چیف سکریٹری کے مکتوب کا افشاء ، سوشیل میڈیا پر اعتراضات و تنقیدیں
حیدرآباد۔20اکٹوبر(سیاست نیوز) ریاستی چیف سیکریٹری مسٹر سومیش کمار کی جانب سے آر ٹی آئی کے تحت داخل کی جانے والی درخواستوں کے جواب کے سلسلہ میں 13 اکٹوبر کو تمام محکمہ جات اور ادارہ جات کے نگران و سربراہان کے نام جاری کردے اعلامیہ کو سوشل میڈیا پر تنقید کا نشانہ بنایا جانے لگا ہے ۔ مسٹر سومیش کمار نے 13اکٹوبر کو جاری کردہ ایک اعلامیہ میں تمام محکمہ جات کی جانب سے آرٹی آئی کے تحت وصول ہونے والی درخواستوں کے جواب ارسال کرنے کے معاملہ میں اختیار کردہ رویہ پر اعتراض کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ قانون حق آگہی کے تحت داخل کی جانے والی درخواستوں پر عہدیدارو ںکی جانب سے بغیر تحقیق کے تفصیلات حوالہ کی جا رہی ہیں۔انہو ںنے اس اعلامیہ میں تمام سیکریٹریز اور سربراہان محکمہ کو ہدایت دی کہ وہ ان کے تحت موجود شعبوں اور اداروں کے پبلک انفارمیشن آفیسرس کو اس بات کی ہدایات جاری کریں کہ کوئی آرٹی آئی کی درخواست پر اطلاعات کی فراہمی سے قبل سیکریٹری کو اس بات سے واقف کروایا جائے کہ درخواست میں کیا تفصیلات پوچھی گئی ہیں۔ چیف سیکریٹری کے اس مکتوب کے افشاء کے بعد اسے ٹوئیٹر پر سخت تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے چیف سیکریٹری کے اس اقدام کو دستور کے مغائر اور حقائق کے انکشاف میں رکاوٹ پیدا کرنے کی کوشش قرار دیا جانے لگا ہے۔ ریاست تلنگانہ میں قانون حق آگہی کے متعلق شعور اجاگر کرنے کے علاوہ محکمہ جات کو جوابدہ بنانے کے لئے کام کرنے والو ںکی جانب سے ان احکامات پر کسی بھی طرح کے ردعمل کو قبل از وقت قرار دیا جا رہاہے ۔ جناب ایس ۔کیو مسعود نے اس سلسلہ میں دریافت کرنے پر بتایا کہ چیف سیکریٹری کا یہ اعلامیہ ریاست تلنگانہ کے بیشتر محکمہ جات کو چیف انفارمیشن کمیشن کے پاس کٹہرے میں لانے کا سبب بنے گا کیونکہ پی آئی اوز کی جانب سے اب جوابدہی لازمی ہوجائے گی یا پی آئی او کو اس بات کا جواب دینا ہوگا کہ سیکریٹری کے منع کرنے کے سبب اس نے معلومات فراہم نہیں کی ہیں۔ انہو ںنے بتایا کہ چیف سیکریٹری سے اپیل کی کہ وہ ان احکامات کے ساتھ پی آئی اوز کے لئے مزید ایک اعلامیہ جاری کریں جس میں انہیں اس بات کی ہدایت دی جائے کہ وہ آرٹی آئی کے تحت داخل کی جانے والی درخواستوں کو محکمہ مختلف شعبوں یا عہدیداروں کے پاس روانہ کرنے سے گریز کریں۔م