شیشہ و تیشہ

شیشہ و تیشہ

احمد علویسبق …!!سبق شادی شدہ لوگوں سے لیجئےمحبت میں پریشانی سے بچئےمزے سے عشق کیجے بیس پچیسمگر شادی کی نادانی سے بچئے…………………………فرید سحرؔایسا کیوں ہوتا ہے …!!ایسا کیوں ہوتا ہے

شیشہ و تیشہ

انورؔ مسعودقیس بنی عامر اور لیلیٰ کی ماں !!تیرا مردہ خدا خراب کرےسوکھ جائے تو بید کی مانندکبھی تیرے نصیب ہوں نہ ہرےتو گرفتار ہو شبے میں کہیںکوئی تیرا نہ

شیشہ و تیشہ

سکندر حیات گڑبڑؔتمنا …!!میں ہر روز پٹوں عشق میں مجنوں کی طرحاور تڑپتی ہے میرے پیار میں لیلی میریاس کے ابا کو تو دنیا سے اُٹھا لے یارب!لب پہ آتی

شیشہ و تیشہ

سکندر حیات گڑبڑتہمت …!!مجھ پہ تہمت اہل فن کی یوں بھی صبح و شام ہےعالمِ فتنہ گری میں میرا اول نام ہےذکر میرا جب سنا تو کہہ دیا شیطان نےبھائی

شیشہ و تیشہ

انور ؔمسعوداُوں ہوں !!ووٹوں سے کہ نوٹوں سے کہ لوٹوں سے بنے ہیںیہ راز ہیں ایسے جنہیں کھولا نہیں کرتےجمہوریت اک طرزِ حکومت ہے کہ جس میںاندر کی جو باتیں

شیشہ و تیشہ

عبدالقدوس رضوانؔضروری ہے …!!ہاتھ میں لیڈروں کے ڈائری ہےکیوں نہ ہو یہ بہت ضروری ہےلکھی جاتی ہے بات مطلب کیکونسے بار ، کس کی باری ہےمئے کے ، پیسوں کے

شیشہ و تیشہ

نیازؔ سواتیکچھ نہیں …!!میں نے اک بیوہ سے پوچھا یہ بتا اے نیک بختشوہر مرحوم نے چھوڑا ہے کیا تیرے لئےوہ یہ بولی چل بسا وہ چھوڑ کر بارہ یتیمماسوا

شیشہ و تیشہ

سید معینؔ اختر نقویاُردو …!!اُردو کو فارسی نے شرابی بنا دیاعربی نے اِس کو خاص تُرابی بنا دیااہلِ زباں نے اِس کو بنایا بہت ثقیلپنجابیوں نے اِس کو گلابی بنا

شیشہ و تیشہ

دلاور فگارؔغزل ہوتی ہے …!!اک دوات ایک قلم ہو تو غزل ہوتی ہےجب یہ سامان بہم ہو تو غزل ہوتی ہےمفلسی عشق مرض بھوک بڑھاپا اولاددل کو ہر قسم کا

شیشہ و تیشہ

نیازؔ سواتیچائے … !!یہ سُنا ہے ہم نے، جاری حکم یہ ہونے کو ہےچائے دفتر میں نہ کوئی نوشِ جاں فرمائے گادفتروں میں اک یہی تو کام ہوتا ہے نیازؔختم

شیشہ و تیشہ

انورؔ مسعودکرے گا کیا …!!مانا کہ بیٹھ جائے گا دفتر میں تھوڑی دیراُٹھے گا جب وہاں سے تو اُٹھ کر کرے گا کیا؟انورؔ مری سمجھ میں تو آتی نہیں یہ

شیشہ و تیشہ

وحید واجد (رائچور)بُرے دن ہیں …!ہیں یہ کیسے نِیَمْ بُرے دن ہیںہے سِتم پہ سِتم بُرے دن ہیںسُنیئے ستیم شِوم نہیں بلکہمیڈ اِن مودِیم بُرے دن ہیں………………………عابد علی بیگڈھیٹ …!!ڈھیٹ

شیشہ و تیشہ

غوث خواہ مخواہ ؔحالت خراب ہے …!!کِتے دنوں سے دکنی کی حالت خراب ہےلگ را ہے جیسے اُس کی بھی صحت خراب ہےگِلیؔ، خطیبؔ اور بھلانواؔ بھی جا چکےمیری بھی

شیشہ و تیشہ

اکبر خان اکبرؔرشتہ کیسے طے کریں (موضوعاتی نظم)جب بھی کسی سے رشتہ کی تم بات کیجئےفرصت میں پہلی اُس سے ملاقات کیجئےجانا ہو نارتھ زون سے گر ساؤتھ زون کوہرگز

شیشہ و تیشہ

ماجدؔ دیوبندیاُردو زبان …!نفرتوں کی فضاؤں میں رہ کرپیار کا آسمان رکھتے ہیںجس کے نعروں سے پائی آزادیہم وہ اُردو زبان رکھتے ہیں…………………………پاپولر میرٹھیاحساس کا کانٹا!ایکسرے دیکھ کے بے ساختہ

شیشہ و تیشہ

انورؔ مسعوداعجازِ عجز !!کس مخمصے میں ڈال دیا اِنکسار نےاپنے کہے پہ آپ ہی شرمسار ہوںلے آیا میرے واسطے وہ ایک بیلچہاک دن یہ کہہ دیا تھا کہ میں خاکسار

شیشہ و تیشہ

انورؔ مسعوددرسِ اِمروز … !!بچو یہ سبق آپ سے کل بھی میں سنوں گاوہ آنکھ ہے نرگس کی جو ہر گز نہیں روتیعنقا ہے وہ طائر کہ دکھائی نہیں دیتااُردو

شیشہ و تیشہ

احمد علویلیڈر … !!پی کر لہو عوام کا ہوتے ہیں سرخ روبے جان ساری قوم ہے لیڈر میں جان ہےآساں ہے پتہ رہبرانِ ملک و قوم کابستی میں صرف ایک

شیشہ و تیشہ

پاپولر میرٹھیاحساس کا کانٹا!ایکسرے دیکھ کے بے ساختہ سرجن نے کہاتیرے بھیجے میں بھی احساس کا کانٹا نکلاحسن والوں نے کیا ہے بہت جم کے پتھراؤ’’تیرے سر میں تو بہت