Wednesday , September 18 2019

شیشہ و تیشہ

شیشہ و تیشہ

شیشہ و تیشہ

مرزا یاور علی محورؔ نجات …!! ظالم نے ظلم کو ہی طریقہ سمجھ لیا فرمان دے کے اُسکو عریضہ سمجھ لیا احساس کمتری کا مرض اس قدر بڑھا اُس سے نجات پانا فریضہ سمجھ لیا ………………………… شیبر علی خان اسمارٹؔ غزل مزاحیہ جب بھی کوئی غزل میں لکھتا ہوں فاعلاتن …

Read More »

شیشہ و تیشہ

شیشہ و تیشہ

یاور علی محورؔ بیگم …! برسرِروزگار ہے بیگم اک بڑی عہدہ دار ہے بیگم زندگی ہے فقط طفیلی سی اُس کا دارومدار ہے بیگم ………………………… محمد حامد(سلیم) مرغا…!! اک دل پھینک عاشق گئے معشوق سے ملنے کو سونے کی لاکٹ بھی لے گئے گفٹ میں دینے کو قسمت اچھی تھی …

Read More »

شیشہ و تیشہ

شیشہ و تیشہ

سرفراز شاہدؔ مقبول ڈپلومیٹ…!! زمانے میں وہی مقبول ’’ ڈپلومیٹ ‘‘ ہوتا ہے جو منہ سے ’’ دِس ‘‘ کہے تو اس کا مطلب ’’دَیٹ‘‘ ہوتا ہے عوام الناس کو ایسے دبوچا ہے گرانی نے کہ جیسے ’’ کیٹ ‘‘ کے پنجے میں کوئی ’’ رَیٹ ‘‘ ہوتا ہے فراغت …

Read More »

شیشہ و تیشہ

شیشہ و تیشہ

محسن نقویؔ دشمن …!! آرائش مذاقِ جنوں اِس طرح کرو گنجائشِ رفو بھی ہو دامن کے چاک میں باھم نظر چُراکے گزرتے رہو مگر اتنا رہے خیال کہ دشمن ہے تاک میں! ………………………… ڈاکٹر سید خورشید علی ساجدؔ … از اتحاد دین کو اپنے بچائیے ہرگز نہ آپ دھوکے میں …

Read More »

شیشہ و تیشہ

شیشہ و تیشہ

اقبال شانہؔ مزاحیہ غزل فرض ہم اپنا نبھاکر سوگئے پاؤں بیگم کے دباکر سوگئے سورہے ہیں وہ پلنگ پر اور ہم فرش پر بستر بچھاکر سوگئے گونج اُٹھا اُن کے خراٹوں سے گھر نیند وہ میری اُڑاکر سوگئے ریل کے ڈبّے میں جب نیند آگئی ہاتھ کا تکیہ بناکر سوگئے …

Read More »

شیشہ و تیشہ

شیشہ و تیشہ

انورؔ مسعود ہتک…! کل قصائی سے کہا اِک مفلسِ بیمار نے آدھ پاؤ گوشت دیجئے مجھ کو یخنی کے لئے گْھور کر دیکھا اُسے قصاب نے کچھ اس طرح جیسے اُس نے چھیچھڑے مانگے ہوں بلی کے لئے …………………………… عید سے پہلے …! ریٹ تیرے سن کے میں حیران ہو …

Read More »

شیشہ و تیشہ

شیشہ و تیشہ

پاپولر میرٹھی پٹ گئے ! نیر ، جمال ، اشرف و آعظم بھی پٹ گئے کوئے بتاں میں شیخ مکرم بھی پٹ گئے دیوانے پن میں قبلۂ عالم بھی پٹ گئے ہم تھے بہت شریف مگر ہم بھی پٹ گئے ………………………… ایک جملے کے لطائف ٭ کبھی کبھی لگتا ہے …

Read More »

شیشہ و تیشہ

شیشہ و تیشہ

مرزا یاور علی محورؔ شامت …!! پوچھا بیگم سے تم کو سوتن کی کیا ضرورت نظر نہیں آتی بولی آتی ضرور آتی ہے تم کو شامت نظر نہیں آتی ……………………… شاہدؔ عدیلی مزاحیہ غزل شی ٹیم کی نظر میں ہمیشہ ہی ہم رہے وﷲ پھر بھی عشق میں ثابت قدم …

Read More »

شیشہ و تیشہ

شیشہ و تیشہ

ماجدؔ دیوبندی اُردو زبان …! نفرتوں کی فضاؤں میں رہ کر پیار کا آسمان رکھتے ہیں جس کے نعروں سے پائی آزادی ہم وہ اُردو زبان رکھتے ہیں ……………………… مرزا یاور علی محورؔ کاش…!! پٹیوں میں پڑا نہیں ہوتا حال بھی ادھ مرا نہیں ہوتا دوسری میں ضرور لاؤں گا …

Read More »

شیشہ و تیشہ

شیشہ و تیشہ

مرزا یاور علی محورؔ مہمان کی طرح …!! سب جان کے بھی ہوگیا انجان کی طرح اپنے وطن میں رہتا ہے مہمان کی طرح موقع جو مل گیا ذرا دنیا کی سیر کا ہرسو نکل گیا ہے وہ ارمان کی طرح ……………………… نرمل گلریزؔ خدا خیر کرے …! موبائیل سے …

Read More »

شیشہ و تیشہ

شیشہ و تیشہ

’’آثار…‘‘ مُلک لُٹ جائے گا آثار نظر آتے ہیں سارے مسند نشین مکار نظر آتے ہیں ہم نے اس ملک کی دھرتی سے محبت کی ہے پھر بھی اندھوں کو ہم غدار نظر آتے ہیں مرسلہ : محمد امتیاز علی نصرتؔ۔پداپلی ……………………… مزاحیہ غزل دعوت میں جارہی ہو تو پھر …

Read More »

شیشہ و تیشہ

شیشہ و تیشہ

فرید سحرؔ سسرے کو ٹوپی…! سسرال سے اب آئے ہیں دعوت اُرا کے ہم میکے سے اُن کو لائے ہیں تحفے بھی پاکے ہم حالانکہ باپ ہم بنے بیٹے کے اک مگر سُسرے کو ٹوپی ڈالے ہیں خرچہ کراکے ہم ……………………… لیڈرؔ نرملی ذرا دیر لگے گی …! سُسرے کو …

Read More »

شیشہ و تیشہ

شیشہ و تیشہ

شاہدؔ عدیلی غزل (مزاحیہ) بے حیائی کا ہر اک سمت نظارا ہے میاں نہ تو برقعہ ہے بدن پر نہ دوپٹہ ہے میاں بالیاں کان میں ہیں چہرا بھی چکنا ہے میاں جس کو دوشیزہ میں سمجھا تھا وہ لڑکا ہے میاں ایک تو شعر مسلسل وہ سناتا ہے میاں …

Read More »

شیشہ و تیشہ

شیشہ و تیشہ

شادابؔ بے دھڑک مدراسی قطعہ میں لومڑی نہیں ہوں بیابانِ شعر میں شیر ببر ہوں دشت و گلستانِ شعر میں شادابؔ ہوں غزل میں ہزل میں ہوں بیدھڑکؔ ٹو اِن ون کھلاڑی ہوں میدانِ شعر میں ……………………… سید اعجاز احمد اعجازؔ آج پہلی تاریخ ہے …! سب کو بتانا آج …

Read More »

شیشہ و تیشہ

شیشہ و تیشہ

شاداب بے دھڑک مدراسی ہنسنے کی مشق! دامانِ غم کو خون سے دھونا پڑا مجھے اشکوں کے موتیوں کو پرونا پڑا مجھے میری ہنسی میں سب یونہی شامل نہیں ہوئے ہنسنے کے مشق کے لئے رونا پڑا مجھے ……………………… احمدؔ قاسمی غزل (مزاحیہ) لمحہ لمحہ عذاب گرمی کا کچھ نہ …

Read More »

شیشہ و تیشہ

شیشہ و تیشہ

قرض …!! سیٹھ بولا قرض اب فوراً ادا کرنا مجھے خواہ مخواہ تو اس طرح سے کیوں پھراتا ہے مجھے میں نے اس سے یہ کہا بھائی کہ یہ تو کچھ نہیں قرض دیتے وقت تو کتنا ستایا تھا مجھے ……………………… قطب الدین قطبؔ بس …!! میرے شہر کی ٹریفک …

Read More »

شیشہ و تیشہ

شیشہ و تیشہ

احمدؔ قاسمی دیکھ لو …!! دوڑ پانی میں لگاکر دیکھ لو ریت پر کشتی چلاکر دیکھ لو تجربہ بڑھتا ہے احمدؔ قاسمی ٹھوکریں در در کی کھاکر دیکھ لو ……………………… محمد یوسف الدین آگیا پھر الکشن ارے دیکھنا جن کی شۂ پر جلے گھر ارے دیکھنا وہ اڑارئیں کبوتر ارے …

Read More »

شیشہ و تیشہ

شیشہ و تیشہ

شیخ احمد ضیاءؔ غزل کرکے احسان یوں جتانا کیا جو کمایا اُسے گنوانا کیا تم کو آنا نہ تھا نہیں آتے ہر دفعہ اک نیا بہانہ کیا زندگی کی ہزار شرطیں ہیں اُس کی ہر شرط ہم نبھانا کیا خواہشوں ، حسرتوں ، اُمیدوں کا میرا دل بن گیا ٹھکانہ …

Read More »

شیشہ و تیشہ

شیشہ و تیشہ

قطب الدین قطبؔ مسئلہ کا حل …!! اﷲ نے بنائی ہے صورت کوئی عیب نہ ڈھونڈیئے کوئی مانگے اگر پیسے تو جیب نہ ڈھونڈیئے ہر مسئلہ کا حل ہے ممکن مگر شرط یہ ہے آم کے باغ میں جاکر سیب نہ ڈھونڈیئے ……………………… روح اقبال سے معذرت کے ساتھ سیاستداں …

Read More »

شیشہ و تیشہ

شیشہ و تیشہ

شبیر علی خان اسمارٹؔ مجھے معلوم نہ تھا …!! آئے گا ایسا زمانہ مجھے معلوم نہ تھا چور بن جائے گا نیتا مجھے معلوم نہ تھا چل دیا مجھ کو سلیقے سے بناکر اُلّو ہے کہاں اُس کا ٹھکانہ مجھے معلوم نہ تھا بعد شادی کے اکڑ ساری مری ختم …

Read More »
TOPPOPULARRECENT