تلنگانہ حکومت کو نوٹس ، ایمرجنسی علاج پر گائیڈ لائینس تیار کرنے تین ہفتے کی مہلت
حیدرآباد ۔13 ۔ فروری (سیاست نیوز) تلنگانہ ہائی کورٹ نے ریاستی حکومت کو ہدایت دی ہے کہ اندرون تین ہفتے سرکاری دواخانوں میں ایمرجنسی میڈیکل کیر خدمات کے بارے میں پالیسی تیار کرتے ہوئے عدالت میں تفصیلی حلفنامہ داخل کریں۔ چیف جسٹس اپریش کمار سنگھ اور جسٹس جی ایم محی الدین نے مفاد عامہ کی ایک درخواست کی از خود سماعت کرتے ہوئے حکومت کو ایمرجنسی میڈیکل خدمات کے بارے میں رہنمایانہ خطوط طئے کرنے کی ہدایت دی ۔ ہائی کورٹ کے ایک وکیل نے چیف جسٹس کو مکتوب روانہ کرتیل ہوئے محبوب آباد ضلع میں سرکاری ہاسپٹل میں ایک مریض کو علاج سے انکار کی شکایت کی۔ چیف جسٹس نے مکتوب کو مفاد عامہ کی درخواست میں تبدیل کردیا اور ہائی کورٹ رجسٹری کو ہدایت دی کہ اس سلسلہ میں موجود دیگر درخواستوں کے ساتھ اسے مربوط کیا جائے۔ درخواست گزار نے شکایت کی کہ ایس سی طبقہ سے تعلق رکھنے والی لڑکی کو محض اس لئے ایمبولنس خدمات فراہم نہیں کی گئیں کیونکہ ان کے پاس آدھار کارڈ نہیں تھا۔ آدھار کارڈ کی عدم موجودگی پر علاج سے انکار کیا گیا ۔ چیف جسٹس نے دونوں شکایتوں کی 18 مارچ کو سماعت کا فیصلہ کیا۔ علاج سے انکار پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے چیف جسٹس نے حکومت سے وضاحت طلب کی اور کہا کہ سرکاری ہاسپٹلس میں ایمرجنسی خدمات کے بارے میں پالیسی فیصلہ کیا جائے اور رہنمایانہ خطوط طئے کئے جائیں۔ چیف جسٹس کو روانہ کردہ مکتوب میں بتایا گیا کہ محبوب آباد میں سے تعلق رکھنے والے وی روی نامی نوجوان کو گردے کا سنگین عارضہ ہے ۔ ہاسپٹل اسٹاف نے آدھار کارڈ کی عدم پیشکشی پر علاج سے انکار کردیا اور تین دن تک مریض کو ہاسپٹل کے کینٹین میں گزارنے پڑے۔ ہاسپٹل حکام نے مریض کے فوت ہوجانے کا شبہ کرتے ہوئے مارچری منتقل کردیا۔ بعد میں صفائی عملہ نے دیکھا کہ مریض زندہ ہے جس کے بعد اسے علاج کے لئے ہاسپٹل منتقل کیا گیا۔ یہ واقعہ مقامی اخبارات میں شائع ہوا جس کی بنیاد پر ہائی کورٹ کے وکیل نے چیف جسٹس کو مکتوب روانہ کیا۔1
صحافیوں کے ایکریڈیٹیشن کارڈس کے مسئلہ پر حکومت کو ہائی کورٹ کی نوٹس
حیدرآباد ۔13 ۔ فروری (سیاست نیوز) تلنگانہ ہائی کورٹ نے صحافیوں کو ایکریڈیٹیشن کارڈس کی اجرائی کے معاملہ میں ریاستی حکومت کو نوٹس جاری کی ہے۔ صحافیوں کے کارڈس کی میعاد 28 فروری کو ختم ہورہی ہے۔ چیف جسٹس اپریش کمار سنگھ اور جسٹس جی ایم محی الدین پر مشتمل بنچ نے اردو صحافیوں کی تنظیم کی جانب سے دائر کردہ درخواست کی سماعت کی۔ درخواست میں الزام عائد کیا گیا کہ میڈیا ایکریڈیٹیشن رولس کی تیاری اور پھر اس میں ترمیم کے ذریعہ صحافیوں سے ناانصافی کا اندیشہ ہے۔ حکومت کو ہائی کورٹ نے پہلے بھی ایک نوٹس جاری کی تھی لیکن عدالت میں کوئی جواب داخل نہیں کیا گیا جس پر ہائی کورٹ نے ناراضگی کا اظہار کیا۔ پبلک پراسیکیوٹر کو ہدایت دی گئی کہ 26 فروری سے قبل جوابی حلفنامہ داخل کریں۔ عدالت نے آئندہ سماعت کی تاریخ سے قبل تمام فریقین کو حلفنامہ داخل کرنے کی ہدایت دی۔ 28 فروری کو صحافیوں کے کارڈس کی میعاد ختم ہورہی ہے ، لہذا ہائی کورٹ نے 26 فروری کو سماعت کا فیصلہ کیا تاکہ کوئی حل تلاش کیا جاسکے۔ درخواست گزار کے وکیل نے کہا کہ حکومت کی جانب سے جاری کردہ گائیڈ لائینس دستور کے مختلف دفعات کی خلاف ورزی ہے۔1