حیدرآباد۔ ریاستی حکومت نے مختلف محکمہ جات میں خدمات انجام دینے والے آؤٹ سورسنگ عملہ کی خدمات کو جاریہ ماہ سے ختم کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ حکومت نے ریاست میں خدمات انجام دینے والے آؤٹ سورسنگ عملہ کی خدمات کی برخواستگی کے سلسلہ میں کوئی نوٹس کے بغیر کارروائی کرنے کے اقدامات کئے ہیں اور ریاست کے بیشتر محکمہ جات کے اعلیٰ عہدیداروں کو اس بات کی ہدایات دی جاچکی ہیں کہ وہ اپنے اداروں اور شعبوں کے علاوہ محکمہ جات میں خدمات انجام دینے والے آؤٹ سورسنگ عملہ کی خدمات کو فوری اثر کے ساتھ ختم کرتے ہوئے انہیں یکم جولائی سے خدمات انجام دینے سے روک دیں۔ تلنگانہ کے کئی محکمہ جات میں خدمات انجام دینے والے ملازمین کی خاصی تعداد ہر عہدہ پر ہے جو آؤٹ سورسنگ کے ذریعہ خدمات پر مامور ہیں جس میں لکچررس، اساتذہ، عہدیدار، ملازمین، درجہ چہارم کا عملہ اور دیگر شامل ہیں۔ بتایا جاتا ہے کہ ریاستی حکومت کی جانب سے مالی بحران سے نمٹنے کیلئے یہ اقدام کیا گیا ہے اور تمام محکمہ جات کو تنخواہوں کے مد میں جاری کی جانے والی رقومات سے آؤٹ سورسنگ عملہ کی رقومات منہا کرلی جائیں گی۔ بتایا جاتا ہے کہ ریاستی حکومت کے احکامات کی اجرائی کے بعد عہدیداروں نے اپنے ماتحت موجود آؤٹ سورسنگ عملہ کو بغیر کسی نوٹس کے یکم جولائی سے دفتر نہ آنے کے احکام جاری کردیئے ہیں۔ ذرائع کے مطابق حکومت تلنگانہ کے تمام شعبہ جات اور محکموں میں خدمات انجام دینے والے آؤٹ سورسنگ عملہ کو خدمات سے بیدخل کیا جاتا ہے تو ایسی صورت میں ہزاروں نوجوانوں کے بیروزگار ہونے کا خدشہ پیدا ہوسکتا ہے ۔ علاوہ ازیں سرکاری دفاتر میں خدمات انجام دینے والے ان آؤٹ سورسنگ ملازمین کی بیدخلی کی صورت میں سرکاری دفاتر کے کام کاج ٹھپ ہونے کا بھی خدشہ ہے۔ اور حکومت کو آئندہ ماہ کام کاج کے بحران کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔