دو ماہ سے معاشی مشکلات کا شکار ، وقف بورڈ کو توجہ دینے کی ضرورت
حیدرآباد۔15فروری(سیاست نیوز) ریاستی حکومت کی جانب سے تلنگانہ وقف بورڈ کے توسط سے جاری کئے جانے والے آئمہ و مؤذنین کے مشاہرہ کی اجرائی میں ہونے والی تاخیر کے نتیجہ میں زائد از 9000 آئمہ و مؤذنین معاشی مشکلات کا شکار بنے ہوئے ہیں کیونکہ گذشتہ 2ماہ سے ان کے مشاہرہ کی اجرائی کے سلسلہ میں ٹال مٹول سے کام لیا جا رہاہے اور آئندہ اب اندرون چند یوم ماہ رمضان المبارک کا آغاز ہونے جا رہاہے جو کہ ریاست بھر کے آئمہ و مؤذنین کے لئے انتہائی مصروفیت کا ہوتا ہے لیکن اس بات کا احساس شائد محکمہ اقلیتی بہبود کو قطعی طور پر نہیں ہے کیونکہ گذشتہ دو ماہ سے مسلسل محکمہ اقلیتی بہبو دکے اعلیٰ عہدیداروں کے علاوہ چیف اکزیکیٹیو آفیسر تلنگانہ وقف بورڈ کو توجہ دہانی کرواتے ہوئے ماہ رمضان المبارک کے آغاز سے قبل آئمہ و مؤذنین کا مشاہرہ جاری کرنے کا مطالبہ کیا جارہا تھا ۔ بتایاجاتاہے کہ ریاست میں اقلیتی قائدین جو کہ پیشرو حکومت کے دور میں آئمہ ومؤذنین کے مشاہرہ کی اجرائی میں ہونے والی تاخیر پر ہنگامہ آرائی کرتے تھے وہ اب مشاہرہ کی عدم اجرائی پر حکومت کی مجبوریاں پیش کرنے لگے ہیں جس کے نتیجہ میں آئمہ و مؤذنین میں بھی شدید ناراضگی پائی جانے لگی ہے کیونکہ وہ اپنی شکایات کے ساتھ ان ہی لوگوں سے رجوع ہو رہے ہیں جو کہ سابق میں ان کے لئے آواز اٹھایا کرتے تھے اور حکومت اور وقف بورڈ پر دباؤ ڈالتے ہوئے آئمہ و مؤذنین کے مشاہرہ کی اجرائی کے لئے مجبور کیا کرتے تھے لیکن تلنگانہ میں اقتدار کی تبدیلی سے قبل اس بات کا اعلان کیا گیا تھا کہ ریاست میں اگر کانگریس کی حکومت اقتدار میں آتی ہے تو آئمہ و مؤذنین کو دیئے جانے والے مشاہرہ میں اضافہ کرنے کے علاوہ ان کی تعداد میں اضافہ کرنے کے اقدامات اور بہ پابندی مشاہرہ کی اجرائی کو یقینی بنانے کے اقدامات کئے جائیں گے لیکن اقتدار کی تبدیلی کے بعد ان تمام وعدوں کو فراموش کردیا گیا اور اب بھی ریاست میں آئمہ و مؤذنین کے مشاہرہ کی اجرائی کے سلسلہ میں ہونے والی تاخیر پر جواب دینے کے لئے کوئی نہیں ہے اور نہ ہی آئمہ و مؤذنین کی تعداد میں اضافہ کے سلسلہ میں کوئی اقدامات کئے گئے بلکہ مشاہرہ میں اضافہ کے متعلق منصوبہ پر بھی عمل آوری کے معاملہ میں کوئی پیشرفت نہیں ہوئی ۔3
آئمہ و مؤذنین کے مشاہرہ کی اسکیم سے استفادہ کرنے والوں کے مطابق اگر انہیںماہانہ پابندی سے مشاہرہ جاری کیا جاتا ہے تو ایسی صورت میں انہیں قرض حاصل کرتے ہوئے زندگی گذارنے کے لئے مجبور ہونا نہیں پڑے گااور اب جبکہ ماہ رمضان المبارک قریب ہے تو حکومت بالخصوص تلنگانہ وقف بورڈ کے صدرنشین جناب سید عظمت اللہ حسینی کو چاہئے کہ وہ اس معاملہ میں عجلت کا مظاہرہ کرتے ہوئے آئمہ و مؤذنین کے مشاہرہ کی اجرائی کے سلسلہ میں احکامات جاری کریں۔3