شیشہ و تیشہ

شیشہ و تیشہ

فرید سحرؔمعجون تبسم…!!ترے بارے میں جب سوچا بہت ہےمرا معصوم دل دھڑکا بہت ہےجسے جوڑے میں اک بنگلہ ملا ہووہ اپنی بیوی سے ڈرتا بہت ہےیقینا وہ مرا محسن ہے

شیشہ و تیشہ

یہ سال بھی !مسئلے تو پچھلے سال کے اپنی جگہ رہےسب سوچتے رہے کہ نیا سال آ گیاخوشیاں جو بانٹتا تو کوئی نئی بات تھیگزرا ہوا یہ سال بھی عمریں

شیشہ و تیشہ

شاہد ریاض شاہدؔنیا سال مبارکلو جی غربت اور مہنگائی کا وبال آ گیاگندی سیاست کا ایک جھنجال آ گیابجلی گیس کی لوڈ شیڈنگ لیے دوستو!ہر سال کی طرح پھر نیا

شیشہ و تیشہ

دلاور فگاردعائے نجاتکسی شاعر نے اک محفل میں نوے شعر فرمائےردیف و قافیہ یہ تھا دعا کردے دوا کردےکہیں مقطع نہ پاکر اک سامع نے دعا مانگیالہ العالمیں اس قید

شیشہ و تیشہ

ہنس مکھ حیدرآبادیمزاحیہ غزلدو ضرب دو تو چار ہوگا ہیمجھ کو بیگم سے پیار ہوگا ہیجس جگہ ہونگے سو عدد بیماراُس جگہ اِک انار ہوگا ہیہے منسٹر کا لاڈلا بیٹاجُرم

شیشہ و تیشہ

انورؔ مسعودتسمہ پا…!اِن خدا کے بندوں نے، جانے کن زمانوں سےہر کنارِ دریا پر چوکڑی جمائی ہےخضر کا لڑکپن بھی اِن کے سامنے گزراٹول ٹیکس والوں نے کتنی عمر پائی

شیشہ و تیشہ

طالب خوندمیری اب دیکھیے جناب ! اِک بدنصیب ، اپنے پُرآشوب گاؤں سے کل شب ، صحافیوں سے یہ کہہ کر نکل گیا ’’چولھا نہیں جلا تھا کئی روز سے

شیشہ و تیشہ

انورؔ مسعود بظاہر…! آفت کو اور شر کو نہ رکھو جُدا جُدا دیکھو اِنہیں ملا کے شرافت کہا کرو ہر اِک لچر سی چیز کو کلچر کا نام دو عُریاں

شیشہ و تیشہ

شاداب بے دھڑک مدراسی ہنسنے کی مشق! دامانِ غم کو خون سے دھونا پڑا مجھے اشکوں کے موتیوں کو پرونا پڑا مجھے میری ہنسی میں سب یونہی شامل نہیں ہوئے

شیشہ و تیشہ

شوکت جمال ( ریاض ) مزاحیہ قطعہ بڑے بوڑھوں سے اکثر ہم سنا کرتے ہیں یہ بیگم میاں بیوی ہوا کرتے ہیں اک گاڑی کے دو پہیے مگر گاڑی تو

شیشہ و تیشہ

پیاز …!! ہوئی جو دال گراں اور سبزیاں مہنگی کچن میں جاکے بھلا کیا وہ دلنواز کرے معاملات محبت کا اب یہ عالم ہے میں پیار پیار کروں اور وہ

شیشہ و تیشہ

پاپولر میرٹھی فرصت !! پھر کوئی نیا ناچ نچانے کیلئے آ کچھ دیر مجھے اُلو بنانے کیلئے آ اتوار کی چھٹی ہے فرصت سے ہوں میں بھی ٹھینگا ہی سہی

شیشہ و تیشہ

انورؔ مسعود فن کار اے بندۂ مزدور نہ کر اِتنی مشقت کاندھے پہ تھکن لاد کے کیوں شام کو گھر آئے جاکر کسی دفتر میں تو صاحب کا ہُنر دیکھ

شیشہ و تیشہ

اقبال شانہ ؔ چھتری ڈر کے بارش سے کھول دی چھتری تیز آئی ہوا گئی چھتری اُڑ رہا ہوں ہوا میں تقریباً کیسے چھوڑوں نئی نئی چھتری کون ڈرتا ہے

شیشہ و تیشہ

مرسلہ :حافظ محمد وحیدالدین عاصم کنبی…!! دکن کے ممتاز مزاحیہ شاعر جناب سلیمان خطیب مرحوم نے آج سے چالیس سال قبل نظم ’’کنبی‘‘ لکھا تھا ۔ دکنی زبان میں کسان

شیشہ و تیشہ

قطب الدین قطبؔ جمہوریت…!! جمہوریت میں جمہور کی چیخ و پکار سنئے مزے لوٹ رہے ہیں صاحبِ اقتدار سنئے عوام کے مسائل حل کریں گے یہ کیسے ہر بات پہ

شیشہ و تیشہ

مرزا یاور علی محورؔ حاتم وقت …!! بانٹ کر چندہ وہ تو اوروں کا خود کو حاتم خطاب دیتا ہے مال آتا ہے بے شمار مگر وہ نہ ہرگز حساب

شیشہ و تیشہ

مرزا یاور علی محورؔ بڑی غلطی…!! تھی بڑی غلطی ووٹ دینے کی جھیلتے ہیں وہ اب سزا اُس کی کچھ بھی کہہ دیتا ہے بلا سمجھے یہ تو عادت ہے

شیشہ و تیشہ

تجمل اظہرؔ قافیہ پیمائی…!! زباں سے فاعلاتن فاعلن ہی جاری ہے ذہن میں شعر و ادب ہی کا بھوت طاری ہے فقط اک مصرعہ سے مصرعہ کو جوڑنا اظہرؔ یہ

شیشہ و تیشہ

دلاور فگار دعائے نجات کسی شاعر نے اک محفل میں نوے شعر فرمائے ردیف و قافیہ یہ تھا دعا کردے دوا کردے کہیں مقطع نہ پاکر اک سامع نے دعا