احمد آباد۔گجرات جائنٹس مڈل آرڈر میں رائل چیلنجرز بنگلورو کی نئی فائر پاور سے ہوشیار رہیں گے جب اتوارکو یہاں انڈین پریمیئر لیگ میں دونوں ٹیمیں ٹکرائیں گی۔سوپر جائنٹس اب نو میچوں میں آٹھ پوائنٹس کے ساتھ ٹیبل پر ساتویں نمبر پر ہیں، اور انہیں اوپر جانے کے لیے ایک فتح درکار ہے، جہاں چنئی سوپرکنگز اور دہلی کیپٹلز آٹھ پوائنٹس کے ساتھ ہیں ۔ بہتر شروعات کرنے کے لیے گجرات کی ٹیم کو اپنے فاسٹ بولروں کی بہترین کارکردگی کی ضرورت ہے کیونکہ رواں آئی پی ایل کے دوران ان کا فاسٹ بولنگ شعبہ کمزور رہا ہے۔ موہت شرما (10 وکٹیں، اکانومی: 10.35)، امیش یادیو (7 وکٹیں، 10.55)، سندیپ (5 وکٹیں، 10.85) نے کافی رنز دئے ہیں جبکہ بیک اپ تیز رفتار جیسے کہ اسپینسر جانسن اور عظمت اللہ عمرزئی نے بھی زیادہ متاثر نہیں کیا۔ان کے اسپنرز راشد خان (8 وکٹیں)، آر سائی کشور اور نور احمد (6 وکٹیں غیر مستحکم رہے ہیں۔ ان کا کام اب اور بھی مشکل ہو جائے گا کیونکہ آر سی بی کو رجت پاٹیدار اورکیمرون گرین پر مشتمل اپنے مڈل آرڈر میں امید کی کرن ملی ہے۔ وہ اس حقیقت سے تسلی لے سکتے ہیں کہ اوس دن کے کھیل میں اہم عنصر نہیں ہوگا، لیکن پاٹیدار سے نمٹنے کے لی خاص طور پر اورگرین کو حالات سے زیادہ مدد کی ضرورت ہے۔ سیزن کی مایوس کن شروعات کے بعد پاٹیدار نے اپنی بیٹنگ کی مہارتوں کو دکھایا، خاص طور پر اسپنروں کے خلاف وہ شاندار ہیں۔ انہوں نے سنیل نارائن اور ورون چکرورتی (کے کے آر) اور میانک مارکنڈے (ایس آر ایچ) کو آخری دو میچوں میں درمیانی مرحلے میں بیٹنگ کرتے ہوئے نصف سنچریاں بنائیں۔ جب کہ ان کی 23 گیندوں پر 52 رنز نے کی اننگزنے ٹیم کو کولکتہ کے خلاف تقریباً کامیابی کے قریب پہنچادیا تھا، پاٹیدار کے 20 گیندوں پر 50 رنز حیدرآباد کے خلاف کامیابی میں اہم رہے ہیں۔ دائیں ہاتھ کے کھلاڑی جس کی طاقت جدت کے بجائے اس کی آنکھ سے ہاتھ کا بہترین کوآرڈینیشن ہے، جی ٹی اسپنرزکے خلاف بھی ایسا ہی اثر ڈالنے کے لیے بے تاب ہوگا۔ گرین بھی سن رائزرز کے خلاف اپنے 20 گیندوں پر37 رنزکے دوران متاثر کن رہے جس نے آر سی بی کو200 رنز کے نشان سے آگے بڑھانے میں مدد کی۔گرین نے آر سی بی کو دنیش کارتک اور مہیپال لومرور پر اپنا انحصار کم کرنے میں بھی مدد کی ہے، اس کے علاوہ اوپنر ویراٹ کوہلی اور فاف ڈو پلیسی کو تقریباً ہر میچ میں اسکور کرنے کے بوجھ سے آزادکیا ہے۔ جی ٹی کے بیٹرس بھی اپنے حریف ٹیم کے ہم منصبوں سے متاثرہونا چاہیں گے۔ سائی سدھرسن اور کپتان شبمن گل نے اس آئی پی ایل میں 300 سے اوپر رنز بنائے، تین مشترکہ نصف سنچریاں بنائیں، لیکن جی ٹی مڈل آرڈر واقعی کامیاب نہیں ہو سکا۔ ڈیوڈ ملر (138 رنز)، شاہ رخ خان (30 رنز)، وجے شنکر (73 رنز) اور راہول تیوتیا (153رنز) ناکام رہے۔گھریلو ٹیم کو آر سی بی کے بولروں کے خلاف شراکت کی ضرورت ہوگی، جو 207 کا دفاع کرتے ہوئے ایس آر ایچ کے خلاف بہتر نظر آئے۔ ان کے اہم بولر محمد سراج (4-0-20-0) اور یش دیال (3-0-18- 1) طاقتور بیٹنگ کے خلاف غیر معمولی تھے، یہاں تک کہ بیٹنگ کیلئے سازگار حیدرآباد کی پیچ پر بھی ذہین تغیرات کے ساتھ بیٹرس کو پریشان کرتے رہے ہیں۔