آئی ٹی ایکٹ کی دفعہ 66 اے کی منسوخی کے بعد بھی مقدمات درج کرنا پریشان کن ہے: سپریم کورٹ

,

   

آئی ٹی ایکٹ کے سیکشن 66 اے کی منسوخی کے بعد سپریم کورٹ نے کیس کے اندراج پر ناراضگی کا اظہار کیا ہے۔ سپریم کورٹ نے دفعہ 66 اے کو منسوخ کرنے کے بعد بھی مقدمات کے اندراج کو چونکانے والی ، حیرت انگیز اور پریشان کن قرار دیا ہے ۔سپریم کورٹ نے کہا کہ یہ انتہائی حیران کن معاملہ ہے۔ ہم اس سلسلے میں کارروائی کریں گے۔سپریم کورٹ نے مرکزی حکومت کو نوٹس جاری کرتے ہوئے اس کا جواب طلب کیا ہے۔یہ جواب دو ہفتوں میں دینے کو کہا گیا ہے۔ عدالت عظمیٰ نے یہ جواب درخواست گزار پی یو سی ایل کی جانب سے پیش کردہ درخواست پر دیا۔ سپریم کورٹ نے 24 مارچ 2015 کو انفارمیشن ٹکنالوجی ایکٹ کے سیکشن 66 اے کے تحت ایف آئی آر کے اندراج کے خلاف تمام تھانوں کو مشورے کی درخواست کی سماعت کی ، عدالت نے اسے غیر آئینی قرار دے دیا۔حکومت کو مشورے جاری کرنے کی ہدایت کی کہ اس دفعہ کے تحت ایف آئی آر درج نہیں کی جانی چاہئے۔