آبائی مقامات کو واپس ہونے والے مزدوروں کو روزگار فراہمی کے اقدامات

,

   

کئی ریاستوں کو چیالنجس درپیش ، مزدوروں کا دوبارہ شہر واپس ہونے کا امکان نہیں
حیدرآباد۔10جون(سیاست نیوز) ریاستی حکومتوں کی جانب سے اپنے مقامات کو منتقل ہونے والے مزدوروں کی بازآبادکاری کے علاوہ انہیں روزگار کی فراہمی کے سلسلہ میں اقدامات کئے جانے لگے ہیں لیکن ان اقدامات کو یقینی بنانے کے لئے کئی ریاستوں کو چیالنجس درپیش ہیں۔ مرکزی حکومت کی جانب سے سپریم کورٹ کو فراہم کی جانے والی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ملک بھر سے ایک کروڑ مزدور اپنے مقامات کو منتقل ہوئے ہیں اور حکومت کی جانب سے ان کو روزگار فراہم کرنے کی منصوبہ بندی کی جانے لگی ہے۔ کورونا وائرس کی وباء کو پھیلنے سے روکنے کیلئے کئے جانے والے لاک ڈاؤن کے دوران مزدروں نے اپنے مقامات کو منتقلی کے لئے پیدل ہی سفر کا آغاز کردیا تھا لیکن بگڑتے حالات کو دیکھتے ہوئے مزدوروں کی منتقلی کیلئے سرکاری سطح پر اقدامات کئے گئے اور ان ریکارڈس کی بنیاد پر حکومت کا کہناہے کہ ملک بھر میں ایک کروڑ مزدور اپنے مقامات کو واپس ہوئے ہیں اوران کی واپسی کے بعد ریاستی حکومتوں کی جانب سے ان کو روزگار کی فراہمی کیلئے اقدامات کی حکمت عملی تیار کی جانے لگی ہے۔ سروے کے مطابق اپنے اپنے مقامات کو منتقل ہونے والے مزدوروں کی بڑی تعداد اب شہروں کو واپس ہونے کے حق میں نہیں ہے اور حکومت کا بھی یہ احساس ہے کہ جلد ہی مزدور شہری علاقوں کا رخ نہیں کریں گے ۔ حکومت اتر پردیش کی جانب سے 3.5لاکھ مزدوروں کو روزگار کی فراہمی کے اقدامات کی منصوبہ بندی کی جا رہی ہے اور جھارکھنڈ میں ریاستی حکومت اپنے شہریوں کو شہری علاقوں کے مماثل مزدوری کی فراہمی کے سلسلہ میں غور کررہی ہے۔

اترپردیش میں حکومت کی جانب سے 2.8 لاکھ مزدوروں کو مختلف صنعتوں سے جوڑنے کیلئے اقدامات کئے جانے لگے ہیں اور اس سلسلہ میں متعلقہ محکمہ کو تفصیلات اکٹھا کرنے کی بھی ہدایت دے دی گئی ہے۔ مرکزی حکومت کے قانو ن مہاتما گاندھی نیشنل رورل ایمپلائمنٹ گیارینٹی ایکٹ کے تحت تمام ریاستوں میں ہنر مند اور غیر ہنر مند مزدوروں کو روزگار کی فراہمی کے اقدامات کو یقینی بنایا جا رہاہے۔ نوئیڈا میں رئیل اسٹیٹ شعبہ کے ذمہ داروں نے بتایاکہ جو مزدور واپس ہوئے ہیںان کو کام کی فراہمی کے علاوہ درزی کا کام جاننے والے افراد کو ریڈی میڈ گارمنٹس اور دیگر کمپنیوں میں اب تک 65ہزارافرد کو روزگار کی فراہمی کے اقدامات کئے جاچکے ہیں۔بتایا جاتا ہے کہ ریاست اتر پردیش کی جانب سے مختصر مدتی منصوبہ کے بجائے طویل مدتی منصوبہ بندی کی جا رہی ہے تاکہ مزدوروں کو دوربارہ منتقلی یا شہری علاقوں کا رخ کرنے کی ضرورت نہ پڑے۔ جھارکھنڈ‘ اوڈیشہ ‘ بہار ‘ راجستھان کے علاوہ ملک کی دیگر ریاستوں میں مختصر مدتی منصوبہ بندی کی جا رہی ہے کیونکہ ان ریاستوں کا احساس ہے کہ حالات معمول پرآنے کے بعد مزدور دوبارہ ان شہروں کا رخ کرنے لگ جائیں گے جن شہروں میں وہ کام کیا کرتے تھے۔ جھارکھنڈ میں ریاستی حکومت کی جانب سے مزدوروں کی بازآبادکاری کیلئے 17ہزار کروڑ کے خصوصی پیاکیج کی منصوبہ بندی کی جاچکی ہے ۔ بہارسے تعلق رکھنے والے 12لاکھ مزدور اب تک بہار واپس ہوچکے ہیں اور ان کی بازآبادکاری کے علاوہ انہیں روزگار کی فراہمی حکومت بہار کیلئے بڑا چیالنج ہے اور کہا جارہا ہے کہ ریاستی حکومت کی جانب سے اس چیالنج سے نکلنے کیلئے مرکزی حکومت کی مدد حاصل کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔