت اور مہنگائی کا وبال آ گیاگندی سیاست کا ایک جھنجال آ گیابجلی گیس کی لوڈ شیڈنگ لیے دوستو!ہر سال کی طرح پھر نیا

شیشہ و تیشہ

طالب خوندمیرینیا سال!آنا تھا جسے ، وہ تو بہرحال آیااندیشے کئی دِل میں نئے ڈال آیاارزانیاں پہلے ہی سے پژمردہ تھیںمہنگائیاں خوش ہیں کہ نیا سال آیا…………………………پاپولر میرٹھیسال بھر بعد

شیشہ و تیشہ

احمد علویپیاری بیوی …!!پیاری ہو کہ پتلی ہو ہلکی ہو کہ بھاری ہوبیوی وہ تمہاری یا بیوی وہ ہماری ہوہر عمر کے شوہر کا علویؔ ہے یہی کہنابیوی وہی پیاری

شیشہ و تیشہ

سکندر حیات گڑبڑؔفصلِ بہار …!!شادی تو چار کرچکا فصلِ بہار میںگزرا نہ ایک دن بھی مگر اپنا پیار میںمیں تو مشاعروں میں رہا اور بیویاںدو آرزو میں مرگئیں دو انتظار

شیشہ و تیشہ

احمد علویسبق …!!سبق شادی شدہ لوگوں سے لیجئےمحبت میں پریشانی سے بچئےمزے سے عشق کیجے بیس پچیسمگر شادی کی نادانی سے بچئے…………………………فرید سحرؔایسا کیوں ہوتا ہے …!!ایسا کیوں ہوتا ہے

شیشہ و تیشہ

انورؔ مسعودقیس بنی عامر اور لیلیٰ کی ماں !!تیرا مردہ خدا خراب کرےسوکھ جائے تو بید کی مانندکبھی تیرے نصیب ہوں نہ ہرےتو گرفتار ہو شبے میں کہیںکوئی تیرا نہ

شیشہ و تیشہ

سکندر حیات گڑبڑؔتمنا …!!میں ہر روز پٹوں عشق میں مجنوں کی طرحاور تڑپتی ہے میرے پیار میں لیلی میریاس کے ابا کو تو دنیا سے اُٹھا لے یارب!لب پہ آتی

شیشہ و تیشہ

سکندر حیات گڑبڑتہمت …!!مجھ پہ تہمت اہل فن کی یوں بھی صبح و شام ہےعالمِ فتنہ گری میں میرا اول نام ہےذکر میرا جب سنا تو کہہ دیا شیطان نےبھائی

شیشہ و تیشہ

انور ؔمسعوداُوں ہوں !!ووٹوں سے کہ نوٹوں سے کہ لوٹوں سے بنے ہیںیہ راز ہیں ایسے جنہیں کھولا نہیں کرتےجمہوریت اک طرزِ حکومت ہے کہ جس میںاندر کی جو باتیں

شیشہ و تیشہ

عبدالقدوس رضوانؔضروری ہے …!!ہاتھ میں لیڈروں کے ڈائری ہےکیوں نہ ہو یہ بہت ضروری ہےلکھی جاتی ہے بات مطلب کیکونسے بار ، کس کی باری ہےمئے کے ، پیسوں کے

شیشہ و تیشہ

نیازؔ سواتیکچھ نہیں …!!میں نے اک بیوہ سے پوچھا یہ بتا اے نیک بختشوہر مرحوم نے چھوڑا ہے کیا تیرے لئےوہ یہ بولی چل بسا وہ چھوڑ کر بارہ یتیمماسوا

شیشہ و تیشہ

سید معینؔ اختر نقویاُردو …!!اُردو کو فارسی نے شرابی بنا دیاعربی نے اِس کو خاص تُرابی بنا دیااہلِ زباں نے اِس کو بنایا بہت ثقیلپنجابیوں نے اِس کو گلابی بنا

شیشہ و تیشہ

دلاور فگارؔغزل ہوتی ہے …!!اک دوات ایک قلم ہو تو غزل ہوتی ہےجب یہ سامان بہم ہو تو غزل ہوتی ہےمفلسی عشق مرض بھوک بڑھاپا اولاددل کو ہر قسم کا

شیشہ و تیشہ

نیازؔ سواتیچائے … !!یہ سُنا ہے ہم نے، جاری حکم یہ ہونے کو ہےچائے دفتر میں نہ کوئی نوشِ جاں فرمائے گادفتروں میں اک یہی تو کام ہوتا ہے نیازؔختم