Wednesday , November 20 2019

شیشہ و تیشہ

شیشہ و تیشہ

شیشہ و تیشہ

مرزا فاروق چغتائی عادت …!! وعدہ کرنے میں کیا قباحت ہے یہ الیکشن کی ایک حاجت ہے لوگ بھی جانتے ہیں سب کچھ، اور بھول جانا تو میری عادت ہے ………………………… باقر تحسینؔ مزاحیہ غزل…!! سینے کو تان کے چلنے میں مزا آتا ہے نوجوانوں کو اکڑنے میں مزا آتا …

Read More »

شیشہ و تیشہ

شیشہ و تیشہ

انورؔ مسعود رابطہ کتاب سے ہے عزیزوں کا رابطہ قائم وہ اِس سے اب بھی بہت فائدہ اٹھاتے ہیں کبھی کلاس میں آتے تھے ساتھ لے کے اسے اب امتحان کے کمرے میں لے کے جاتے ہیں ………………………………… مزاحیہ غزل بات جیسی بھی ہو بیگم کی اثر رکھتی ہے کیونکہ …

Read More »

شیشہ و تیشہ

شیشہ و تیشہ

مزمل گلریزؔ آج بھی ہے …!! اچھے دنوں کا انتظار آج بھی ہے پچاس ہزار کیلئے سبھی بیقرار آج بھی ہے پہلے جو کھاتے تھے اس میں نہیں کوئی تبدیلی پیاز ، روٹی اور اچار آج بھی ہے دولت اتنی کہ کئی نسلیں کھاسکیں مال و زر سے پھر بھی …

Read More »

شیشہ و تیشہ

شیشہ و تیشہ

ْجھانپڑؔ شمس آبادی غزل…! نیّا ہمارے دیش کی ڈوبی ہوئی ملے نیتا ہمارے دیش کو سب کنتری ملے سُسرال میں ہے میری تواضع کچھ اس طرح باسی کڑی ملے کبھی روٹی جلی ملے ہوگا نہ کوئی کیس عدالت میں پھر مرا قسمت سے ایڈوکیٹ کی لڑکی کوئی ملے پیسے تو …

Read More »

شیشہ و تیشہ

شیشہ و تیشہ

سید اعجاز احمد اعجازؔ شادی کے بعد …!! میاں بیوی میں وہ محبت نہیں ہے ہوئے جو پرانے تو چاہت نہیں ہے اکیلے تھے جب تو تھے آزاد ہم بھی اب اس زندگی میں تو فرصت نہیں ہے کماتے ہیں جتنا بہت ہی وہ کم ہے مری زندگی میں تو …

Read More »

شیشہ و تیشہ

شیشہ و تیشہ

نجیب احمد نجیبؔ ناس کردیا …!! پٹرول اور ڈیزل تو سدا بام پر رہے اَسّی روپئے کلو میں ٹماٹر مٹر رہے عام آدمی کے ہوش ٹِھکانے کدھر رہے گردش میں اس طرح سے مقدر اگر رہے سب کا وکاس بول کے سب ناس کردیا تقریر کرنے آیا تو بکواس کردیا …

Read More »

شیشہ و تیشہ

شیشہ و تیشہ

ڈاکٹر خواجہ فریدالدین صادقؔ مزاحیہ غزل (پیاز) کیسے ہم کو رُلارہی ہے پیاز دل کو کیسے دُکھا رہی ہے پیاز سونے چاندی کو کس نے دیکھا ہے اب تو منہ کو چھپا رہی ہے پیاز ہند کی ہوکے بکی بدیشوں میں دور کیسا دکھارہی ہے پیاز کوئی قلّت نہیں ہے …

Read More »

شیشہ و تیشہ

شیشہ و تیشہ

شبیر علی خان اسمارٹؔ جعلی ڈاکٹروں سے معذرت کیساتھ مجھ سا ان پڑھ بھی جب بن گیا ڈاکٹر لوگ کہتے ہیں خودساختہ ڈاکٹر وہ تو پی ایچ ڈی کرکے بنا ڈاکٹر اور میں ہوں کہ خالی گھڑا ڈاکٹر بی یو ایم ایس نہیں آر ایم پی نہیں میں ہوں اسناد …

Read More »

شیشہ و تیشہ

شیشہ و تیشہ

ڈاکٹر عزیز فیصل مزاحیہ غزل ناصر کاظمی کی غزل کے مصرع ثانی پر گرہ سازی دم بشیراں کا بھر نہ جائے کہیں ’’تو بھی دل سے اتر نہ جائے کہیں‘‘ آج آنا ہے اس کو میکے سے ’’آج کا دن گزر نہ جائے کہیں‘‘ اس کو بانٹا نہ کر رقیبوں …

Read More »

شیشہ و تیشہ

شیشہ و تیشہ

مرزا یاور علی محورؔ نجات …!! ظالم نے ظلم کو ہی طریقہ سمجھ لیا فرمان دے کے اُسکو عریضہ سمجھ لیا احساس کمتری کا مرض اس قدر بڑھا اُس سے نجات پانا فریضہ سمجھ لیا ………………………… شیبر علی خان اسمارٹؔ غزل مزاحیہ جب بھی کوئی غزل میں لکھتا ہوں فاعلاتن …

Read More »

شیشہ و تیشہ

شیشہ و تیشہ

یاور علی محورؔ بیگم …! برسرِروزگار ہے بیگم اک بڑی عہدہ دار ہے بیگم زندگی ہے فقط طفیلی سی اُس کا دارومدار ہے بیگم ………………………… محمد حامد(سلیم) مرغا…!! اک دل پھینک عاشق گئے معشوق سے ملنے کو سونے کی لاکٹ بھی لے گئے گفٹ میں دینے کو قسمت اچھی تھی …

Read More »

شیشہ و تیشہ

شیشہ و تیشہ

سرفراز شاہدؔ مقبول ڈپلومیٹ…!! زمانے میں وہی مقبول ’’ ڈپلومیٹ ‘‘ ہوتا ہے جو منہ سے ’’ دِس ‘‘ کہے تو اس کا مطلب ’’دَیٹ‘‘ ہوتا ہے عوام الناس کو ایسے دبوچا ہے گرانی نے کہ جیسے ’’ کیٹ ‘‘ کے پنجے میں کوئی ’’ رَیٹ ‘‘ ہوتا ہے فراغت …

Read More »

شیشہ و تیشہ

شیشہ و تیشہ

محسن نقویؔ دشمن …!! آرائش مذاقِ جنوں اِس طرح کرو گنجائشِ رفو بھی ہو دامن کے چاک میں باھم نظر چُراکے گزرتے رہو مگر اتنا رہے خیال کہ دشمن ہے تاک میں! ………………………… ڈاکٹر سید خورشید علی ساجدؔ … از اتحاد دین کو اپنے بچائیے ہرگز نہ آپ دھوکے میں …

Read More »

شیشہ و تیشہ

شیشہ و تیشہ

اقبال شانہؔ مزاحیہ غزل فرض ہم اپنا نبھاکر سوگئے پاؤں بیگم کے دباکر سوگئے سورہے ہیں وہ پلنگ پر اور ہم فرش پر بستر بچھاکر سوگئے گونج اُٹھا اُن کے خراٹوں سے گھر نیند وہ میری اُڑاکر سوگئے ریل کے ڈبّے میں جب نیند آگئی ہاتھ کا تکیہ بناکر سوگئے …

Read More »

شیشہ و تیشہ

شیشہ و تیشہ

انورؔ مسعود ہتک…! کل قصائی سے کہا اِک مفلسِ بیمار نے آدھ پاؤ گوشت دیجئے مجھ کو یخنی کے لئے گْھور کر دیکھا اُسے قصاب نے کچھ اس طرح جیسے اُس نے چھیچھڑے مانگے ہوں بلی کے لئے …………………………… عید سے پہلے …! ریٹ تیرے سن کے میں حیران ہو …

Read More »

شیشہ و تیشہ

شیشہ و تیشہ

پاپولر میرٹھی پٹ گئے ! نیر ، جمال ، اشرف و آعظم بھی پٹ گئے کوئے بتاں میں شیخ مکرم بھی پٹ گئے دیوانے پن میں قبلۂ عالم بھی پٹ گئے ہم تھے بہت شریف مگر ہم بھی پٹ گئے ………………………… ایک جملے کے لطائف ٭ کبھی کبھی لگتا ہے …

Read More »

شیشہ و تیشہ

شیشہ و تیشہ

مرزا یاور علی محورؔ شامت …!! پوچھا بیگم سے تم کو سوتن کی کیا ضرورت نظر نہیں آتی بولی آتی ضرور آتی ہے تم کو شامت نظر نہیں آتی ……………………… شاہدؔ عدیلی مزاحیہ غزل شی ٹیم کی نظر میں ہمیشہ ہی ہم رہے وﷲ پھر بھی عشق میں ثابت قدم …

Read More »

شیشہ و تیشہ

شیشہ و تیشہ

ماجدؔ دیوبندی اُردو زبان …! نفرتوں کی فضاؤں میں رہ کر پیار کا آسمان رکھتے ہیں جس کے نعروں سے پائی آزادی ہم وہ اُردو زبان رکھتے ہیں ……………………… مرزا یاور علی محورؔ کاش…!! پٹیوں میں پڑا نہیں ہوتا حال بھی ادھ مرا نہیں ہوتا دوسری میں ضرور لاؤں گا …

Read More »

شیشہ و تیشہ

شیشہ و تیشہ

مرزا یاور علی محورؔ مہمان کی طرح …!! سب جان کے بھی ہوگیا انجان کی طرح اپنے وطن میں رہتا ہے مہمان کی طرح موقع جو مل گیا ذرا دنیا کی سیر کا ہرسو نکل گیا ہے وہ ارمان کی طرح ……………………… نرمل گلریزؔ خدا خیر کرے …! موبائیل سے …

Read More »

شیشہ و تیشہ

شیشہ و تیشہ

’’آثار…‘‘ مُلک لُٹ جائے گا آثار نظر آتے ہیں سارے مسند نشین مکار نظر آتے ہیں ہم نے اس ملک کی دھرتی سے محبت کی ہے پھر بھی اندھوں کو ہم غدار نظر آتے ہیں مرسلہ : محمد امتیاز علی نصرتؔ۔پداپلی ……………………… مزاحیہ غزل دعوت میں جارہی ہو تو پھر …

Read More »
TOPPOPULARRECENT