آرٹیکل 370 کی تنسیخ کے طریقہ پر مسلم تنظیموں کا اعتراض

,

   

نئی دہلی ۔ /28 اگست (سیاست ڈاٹ کام) کئی ممتاز مسلم تنظیموں نے چہارشنبہ کو اس طریقہ کار پر سوال اٹھائے جس طرح جموں و کشمیر کے خصوصی موقف کو منسوخ کیا گیا ۔ انہوں نے کہا کہ دستور کے بنیادی اصولوں کو بالائے طاق رکھنے پر نہ امن قائم کیا جاسکتا ہے اور نہ وفاداری خریدی جاسکتی ہے ۔ جمعیت العلماء ہند کے زیراہتمام اجلاس میں زور دیا گیا کہ کشمیر میں بنیادی حقوق بحال کئے جائیں اور حکومت کو وہاں امن کو یقینی بنانا چاہیے ۔ اس اجلاس میں جماعت اسلامی ہند ، جمعیت اہلحدیث ہند ، آل انڈیا زکوٰۃ فاؤنڈیشن ، جمعیت اہل سنت کرناٹک ، آل انڈیا مسلم مجلس مشاورت اور آل انڈیا مسلم پرسنل لاء بورڈ کے نمائندے شریک ہوئے ۔ مشترکہ بیان میں کہا گیا کہ انہیں سپریم کورٹ پر بھروسہ ہے ۔

آرٹیکل 370معاملہ پر سماعت کریگی پانچ ججوں کی بنچ
نئی دہلی۔ 28 اگسٹ (سیاست ڈاٹ کام) جموں و کشمیر کو خصوصی ریاست کا درجہ دینے والے آئین کے آرٹیکل 370 کو ختم کئے جانے کو چیلنج کرنے والی تمام درخواستوں پر سماعت کے لئے چہارشنبہ کو سپریم کورٹ کے پانچ ججوں کی بنچ قائم کی گئی۔ یہ بنچ مذکورہ معاملہ کی پہلی سماعت اکتوبر کے پہلے ہفتے میں کرے گی۔چیف جسٹس رنجن گوگوئی کی صدارت والی تین رکنی بنچ نے اس سلسلہ میں الگ الگ دائر 14 درخواستوں پر ایک ساتھ سماعت کے بعد یہ حکم دیا۔ اس معاملہ پر اگلی سماعت اکتوبر کے پہلے ہفتے میں ہو گی۔ ان درخواستوں میں ریاست میں مواصلات کی خدمات کے مکمل طور ٹھپ ہونے اور جگہ جگہ لگائی گئی پابندیوں اور لیڈروں اور علیحدگی پسندوں کی گرفتاریوں سے بھی منسلک ہے ۔نریندر مودی حکومت نے 5 اگست کو جموں کشمیر کو خصوصی ریاست کا درجہ ختم کرنے اور آرٹیکل 370 کے التزام کو ہٹانے کا فیصلہ کیا تھا۔ جموں کشمیر کو دو حصوں میں تقسیم کرکے لداخ اور جموں کشمیر کو مرکز کے زیر انتظام علاقہ بنانے کا اعلان کیا گیا ہے ۔ لداخ ایڈمنسٹریٹر کے تابع رہے گا جبکہ جموں کشمیر میں اسمبلی ہو گی۔ حکومت کے اس فیصلہ کوبھی سپریم کورٹ میں چیلنج کیا گیاہے ۔عدالت عظمیٰ نے آرٹیکل 370 کے سلسلہ میں دائر درخواست کی سماعت پانچ رکنی بنچ سے کرانے کے سلسلہ میں مرکزی حکومت کو دو نوٹس بھی جاری کئے ہیں۔ عدالت عظمیٰ نے کشمیر میں میڈیا پر لگائی گئی پابندیوں پر بھی مرکزی حکومت سے جواب مانگا ہے ۔ مرکزی کابینہ کی آج شام اہم میٹنگ ہونے والی ہے جس کے بعد اقتصادی امور کی کابینہ کمیٹی کی میٹنگ ہوگی۔ کابینہ کی میٹنگ کے بعد مودی حکومت کی جانب سے لداخ اور جموں و کشمیر کے لئے خصوصی پیکیج کا اعلان بھی کیا جا سکتا ہے جس سے نئے روزگار کے مواقع اور کاروباری سرمایہ کاری کے اعلان متوقع ہیں۔