آرٹیفشل انٹلیجنس کے شعبہ میں ہندوستان کو دنیا میں تیسرا مقام

   

امریکہ اور چین پہلے اور دوسرے نمبر پر ، ریسرچ ڈیولپمنٹ نظم و نسق اور انفراسٹرکچر کے شعبہ جات میں ترجیح
حیدرآباد ۔26 ۔ فروری (سیاست نیوز) دنیا میں آرٹیفشل انٹلیجنس زندگی کے ہر شعبہ میں لازمی عنصر کے طور پر شامل ہوچکا ہے۔ ترقی یافتہ ممالک اور ترقی پذیر ممالک دونوں میں آرٹیفشل انٹلیجنس کے استعمال پر مسابقت کا رجحان دیکھا جارہا ہے۔ ہندوستان نے گزشتہ دنوں آرٹیفشل انٹلیجنس کے موضوع پر بین الاقوامی کانفرنس کا انعقاد عمل میں لایا جس میں دنیا بھر کے نامور اداروں نے شرکت کرتے ہوئے اپنی اپنی صلاحیتوں کا مظاہرہ کیا۔ سرکاری اور غیر سرکاری سطح پر آرٹیفشل انٹلیجنس کے استعمال میں اضافہ کے باوجود ہندوستان دنیا میں تیسرے نمبر پر ہے۔ امریکہ اور چین کو پہلا اور دوسرا مقام حاصل ہوا ہے۔ 2024 تک آرٹیفشل انٹلیجنس کے استعمال کے سلسلہ میں سروے کا اہتمام کیا گیا جس میں ہندوستان میں AI کے استعمال میں دوگنا اضافہ درج کیا گیا ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ امریکہ آرٹیفشل انٹلیجنس کے معاملہ نہ صرف سرفہرست ہے بلکہ 2018 سے اضافہ کا رجحان دیکھا جارہا ہے جبکہ دوسرے نمبر پر موجود چین میں 2018 کے مقابلہ 2024 میں آرٹیفشل انٹلیجنس کے استعمال میں کمی واقع ہوئی ہے۔ ساؤتھ کوریا اور جاپان چوتھے اور پانچویں نمبر پر ہیں۔ امریکہ میں 2018 میں 74.6 فیصد اضافہ درج کیا گیا جبکہ 2024 میں 78.6 فیصد AI کا استعمال درج کیا گیا ہے ۔ چین میں 2018 میں 54.2 فیصد استعمال ہوا جو 2024 میں گھٹ کر 37 فیصد ہوچکا ہے ۔ ہندوستان میں 2018 میں 12.9 فیصد کے مقابلہ 2024 میں 21.6 فیصد درج کیا گیا۔ ساؤتھ کوریا میں 17.2 اور جاپان میں 16 فیصد AI کا استعمال ہوا ہے۔ امریکہ میں آرٹیفشل انٹلیجنس کے 1500 اسٹارٹ اپس قائم ہوئے ہیں۔ امریکی یونیورسٹی کی جانب سے کئے گئے سروے میں اس بات کا انکشاف ہوا ہے کہ ریسرچ اینڈ ڈیولپمنٹ کے علاوہ نظم و نسق اور انفراسٹرکچر جیسے شعبہ جات میں بھی AI کے استعمال میں اضافہ درج کیا گیا ۔ دنیا کے 67 ممالک میں مختلف شعبہ جات میں آرٹیفشل انٹلیجنس کے استعمال میں اضافہ درج کیا گیا۔ AI کے استعمال میں ہندوستان دنیا میں ساتویں مقام سے ترقی کرتے ہوئے تیسرے مقام تک پہنچ چکا ہے ۔ برطانیہ میں بھی گزشتہ تین برسوں کے دوران AI کے استعمال میں اضافہ درج کیا گیا ۔ امریکی حکومت عوامی خدمات کو بہتر بنانے کے علاوہ ملک کی ترقی کیلئے آرٹیفشل انٹلیجنس کو لازم تصور کر رہی ہے۔1