ملک کے معروف ماہر قانون فیضان مصطفیٰ نے اپنے یوٹیوب چینل لیگل ایورنیس کی ایک نئی ویڈیو میں آر ایس ایس کے سربراہ کے مسلمانوں کے بارے میں حالیہ بیان کے بارے میں گفتگو کی ہے، ان کا کہنا ہے کہ موہن بھاگوت نے مسلمانوں پر مثبت بات کی ہے۔ اسی کے ساتھ ہی ایک اور جگہ پر کار سینا کے چیف سورج پال مسلمانوں کو ملک سے باہر پھینکنے کی عہد کر رہے ہیں۔ یہ دونوں متضاد بیانات ہیں۔ میرے خیال میں سب سے پہلے موہن بھاگوت کے بیان کی ترجمانی کرنے کی ضرورت ہے۔ کیا یہ کہا جاسکتا ہے کہ آر ایس ایس کی سوچ بدل رہی ہے؟
جب تک ہندوستان جمہوری ملک رہے گا تمام شہریوں کے ساتھ مساوی سلوک کیا جائے گا ، بشمول مسلمان۔ آبادی کا مذہب سے کوئی لینا دینا نہیں ہے اور ایک بار جب عوام میں تعلیم کی شرح بڑھ جائےگی تو اس پر قابو پایا جاسکتا ہے۔
اعداد و شمار کو چیلنج کرتے ہوئے ان کا کہنا ہے کہ جب جب NRC ہوتا ہے تو زیادہ ہندوؤں کو ان کے نام نہیں مل پاتے جیسے مسلمانوں کے خلاف ہیں۔ اسی طرح یکساں سول کوڈ کے بارے میں بھی بہت سی بحثیں چل رہی ہیں لیکن اگر اس پر عمل درآمد ہوتا ہے تو پھر بہت سے ہندو قوانین بھی سامنے آئیں گے۔ بہت سارے ممالک میں یکساں سول کوڈ موجود ہے لیکن اس کے باوجود اسلام پھل پھول رہا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ آبادی کے نام نہاد خطرہ کے خلاف ان برادریوں میں موجود خوف اور اضطراب کو دور کیا جانا چاہئے۔
مزید اس ویڈیو میں دیکھیں۔۔
