آر ایس ایس سارا سماج بدلنے کوشاں، محض ہندو نہیں

   

بھوبنیشور ، 12 اکٹوبر (سیاست ڈاٹ کام) اس بات پر زور دیتے ہوئے آر ایس ایس کو کسی کے بھی تئیں نفرت نہیں ہے، اس کے سربراہ موہن بھاگوت نے آج کہا کہ سنگھ پریوار سارے سماج کو بدلنے کوشاں ہے، محض ہندو برادری نہیں، تاکہ ملک کو تبدیلی کرتے ہوئے بہتری کی طرف لے جائیں۔ اکھل بھارتیہ کاریاکری منڈل جو آر ایس ایس کا اعلیٰ ترین فیصلہ ساز ادارہ ہے، اس کی میٹنگ سے قبل دانشوروں کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے بھاگوت نے کہا کہ سوسائٹی کو یک جٹ بناکر منظم کرنا ضروری ہے اور تمام طبقات کو مل جل کر چلنا چاہئے اور آر ایس ایس اسی سمت میں کام کررہا ہے۔ بھاگوت اڈیشہ کے نو روزہ دورے پر صبح میں یہاں پہنچے۔ انھوں نے کہا کہ یہ ہماری خواہش ہے کہ آر ایس ایس لیبل ہٹا دیا جائے اور آر ایس ایس اور سماج واحد گروپ کے طور پر کام کریں۔ سارا کریڈٹ پورے سماج کو ملنا چاہئے۔ ہندوستان کے تنوع کی ستائش کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ سارا ملک ایک ڈور سے بندھا ہے۔ ہندوستان کے عوام خود کو متنوع کلچر، زبانوں، جغرافیائی مقامات سے قطع نظر ایک گروپ تصور کرتے ہیں۔ ایک گروپ ہونے کے اس منفرد احساس کی وجہ سے مختلف مذاہب سے تعلق رکھنے والے لوگ جیسے مسلمان، پارسی اور دیگر اس ملک میں خود کو محفوظ محسوس کرتے ہیں۔ ’’پارسیوں کو ہندوستان میں اچھا تحفظ حاصل ہے اور مسلمان بھی خوش ہیں۔‘‘
مسلم پرسنل لا بورڈ غیردستوری این جی او : وزیر یوپی
دریں اثناء لکھنو میں اترپردیش کے وزیر محسن رضا نے ایک اور متنازعہ بیان میں آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ کو ’’غیردستوری این جی او‘‘ قرار دیا اور ایودھیا اراضی تنازعہ پر بورڈ کی ایگزیکٹیو میٹنگ پر سوال اٹھایا۔ ریاستی مملکتی وزیر اقلیتی بہبود ، مسلم وقف اور حج نے بورڈ کو حاصل ہونے والے فنڈز کے ذرائع پر شبہات بھی ظاہر کئے۔