باکو : آرمینیا کی وزارت دفاع نے کہا ہے کہ آذربائیجان نے نگورنو کاراباخ خطے میں اپنی جارحانہ کاروائیاں دوبارہ شروع کر دی ہیں۔ دوسری طرف آذر بائیجان نے آرمینیا پر کاراباخ میں جنگ بندی کی خلاف ورزی کا الزام عاید کیا ہے۔روسی میڈیا کے مطابق روسی وزارت دفاع کو کاراباخ میں جنگ بندی کی پہلی ’’خلاف ورزی‘‘کا پتہ چلا ہے یہ اور یہ خلاف ورزی آرمینیا کی طرف سے کی گئی ہے۔ایک ماہ قبل روسی صدر ولادیمیر پوٹن نے کہا تھا کہ ان کے ملک نے کاراباخ میں لڑائی کا مکمل خاتمہ کرنے میںکامیابی حاصل کر لی ہے۔ ہم نے 1100 امن فوج کاراباخ منتقل کر دیئے۔ ان کا کہنا تھا کہ کاراباخ میں لڑائی کے نتیجے میں 4000 سے زیادہ افراد کی ہلاکت ہوئی ہے۔روسی امن فوجیوں نے 13 نومبر کو ناگورنو کارا باخ خطے کے صدر مقام اسٹپنکارت کے مضافات کا کنٹرول سنبھال لیا تھا اور آرمینیائی اور آذربائی جانی فوج کے مابین قریبی رابطہ لائن کی طرف جانے والی مرکزی شاہراہ کو اپنے کنٹرول میں لے لیا تھا۔آرمینی فوج کے زیر کنٹرول شہر کے جنوب مغربی راستے پر تقریبا 10کلومیٹر دور قصبے کی طرف جانے والی سڑک پر درجنوں فوجی اور کم از کم تین بکتر بند گاڑیاں ایک چوکی پر تعینات کی گئیں۔ گذشتہ ہفتے یہاں پر آذربائیجان کی فوجوں نے کنٹرول کیا تھا۔آرمینیا اور آذربائیجان نے ایک ماہ سے بھی زیادہ عرصے پہلے روسی کوششوں سے فائر بندی کے معاہدے پر دستخط کیے تھے جس کے تحت کاراباخ میں ستمبر کے آخر میں شروع ہونے والے تنازعہ کا بہ ظاہر خاتمہ ہوگیا تھا۔