آر جی کار ہاسپٹل میں توڑ پھوڑ ، ریاستی مشنری کی ناکامی

   

کولکتہ: کلکتہ ہائی کورٹ نے جمعہ کو کہا کہ یہاں کے آر جی کار میڈیکل کالج اور اسپتال میں ہجوم کی توڑ پھوڑ کا واقعہ مغربی بنگال میں ریاستی مشینری کی مکمل ناکامی ہے۔عدالت نے پولیس اور ہاسپٹلانتظامیہ کو ہدایت کی کہ وہ اس واقعے کے سلسلے میں حلف نامہ داخل کریں۔جب ریاستی حکومت کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ جمعرات کی صبح لوگوں کا ایک ہجوم جمع ہو گیا ہے، تو چیف جسٹس ٹی ایس سیواگننم اور جسٹس ہیرانموئے بھٹاچاریہ کی ایک ڈویڑن بنچ نے کہا کہ یہ یقین کرنا مشکل ہے کہ پولیس انٹیلی جنس کو ہاسپٹل میں جمع ہونے والے 7000 افراد کے بارے میں علم نہیں تھا۔عدالت نے پولیس اور ہاسپٹلکی انتظامیہ کو ہدایت کی کہ وہ 21 اگست کو اصل صورتحال اور تمام متعلقہ مقدمات کی تفصیل کے ساتھ دو الگ الگ حلف نامے دائر کریں، جو اس کیس کی سماعت کی اگلی تاریخ ہے۔بنچ نے کہا کہ پولیس کو ان واقعات کی مکمل تفصیلات بتانی چاہئیں جن کی وجہ سے ہاسپٹلمیں توڑ پھوڑ ریکارڈ کی گئی۔عدالت نے سنٹرل بیورو آف انویسٹی گیشن (سی بی آئی) کو یہ بھی ہدایت کی کہ وہ 9 اگست کو ہاسپٹلمیں ایک خاتون ڈاکٹر کے ساتھ مبینہ عصمت دری اور قتل کے معاملے کی تحقیقات میں پیش رفت پر عبوری رپورٹ درج کرے۔ اس واقعہ کی وجہ سے ریاست کے سرکاری اسپتالوں میں جونیئر ڈاکٹرز ہڑتال پر ہیں۔