آر ٹی آئی میں ترمیم ، قانون کو کمزور کرنے کی کوشش

   

صدر کانگریس سونیا گاندھی کا الزام ، حکومت کے اقدام کی مذمت

نئی دہلی، 31 اکتوبر (سیاست ڈاٹ کام)کانگریس صدر سونیا گاندھی نے وزیراعظم نریندر مودی پر اطلاعات کے حق (آر ٹی آئی)قانون کو کمزور کرنے کا الزام لگاتے ہوئے جمعرات کو کہا ہے کہ پارٹی جمہوری اداروں پر ایسی سازشی حملے کی مذمت کرتی ہے اور حکومت کے ایسے فیصلوں اور بے لگام اور تاناشاہی سرگرمیوںکی مسلسل مخالفت کرتی رہے گی۔سونیا گاندھی نے ایک بیان میں کہا ہے کہ اطلاعات کے حق قانون میں ترمیموں کی کانگریس نے پارلیمنٹ میں زبردست مخالفت کی تھی۔ انہوں نے کہا کہ ‘‘ہم اپنے جمہوری اداروں پر اس سازشی حملے کی زبردست مذمت کرتے ہیں اور ملک کی ٖفلاح وبہبود کے برعکس لئے جارہے بھارتیہ جنتا پارٹی حکومت کے فیصلوں اور بے لگام اورتاناشاہی سرگرمیوں کی مسلسل مخالفت کرتی رہے گی۔’’انہوں نے کہا کہ مرکز کی مودی حکومت آر ٹی آئی ادارے کو اپنے بے لگام ایجنڈے کے نفاذ کرنے میں ایک بڑی رکاوٹ کے طور پر دیکھتی آئی ہے ۔ یہ قانون جوابدہی طلب کرتی ہے اور بی جے پی حکومت کسی بھی طرح کے جواب دینے سے اعلانیہ گریز کرتی آئی ہے ۔ مرکزی چیف اطلاعات کمشنر کا عہدہ بھی دس مہینوں تک خالی رہا۔ انہوں نے کہا کہ مودی حکومت کا ہدف صرف آر ٹی آئی قانون کو بے اثر کرنا تھا۔سونیاگاندھی نے کہا ہے کہ بی جے پی حکومت نے آرٹی آئی قانون پر اپنا فیصلہ کن حملہ کردیا ہے ۔ اس قانون کے اثراندازی کو مزید کمزور کرنے کے لئے مودی حکومت نے ایسی ترمیمات پاس کی ہیں جو اطلاعاتی کمشنرنوں کے اختیار کو منظم طریقے سے کمزور کرکے انہیں حکومت کے مہربانی کے تحت کردیں گے ۔ان کا ہدف اطلاعاتی کمشنروں سے سرکاری افسران کی طرح کام کرانا ہے ۔سے وہ حکومت کی جوابدہی یقینی نہیں کرپائیں۔انہوں نے کہا کہ اطلاعاتی کمشنروں کے عہدے کے میعاد مرکزی حکومت کے فیصلے کے تحت کرتے ہوئے پانچ سال سے کم کرکے تین سال کردیا گیا ہے ۔ سال 2005 کے قانون کے تحت ان کی میعاد پورے پانچ سال کے لئے طے کی گئی تھی تاکہ وہ حکومت اور انتظامیہ کے مداخلت اور دباؤ سے پوری طرح آزاد رہیں۔ لیکن ترمیم شدہ قانون میں ان کی آزاد ی پوری طرح ختم کردی گئی ہے ۔کانگریس صدر نے کہا کہ حکومت کے خلاف اطلاع جاری کرنے والے کسی بھی اطلاعاتی افسر کو اب فوری طور سے ہٹایا جاسکتا ہے یا پھر عہدے سے برخاست کیا جاسکتا ہے ۔